Friday, February 22, 2008

ٹوپی پہناؤ

ٹوپی پہناؤ

میں جب بھی اپنے گھر سے نکلتا ہوں فقیر محمد چوکیدار ہمیشہ نصیحت کرتا ہے
میں جب بھی اپنے گھر سے نکلتا ہوں فقیر محمد چوکیدار ہمیشہ نصیحت کرتا ہے کہ ?بھائی میاں ذرا سنبھل کر رہنا۔ یہاں ہر آدمی دوسرے کو ٹوپی پہنانے کے چکر میں ہے۔ آنکھ جھپکی نہیں اور ٹوپی فِٹ?۔شروع شروع میں مجھے فقیر محمد کی یہ بات زیادہ سمجھ میں نہیں آتی تھی لیکن اب میں ایک ہزار مثالیں دے سکتا ہوں۔مثلاً کل میں ایک مشہور ڈپارٹمنٹل سٹور سے چاکلیٹس خریدنے گیا۔ کاؤنٹر والے نے دو ڈبے پیک کرکے دے دئیے۔گھرآ کر دیکھا تو ایک ڈبے پر آخری تاریخِ استعمال لکھی ہوئی تھی فروری دوہزار پانچ اور یہ وہ ڈپارٹمنٹل سٹور ہے جہاں سے غیرملکی سفارتکار اور انکے اہلِ خانہ بھی خریداری کرتے ہیں۔اگر آپ ایک اسٹال کی جانب یہ دیکھ کر لپکیں کہ یہاں خالص جوس ملتا ہے تو رس والا آپ سے پوچھے بغیر گنے کے رس میں لیموں اور گاجر کے جوس میں کینو کا جوس ملا دے گا۔ اگر آپ حجت کریں تو جواب ملے گا بابوجی پی کر تو دیکھیں مزا نہ آئے تو پھر کہئیے گا۔آپ ایک شہر سے دوسرے شہر جانا چاہتے ہیں۔ بس ٹرمینس پر ہر کنڈیکٹر آپ کو بازو سے پکڑ کر خدا اور رسول کی قسمیں کھا کر یقین دلائے گا کہ دس منٹ میں بس چلنے والی ہے اور وہ آپ کو نان سٹاپ دو سے سوا دوگھنٹے میں منزلِ مقصود تک پہنچا دے گا۔لیکن آپ نے ٹکٹ خریدا نہیں اور کنڈیکٹر کا رویہ بدلا نہیں۔بابوجی ہم تو دس منٹ میں روانہ ہونا چاہ رہے تھے لیکن سواریاں بھی تو پوری کرنی ہیں۔اگر جلدی ہے تو کسی اور بس میں چلے جائیں۔لیکن آپ کو ٹکٹ کے صرف آدھے پیسے واپس ملیں گے یہ کمپنی کا اصول ہے۔نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ آپ جس بس میں اللہ رسول کی قسموں پر اعتبار کرکے بیٹھے تھے اس نے آپ کو سوا دو کے بجائے چار گھنٹے میں منزلِ مقصود تک پہنچایا۔
آپ سوچتے ہیں کہ لعنت بھیجو ان بسوں پر آئندہ طیارے سے سفر کریں گے۔ اچانک آپ کو پتہ چلتا ہے کہ پرواز ایک گھنٹہ تاخیر سے روانہ ہوگی۔ عملہ پوچھنے پر صرف یہ بتائے گا کہ ٹکنیکل وجوہات ہیں۔ یہ کبھی نہیں بتائے گا کہ ایک وی آئی پی کے انتظار میں تین سو مسافروں کو یرغمال بنایا جارہا ہے۔ اگر پرواز منسوخ ہوگئی ہے تو اسکی وجہ بھی ٹکنیکل ہوگی۔ کوئی نہیں بتائے گا کہ منسوخی کی وجہ یہ ہے کہ آدھی سیٹیں خالی تھیں۔آپ فلیٹ بک کرانے جائیں۔ ٹھیکیدار آپ کو یہ تو بتائے گا کہ ماہانہ اور سہہ ماہی اقساط کتنی ہیں اور اس فلیٹ کی چابیاں آپ کو ڈیڑھ برس میں مل جائیں گی لیکن یہ بات آپ کو خود معلوم کرنا پڑے گی کہ یہ زمین متنازعہ ہے اور اس کا معاملہ برسوں سے عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔اسی طرح آپ سیاسی میچ میں جس ٹیم کو حزبِ اختلاف سمجھ رہے ہیں ہو سکتا ہے کہ وہ حزبِ اختلاف ہو ہی نہیں اور جسے آپ حزبِ اقتدار سمجھ کر داد دے رہے ہیں وہ حزبِ اقتدار نہ ہو۔ہو سکتا ہے کہ یہ دونوں ٹیمیں تو محض ڈریسنگ روم میں طے ہونے والے قواعد کی پابندی کرتے ہوئے آپ کو بہلا رہی ہوں۔بقول فقیر محمد چوکیدار ٹوپی پہنائی جارہی ہے۔اور ٹوپی بھی سیاہ اور سفید نہیں بلکہ سلیٹی رنگ کی۔

توبہ شکن

توبہ شکن
آنکھیں سرخ ساٹن کی طرح چمک رہی تھیں اور سانسوں میں دمے کے اکھڑے پن کی سی کیفیت تھی۔ پاس ہی پپو بیٹھا کھانس رہا تھا۔ کالی کھانسی نا مراد کا حملہ جب بھی ہوتا بیچارے کا منہ کھانس کھانس کر بینگن سا ہوجاتا۔منہ سے رال بہنے لگتا اور ہاتھ پاؤں اینٹھ سے جاتے۔ امی سامنے چپ چاپ کھڑکی میں بیٹھی ان کو یاد کر رہی تھیں۔جب وہ ایک ڈی سی کی بیوی تھیں اور ضلع کے تمام افسروں کی بیویاں ان کی خوشامد کرتی تھیں۔ وہ بڑی بڑی تقریبوں میں مہمان خصوصی ہواکرتیں، اور لوگ ان سے درخت لگواتے، ربن کٹواتے....انعامات تقسیم کرواتے۔ پروفیسر صاحب ہر تیسرے منٹ مدھم سی آواز میں پوچھتے....?لیکن.... آخر بات کیا ہے بی بی....ہواکیا ہے....وہ پروفیسر صاحب کو کیا بتاتی کہ دوسروں کے اصول اپنانے سے اپنے اصول بدل نہیں جاتے صرف ان پرغلاف بدل جاتا ہے۔ ستار کاغلاف، مشین کا غلاف، تکیے کا غلاف....درخت کو ہمیشہ جڑوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر اسے کرسمس ٹری کی طرح یونہی داب داب کر مٹی میں کھڑاکردیں گے تو کتنے دن کھڑا رہے گا۔ بالآخر تو گرے ہی گا۔ وہ اپنے پروفیسر میاں کو کیا بتاتی کہ اس گھر سے رسہ تڑوا کر جب وہ بانو بازار پہنچی تھی اور جس وقت وہ ربڑ کی ہوائی چپلوں کا بھاؤ چارآنے کم کروا رہی تھی تو کیا ہوا تھا؟اس کے بوائی پھٹے پاؤں ٹوٹی چپلوں میں تھے۔ ہاتھوں کے ناخنوں میں برتن مانجھ مانجھ کر کیچ جمی ہوئی تھی۔ سانس میں پیاز کے باسی لچھوں کی بوتھی۔ قمیض کے بٹن ٹوٹے ہوئے اور دوپٹے کی لیس ادھڑی ہوئی تھی۔ اس ماندے حال جب وہ بانو بازار کے ناکے پر کھڑ ی تھی تو کیاہوا تھا؟ یوں تو دن چڑھتے ہی روز کچھ نہ کچھ ہوتا ہی رہتا تھا پر آج کا دن بھی خوب رہا۔ ادھر پچھلی بات بھولتی تھی ادھرنیا تھپڑ لگتا تھا۔ ادھر تھپڑ کی ٹیس کم ہوتی تھی ادھر کوئی چٹکی کاٹ لیتا تھا۔ جو کچھ بانو بازار میں ہوا وہ تو فقط فل سٹاپ کے طور پر تھا۔صبح سویرے ہی سنتو جمعدارنی نے برآمدے میں گھستے ہی کام کرنے سے انکار کردیا۔ رانڈ سے اتنا ہی تو کہا تھا کہ نالیاںصاف نہیں ہوتیں۔ ذرا دھیان سے کام کیا کر۔ بس جھاڑ و وہیں پٹخ کر بولی۔?میرا حساب کردیں جی....?کتنی خدمتیں کی تھیں بد بخت کی۔ صبح سویرے تام چینی کے مگ میں ایک رس کے ساتھ چائے۔ رات کے جھوٹے چاول اور باسی سالن روزکا بندھا ہوا تھا۔ چھ مہینے کی نوکری میں تین نائلون جالی کے دوپٹے۔ امی کے پرانے سلیپر اور پروفیسر صاحب کی قمیض لے گئی تھی۔ کسی کو جرات نہ تھی کہ اسے جمعدارنی کہہ کر بلا لیتا۔ سب کا سنتو سنتو کہتے منہ سوکھتا تھا۔ پر وہ تو طوطے کی سگی پھوپھی تھی۔ ایسی سفید چشم واقع ہوئی کہ فوراً حساب کر۔
http://www.geourdu.com