Wednesday, March 4, 2009

وہ میرا گھر ہے، جہاں روشنی نہیں ہوتی

حقیقتا عوام مایوس ہیں، پاکستانی دانشور مایوس ہیں، بیرون ملک پاکستانی مایوس ہیں اور حتیٰ کہ سول سوسائٹی بھی اِس نئے پاکستانی تشخص سے مایوس ہے کہ پاکستانی جمہوری کلچر کو کس کی نظر لگ گئی ہے۔
پاکستان میں تیزی سے بدلتے ہوئے موجودہ سیاسی منظر نامے کا گہرائی اور گیرائی سے مطالعہ کیا جائے تو یہی حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ ہمارے حکمران ماضی کے تلخ تجربات کی روشنی میں نہ صرف تاریخ سے سبق سیکھنے کیلئے تیار نہیں ہیں بلکہ خطے کی اُلجھنوں کو سمجھنے ، پاکستان کو درپیش مسائل کا معروضی جائزہ لینے اور اِس سے منسلک جدید تقاضوں کا ادراک کرنے سے بھی محروم نظر آتے ہیں ۔عہد حاضر میں پاکستان کو کیا خطرات درپیش ہیں اور اِن خطرات کے پیش نظر بانیانِ پاکستان کی وراثت کو کس طرح محفوظ کیا جا سکتا ہے ، وہم و گمان سے بے نیاز ہمارے حکمران کسی بھی نازک صورتحال سے بے پرواہ ہو کر آج پھر سے باہم دست و گریباں ہیں ۔ بانیِ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے قیامِ پاکستان کے بعد جو کچھ کہا تھا وہ آج کی موجودہ سیاسی صورتحال پر بھی منطبق نظر آتا ہے۔اُن کا کہنا تھا ،، دنیا کی تمدنی ترقی کے باوجود بدقسمتی سے آج بھی جنگل کا قانون نافذ ہے یعنی جس کی لاٹھی اُس کی بھینس ، آج بھی طاقتور کمزور کا استحصال کرنے سے نہیں چوکتا، آج بھی خود غرضی، لالچ اور اقتدار کی ہوس افراد اور اقوام پر مسلط ہے ۔پاکستان کی بہتری اِسی میں ہے کہ ہم جلد از جلد وقت کے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہوکر اِس ملک کے لامحدود امکانات کو سمجھیں اور ہر فرد انصاف ، مساوات اور اخوت کے عظیم مقاصد کے حصول کی ضرورت کو محسوس کرے جو قیامِ پاکستان کے بنیادی تقاضے بھی ہیں اور ایک عادلانہ معاشرتی نظام کے مظہر بھی،،۔یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ بانیانِ پاکستان کی جلد وفات اور خفیہ ہاتھوں کی سازشوں کے باعث پاکستان میں جمہوریت کا پودہ ایک تن آور درخت نہیں بن سکا اور حکومتیں تواتر کیساتھ آمریت اور جمہوریت کے درمیان منقسم ہوتی رہیں۔ اسی طرح نوے کی دھائی میںایسے ہی ایک منظر نامہ میں پاکستان میں جمہوری ثقافت پر انتقامی سیاست کا بھوت سوار ہوا جسے خفیہ ہاتھوں نے آمرانہ نظام کے حق میں استعمال کرتے ہوئے جمہوریت کی بساط کو لپیٹ کر رکھ دیا۔ چار جمہوری حکومتیں تواتر سے تبدیل کی گئیں اور بلاآخر وردی کی حکومت وطن عزیز کے در و دیوار کا حصہ بنی۔ آمرانہ دور حکومت میں سترہویں ترمیم نے 1973 کے جمہوری آئین کا حلیہ بگاڑ دیا اور آئین کی رہی سہی جمہوری شکل کو جنگل کا قانون سمجھتے ہوئے جنرل پرویز مشرف کی آمرانہ حکومت نے 3 نومبر 2007 کے منی مارشل لاء کے ذریعے عوامی امنگوں کا خون کر دیا جس کے خلاف سول سوسائیٹی اور عوام الناس نے 2008 کے انتخابات میں جنرل مشرف کی حکومت کے خلاف عَلمِ بغاوت بلند کیا اور مشرف حکومت کو ایوانِ اقتدار سے نکال باہر کیا ۔حیرت ہے کہ موجودہ حکمرانوں نے عوامی اُمنگوں کے مطابق مشرف حکومت کے غیر آئینی اور غیر قانونی اقدامات کو ملکی آئین سے نکال باہر کرنے کے بجائے اقتدار کی ہوس میں اِن آمرانہ اقدامات کو اپنی سیاسی حاکمیت کے دائرے کو بڑھانے کیلئے ہی استعمال کرنا شروع کردیا ۔مندرجہ بالا منظر نامے کے پیشِ نظر گذشتہ آٹھ سالہ آمرانہ دور میں جب مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کی لیڈر شپ کو ڈیل یا ڈھیل کے تحت ملک سے باہر کر دیا گیا تو اِن دونوں ہی جماعتوں کی مقبول لیڈر شپ کو ملک سے باہر رہتے ہوئے اسلامی اور مغربی دنیائے سیاست کے متحرک عوامل کو قریب سے دیکھنے ، پرکھنے اور سمجھنے کا موقع ملا اور ان نئے سیاسی رجحانات کے باعث بہتر فکر و نظر کے تحت دونوں بڑی سیاسی جماعتوں نے ماضی کی غلطیوں اور زیادتیوں کو بھلا کر پاکستان کی نئے نسلوں اور سول سوسائیٹی کو ایک بہتر مستقبل دینے کیلئے ایک دوسرے کے عوامی مینڈیٹ کو برداشت کرنے اور انتقامی ذہنیت سے پاک ایک ایسے جمہوری کلچر کو فروغ دینے کا فیصلہ کیا جو نہ صرف مستقبل کی سیاسی سازشوں کا قلع قمع کر دے بلکہ سیاسی گھٹن کے ماحول میں پاکستانی عوام کیلئے تازہ ہوا کا جھونکا بھی ثابت ہو۔محترمہ بے نظیر بھٹو اور میاں محمد نواز شریف نے لندن میں میثاقِ جمہوریت کے معاہدے پر دستخط کر کیاایک نئی جمہوری فکر کی تاریخ مرتب کرتے ہوئے مثبت سیاسی مفاہمت کی بنیاد رکھی جبکہ جنرل پرویز مشرف کی آمرانہ حکمرانی کے خلاف چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی جرأت انکار اور وکلاء کی تحریک نے اِس نئی جمہوری فکر کو مہمیز دی جس کے باعث دونوں جِلاوطن سیاسی قوتوں کی ملک واپسی کا راستہ ہموار ہوا اور محترمہ بے نظیر بھٹو اور میاں محمد نواز شریف کی وطن واپسی ہوئی ۔لیکن صد افسوس کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی بے وقت شہادت کے بعد جہاں پاکستان اپنے ایک بے مثال لیڈر سے محروم ہوا وہاں آصف علی زرداری کے قومی سیاسی افق پر نمودار ہونے کے فوراً بعد وعدوں اور معاہدوں کی ناپاسداری کے دل شکن اقدامات دیکھنے کو ملے۔اسی طرح پنجاب میں شریف برادران کی حساس سیاسی پوزیشن کے نظرانداز کئے جانے پر انکے شدید سیاسی ردعمل کے سبب یہ فکری ورثہ مزید توڑ پھوڑ کی سیاست کا شکار ہوا ۔ حقیقت یہی ہے کہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی معزولی اور صدر زرداری کی جانب سے اُنکی بحالی سے متعلق وعدوں اور معاہدوں کی پاسداری نہ کرنے کے باعث ملک کی سیاسی صورتحال کشیدگی کا شکار ہوئی اور اب موجودہ سپریم کورٹ کے ایک متنازعہ فیصلے کے باعث شریف برادران کو سیاسی طور پر نااہل قرار دئیے جانے کے باعث ملک کی سیاسی اور معاشرتی صورتحال حد درجہ خرابی کا شکار ہوئی ہے۔ پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف کی اسمبلی کے بجائے عدلیہ کے متنازعہ فیصلے کے ذریعے برطرفی کے بعد فہم و دانش سے خالی صدارتی اقدام کے ذریعے پنجاب میں پارلیمنٹ کو نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کا موقع دئیے بغیر گورنر راج کا فیصلہ بھی گھوڑے کو تانگے کے پیچھے لگانے کے ہی مترادف سمجھا گیا ہے۔ اگر گورنر راج کا فیصلہ پنجاب میں وکلاء اور سیاسی جماعتوں کے لانگ مارچ کو ہر تحصیل لیول پر روکنے کیلئے لگایا گیا ہے تو ایسا ہی محسوس ہوتا ہے کہ اِس اقدام کے ممکنہ نتائج کے بارے میں ہوم ورک یا تو کیا ہی نہیں گیا ہے یا پھر ایسے خام تھنک ٹینکس کی رائے پر عمل کیا گیا ہے جو ایسے کسی بھی اقدام کے ممکنہ ردعمل کی شدت کا اندازہ نہیں لگا سکتے۔ یہ درست ہے کہ گورنر راج کے بعد صوبے کی انتظامی مشینری میں بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ کی گئی ہے اور بیشتر انتظامی منصبوں پر مشرف / پرویز الہٰی دور کے افسروں کو ہی تعنیات کیا گیا ہے لیکن کیا اِس اَمر کوو نظرانداز کیا جا سکتا ہے کہ وکلاء تحریک ، سول سوسائیٹی اور عوام الناس نے اپنی یکجہتی سے اقتدار کے تمام منصبوں پر فائز مشرف کی آمرانہ حکومت کو اقتدار سے نکال باہر کیا تھا ؟ اندریں حالات ، سیاسی شدت پسندی نہیں بلکہ تاریخ کی نبض پر ہاتھ رکھے ہوئے شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی مفاہمت کی حکمت عملی ہی وہ ایک راستہ ہے جسے اپنا کر موجودہ سیاسی بھنور سے باہر نکلا جا سکتا ہے ۔مندرجہ بالا تناظر میں خطے کی حساس صورتحال کے پیش نظر مرکزی سیاسی لیڈرشپ کو جس قدر سیاسی فہم و فراست ، تدبر اور ویژن کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت تھی ، اُس کا عشرِ عشیر بھی مرکزی حکومت کے اقدامات میں نظر نہیں آتا ۔ حقیقت یہی ہے کہ سپریم کورٹ کے متنازعہ فیصلے اور مرکزی حکومت کی جانب سے اِس مسئلے کی غیرمعمولی مس ہنڈلنگ کے باعث پنجاب جو پاکستان کی اکثریتی آبادی کا صوبہ ہے بُری طرح متاثر ہوا ہے ۔صدر زرداری کی جانب سے صوبائی اسمبلی کو نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کا موقع دئیے بغیر ، بِلا کسی جواز کے گورنر راج نافذ کرناملکی اور غیر ملکی سیاسی پنڈتوں کی سمجھ سے بالاتر ہے سوائے اِس کے کہ پنجاب میں گورنر راج کو مرکزی حکومت کی حمایت یافتہ حکومت بنانے کیلئے استعمال کیا جائے جو بڑے پیمانے پر ہارس ٹریڈنگ کے بغیر ممکن نہیں ہے اور جو شہید بینظیر بھٹو کی مفاہمت کی سیاست کے آدرشوں کو نہ صرف بے معنی بنا دیگا بلکہ طاقتور قوتوں کو بھی طالع آزمائی کا موقع فراہم کرے گا۔بہرحال موجودہ بگڑتی ہوئی سیاسی صورتحال سے تعلیم یافتہ پاکستانی سول سوسائیٹی و دانشور ، بیرون ملک مقیم پاکستانی اور عوام الناس حیران پریشان ہیں کہ ہمارے حکمران جمہوری مزاج سے کنارہ کشی کرتے ہوئے پھر سے ظلمات کے اُسی دور کی جانب کیوں واپس لوٹ گئے ہیں جو ماضی میں ہمارے راستے کی روشنیوں کے سنگ میل کو بجھا کر تاریکیوں کو ہمارا مقدر بنا گیا تھا۔ حقیقتا عوام مایوس ہیں، پاکستانی دانشور مایوس ہیں، بیرون ملک پاکستانی مایوس ہیں اور حتیٰ کہ سول سوسائٹی بھی اِس نئے پاکستانی تشخص سے مایوس ہے کہ پاکستانی جمہوری کلچر کو کس کی نظر لگ گئی ہے۔ وہ پوچھتے ہیں کہ جنرل پرویز مشرف کے آمرانہ نظامِ حکومت کو شکست دینے کے باوجود ہمارہ جمہوری نظام ابھی تک سابق صدر جنرل پرویز مشرف کی غیر آئینی بیساکھیوں پر ہی کیوں کھڑا ہے۔ وہ حکومتی موشگافیوں سے مطمئن نہیں ہیں اور موجودہ آمرانہ صدارتی نظام کے حوالے سے آئینی اختیارات کی روشنیوں سے محروم پارلیمنٹ ، اور پنجاب کی صوبائی اسمبلی جہاں اسپیکر سے پوچھے بغیر تالہ بندی کر دی گئی اور پھر وزیراعظم کے چیف ایگزیکٹیو ہونے کی جگ ہنسائی پر بقول شاعریہی کہا جا رہا ہے ........ تلاش کرنے میں دقت کبھی نہیں ہوتیوہ میرا گھر ہے ، جہاں روشنی نہیں ہوتیتحریر : رانا عبدالباقی (اسلام آباد)