Wednesday, February 29, 2012
Wednesday, March 4, 2009
وہ میرا گھر ہے، جہاں روشنی نہیں ہوتی
حقیقتا عوام مایوس ہیں، پاکستانی دانشور مایوس ہیں، بیرون ملک پاکستانی مایوس ہیں اور حتیٰ کہ سول سوسائٹی بھی اِس نئے پاکستانی تشخص سے مایوس ہے کہ پاکستانی جمہوری کلچر کو کس کی نظر لگ گئی ہے۔
پاکستان میں تیزی سے بدلتے ہوئے موجودہ سیاسی منظر نامے کا گہرائی اور گیرائی سے مطالعہ کیا جائے تو یہی حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ ہمارے حکمران ماضی کے تلخ تجربات کی روشنی میں نہ صرف تاریخ سے سبق سیکھنے کیلئے تیار نہیں ہیں بلکہ خطے کی اُلجھنوں کو سمجھنے ، پاکستان کو درپیش مسائل کا معروضی جائزہ لینے اور اِس سے منسلک جدید تقاضوں کا ادراک کرنے سے بھی محروم نظر آتے ہیں ۔عہد حاضر میں پاکستان کو کیا خطرات درپیش ہیں اور اِن خطرات کے پیش نظر بانیانِ پاکستان کی وراثت کو کس طرح محفوظ کیا جا سکتا ہے ، وہم و گمان سے بے نیاز ہمارے حکمران کسی بھی نازک صورتحال سے بے پرواہ ہو کر آج پھر سے باہم دست و گریباں ہیں ۔ بانیِ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے قیامِ پاکستان کے بعد جو کچھ کہا تھا وہ آج کی موجودہ سیاسی صورتحال پر بھی منطبق نظر آتا ہے۔اُن کا کہنا تھا ،، دنیا کی تمدنی ترقی کے باوجود بدقسمتی سے آج بھی جنگل کا قانون نافذ ہے یعنی جس کی لاٹھی اُس کی بھینس ، آج بھی طاقتور کمزور کا استحصال کرنے سے نہیں چوکتا، آج بھی خود غرضی، لالچ اور اقتدار کی ہوس افراد اور اقوام پر مسلط ہے ۔پاکستان کی بہتری اِسی میں ہے کہ ہم جلد از جلد وقت کے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہوکر اِس ملک کے لامحدود امکانات کو سمجھیں اور ہر فرد انصاف ، مساوات اور اخوت کے عظیم مقاصد کے حصول کی ضرورت کو محسوس کرے جو قیامِ پاکستان کے بنیادی تقاضے بھی ہیں اور ایک عادلانہ معاشرتی نظام کے مظہر بھی،،۔یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ بانیانِ پاکستان کی جلد وفات اور خفیہ ہاتھوں کی سازشوں کے باعث پاکستان میں جمہوریت کا پودہ ایک تن آور درخت نہیں بن سکا اور حکومتیں تواتر کیساتھ آمریت اور جمہوریت کے درمیان منقسم ہوتی رہیں۔ اسی طرح نوے کی دھائی میںایسے ہی ایک منظر نامہ میں پاکستان میں جمہوری ثقافت پر انتقامی سیاست کا بھوت سوار ہوا جسے خفیہ ہاتھوں نے آمرانہ نظام کے حق میں استعمال کرتے ہوئے جمہوریت کی بساط کو لپیٹ کر رکھ دیا۔ چار جمہوری حکومتیں تواتر سے تبدیل کی گئیں اور بلاآخر وردی کی حکومت وطن عزیز کے در و دیوار کا حصہ بنی۔ آمرانہ دور حکومت میں سترہویں ترمیم نے 1973 کے جمہوری آئین کا حلیہ بگاڑ دیا اور آئین کی رہی سہی جمہوری شکل کو جنگل کا قانون سمجھتے ہوئے جنرل پرویز مشرف کی آمرانہ حکومت نے 3 نومبر 2007 کے منی مارشل لاء کے ذریعے عوامی امنگوں کا خون کر دیا جس کے خلاف سول سوسائیٹی اور عوام الناس نے 2008 کے انتخابات میں جنرل مشرف کی حکومت کے خلاف عَلمِ بغاوت بلند کیا اور مشرف حکومت کو ایوانِ اقتدار سے نکال باہر کیا ۔حیرت ہے کہ موجودہ حکمرانوں نے عوامی اُمنگوں کے مطابق مشرف حکومت کے غیر آئینی اور غیر قانونی اقدامات کو ملکی آئین سے نکال باہر کرنے کے بجائے اقتدار کی ہوس میں اِن آمرانہ اقدامات کو اپنی سیاسی حاکمیت کے دائرے کو بڑھانے کیلئے ہی استعمال کرنا شروع کردیا ۔مندرجہ بالا منظر نامے کے پیشِ نظر گذشتہ آٹھ سالہ آمرانہ دور میں جب مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کی لیڈر شپ کو ڈیل یا ڈھیل کے تحت ملک سے باہر کر دیا گیا تو اِن دونوں ہی جماعتوں کی مقبول لیڈر شپ کو ملک سے باہر رہتے ہوئے اسلامی اور مغربی دنیائے سیاست کے متحرک عوامل کو قریب سے دیکھنے ، پرکھنے اور سمجھنے کا موقع ملا اور ان نئے سیاسی رجحانات کے باعث بہتر فکر و نظر کے تحت دونوں بڑی سیاسی جماعتوں نے ماضی کی غلطیوں اور زیادتیوں کو بھلا کر پاکستان کی نئے نسلوں اور سول سوسائیٹی کو ایک بہتر مستقبل دینے کیلئے ایک دوسرے کے عوامی مینڈیٹ کو برداشت کرنے اور انتقامی ذہنیت سے پاک ایک ایسے جمہوری کلچر کو فروغ دینے کا فیصلہ کیا جو نہ صرف مستقبل کی سیاسی سازشوں کا قلع قمع کر دے بلکہ سیاسی گھٹن کے ماحول میں پاکستانی عوام کیلئے تازہ ہوا کا جھونکا بھی ثابت ہو۔محترمہ بے نظیر بھٹو اور میاں محمد نواز شریف نے لندن میں میثاقِ جمہوریت کے معاہدے پر دستخط کر کیاایک نئی جمہوری فکر کی تاریخ مرتب کرتے ہوئے مثبت سیاسی مفاہمت کی بنیاد رکھی جبکہ جنرل پرویز مشرف کی آمرانہ حکمرانی کے خلاف چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی جرأت انکار اور وکلاء کی تحریک نے اِس نئی جمہوری فکر کو مہمیز دی جس کے باعث دونوں جِلاوطن سیاسی قوتوں کی ملک واپسی کا راستہ ہموار ہوا اور محترمہ بے نظیر بھٹو اور میاں محمد نواز شریف کی وطن واپسی ہوئی ۔لیکن صد افسوس کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی بے وقت شہادت کے بعد جہاں پاکستان اپنے ایک بے مثال لیڈر سے محروم ہوا وہاں آصف علی زرداری کے قومی سیاسی افق پر نمودار ہونے کے فوراً بعد وعدوں اور معاہدوں کی ناپاسداری کے دل شکن اقدامات دیکھنے کو ملے۔اسی طرح پنجاب میں شریف برادران کی حساس سیاسی پوزیشن کے نظرانداز کئے جانے پر انکے شدید سیاسی ردعمل کے سبب یہ فکری ورثہ مزید توڑ پھوڑ کی سیاست کا شکار ہوا ۔ حقیقت یہی ہے کہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی معزولی اور صدر زرداری کی جانب سے اُنکی بحالی سے متعلق وعدوں اور معاہدوں کی پاسداری نہ کرنے کے باعث ملک کی سیاسی صورتحال کشیدگی کا شکار ہوئی اور اب موجودہ سپریم کورٹ کے ایک متنازعہ فیصلے کے باعث شریف برادران کو سیاسی طور پر نااہل قرار دئیے جانے کے باعث ملک کی سیاسی اور معاشرتی صورتحال حد درجہ خرابی کا شکار ہوئی ہے۔ پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف کی اسمبلی کے بجائے عدلیہ کے متنازعہ فیصلے کے ذریعے برطرفی کے بعد فہم و دانش سے خالی صدارتی اقدام کے ذریعے پنجاب میں پارلیمنٹ کو نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کا موقع دئیے بغیر گورنر راج کا فیصلہ بھی گھوڑے کو تانگے کے پیچھے لگانے کے ہی مترادف سمجھا گیا ہے۔ اگر گورنر راج کا فیصلہ پنجاب میں وکلاء اور سیاسی جماعتوں کے لانگ مارچ کو ہر تحصیل لیول پر روکنے کیلئے لگایا گیا ہے تو ایسا ہی محسوس ہوتا ہے کہ اِس اقدام کے ممکنہ نتائج کے بارے میں ہوم ورک یا تو کیا ہی نہیں گیا ہے یا پھر ایسے خام تھنک ٹینکس کی رائے پر عمل کیا گیا ہے جو ایسے کسی بھی اقدام کے ممکنہ ردعمل کی شدت کا اندازہ نہیں لگا سکتے۔ یہ درست ہے کہ گورنر راج کے بعد صوبے کی انتظامی مشینری میں بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ کی گئی ہے اور بیشتر انتظامی منصبوں پر مشرف / پرویز الہٰی دور کے افسروں کو ہی تعنیات کیا گیا ہے لیکن کیا اِس اَمر کوو نظرانداز کیا جا سکتا ہے کہ وکلاء تحریک ، سول سوسائیٹی اور عوام الناس نے اپنی یکجہتی سے اقتدار کے تمام منصبوں پر فائز مشرف کی آمرانہ حکومت کو اقتدار سے نکال باہر کیا تھا ؟ اندریں حالات ، سیاسی شدت پسندی نہیں بلکہ تاریخ کی نبض پر ہاتھ رکھے ہوئے شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی مفاہمت کی حکمت عملی ہی وہ ایک راستہ ہے جسے اپنا کر موجودہ سیاسی بھنور سے باہر نکلا جا سکتا ہے ۔مندرجہ بالا تناظر میں خطے کی حساس صورتحال کے پیش نظر مرکزی سیاسی لیڈرشپ کو جس قدر سیاسی فہم و فراست ، تدبر اور ویژن کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت تھی ، اُس کا عشرِ عشیر بھی مرکزی حکومت کے اقدامات میں نظر نہیں آتا ۔ حقیقت یہی ہے کہ سپریم کورٹ کے متنازعہ فیصلے اور مرکزی حکومت کی جانب سے اِس مسئلے کی غیرمعمولی مس ہنڈلنگ کے باعث پنجاب جو پاکستان کی اکثریتی آبادی کا صوبہ ہے بُری طرح متاثر ہوا ہے ۔صدر زرداری کی جانب سے صوبائی اسمبلی کو نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کا موقع دئیے بغیر ، بِلا کسی جواز کے گورنر راج نافذ کرناملکی اور غیر ملکی سیاسی پنڈتوں کی سمجھ سے بالاتر ہے سوائے اِس کے کہ پنجاب میں گورنر راج کو مرکزی حکومت کی حمایت یافتہ حکومت بنانے کیلئے استعمال کیا جائے جو بڑے پیمانے پر ہارس ٹریڈنگ کے بغیر ممکن نہیں ہے اور جو شہید بینظیر بھٹو کی مفاہمت کی سیاست کے آدرشوں کو نہ صرف بے معنی بنا دیگا بلکہ طاقتور قوتوں کو بھی طالع آزمائی کا موقع فراہم کرے گا۔بہرحال موجودہ بگڑتی ہوئی سیاسی صورتحال سے تعلیم یافتہ پاکستانی سول سوسائیٹی و دانشور ، بیرون ملک مقیم پاکستانی اور عوام الناس حیران پریشان ہیں کہ ہمارے حکمران جمہوری مزاج سے کنارہ کشی کرتے ہوئے پھر سے ظلمات کے اُسی دور کی جانب کیوں واپس لوٹ گئے ہیں جو ماضی میں ہمارے راستے کی روشنیوں کے سنگ میل کو بجھا کر تاریکیوں کو ہمارا مقدر بنا گیا تھا۔ حقیقتا عوام مایوس ہیں، پاکستانی دانشور مایوس ہیں، بیرون ملک پاکستانی مایوس ہیں اور حتیٰ کہ سول سوسائٹی بھی اِس نئے پاکستانی تشخص سے مایوس ہے کہ پاکستانی جمہوری کلچر کو کس کی نظر لگ گئی ہے۔ وہ پوچھتے ہیں کہ جنرل پرویز مشرف کے آمرانہ نظامِ حکومت کو شکست دینے کے باوجود ہمارہ جمہوری نظام ابھی تک سابق صدر جنرل پرویز مشرف کی غیر آئینی بیساکھیوں پر ہی کیوں کھڑا ہے۔ وہ حکومتی موشگافیوں سے مطمئن نہیں ہیں اور موجودہ آمرانہ صدارتی نظام کے حوالے سے آئینی اختیارات کی روشنیوں سے محروم پارلیمنٹ ، اور پنجاب کی صوبائی اسمبلی جہاں اسپیکر سے پوچھے بغیر تالہ بندی کر دی گئی اور پھر وزیراعظم کے چیف ایگزیکٹیو ہونے کی جگ ہنسائی پر بقول شاعریہی کہا جا رہا ہے ........ تلاش کرنے میں دقت کبھی نہیں ہوتیوہ میرا گھر ہے ، جہاں روشنی نہیں ہوتیتحریر : رانا عبدالباقی (اسلام آباد)
پاکستان میں تیزی سے بدلتے ہوئے موجودہ سیاسی منظر نامے کا گہرائی اور گیرائی سے مطالعہ کیا جائے تو یہی حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ ہمارے حکمران ماضی کے تلخ تجربات کی روشنی میں نہ صرف تاریخ سے سبق سیکھنے کیلئے تیار نہیں ہیں بلکہ خطے کی اُلجھنوں کو سمجھنے ، پاکستان کو درپیش مسائل کا معروضی جائزہ لینے اور اِس سے منسلک جدید تقاضوں کا ادراک کرنے سے بھی محروم نظر آتے ہیں ۔عہد حاضر میں پاکستان کو کیا خطرات درپیش ہیں اور اِن خطرات کے پیش نظر بانیانِ پاکستان کی وراثت کو کس طرح محفوظ کیا جا سکتا ہے ، وہم و گمان سے بے نیاز ہمارے حکمران کسی بھی نازک صورتحال سے بے پرواہ ہو کر آج پھر سے باہم دست و گریباں ہیں ۔ بانیِ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے قیامِ پاکستان کے بعد جو کچھ کہا تھا وہ آج کی موجودہ سیاسی صورتحال پر بھی منطبق نظر آتا ہے۔اُن کا کہنا تھا ،، دنیا کی تمدنی ترقی کے باوجود بدقسمتی سے آج بھی جنگل کا قانون نافذ ہے یعنی جس کی لاٹھی اُس کی بھینس ، آج بھی طاقتور کمزور کا استحصال کرنے سے نہیں چوکتا، آج بھی خود غرضی، لالچ اور اقتدار کی ہوس افراد اور اقوام پر مسلط ہے ۔پاکستان کی بہتری اِسی میں ہے کہ ہم جلد از جلد وقت کے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہوکر اِس ملک کے لامحدود امکانات کو سمجھیں اور ہر فرد انصاف ، مساوات اور اخوت کے عظیم مقاصد کے حصول کی ضرورت کو محسوس کرے جو قیامِ پاکستان کے بنیادی تقاضے بھی ہیں اور ایک عادلانہ معاشرتی نظام کے مظہر بھی،،۔یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ بانیانِ پاکستان کی جلد وفات اور خفیہ ہاتھوں کی سازشوں کے باعث پاکستان میں جمہوریت کا پودہ ایک تن آور درخت نہیں بن سکا اور حکومتیں تواتر کیساتھ آمریت اور جمہوریت کے درمیان منقسم ہوتی رہیں۔ اسی طرح نوے کی دھائی میںایسے ہی ایک منظر نامہ میں پاکستان میں جمہوری ثقافت پر انتقامی سیاست کا بھوت سوار ہوا جسے خفیہ ہاتھوں نے آمرانہ نظام کے حق میں استعمال کرتے ہوئے جمہوریت کی بساط کو لپیٹ کر رکھ دیا۔ چار جمہوری حکومتیں تواتر سے تبدیل کی گئیں اور بلاآخر وردی کی حکومت وطن عزیز کے در و دیوار کا حصہ بنی۔ آمرانہ دور حکومت میں سترہویں ترمیم نے 1973 کے جمہوری آئین کا حلیہ بگاڑ دیا اور آئین کی رہی سہی جمہوری شکل کو جنگل کا قانون سمجھتے ہوئے جنرل پرویز مشرف کی آمرانہ حکومت نے 3 نومبر 2007 کے منی مارشل لاء کے ذریعے عوامی امنگوں کا خون کر دیا جس کے خلاف سول سوسائیٹی اور عوام الناس نے 2008 کے انتخابات میں جنرل مشرف کی حکومت کے خلاف عَلمِ بغاوت بلند کیا اور مشرف حکومت کو ایوانِ اقتدار سے نکال باہر کیا ۔حیرت ہے کہ موجودہ حکمرانوں نے عوامی اُمنگوں کے مطابق مشرف حکومت کے غیر آئینی اور غیر قانونی اقدامات کو ملکی آئین سے نکال باہر کرنے کے بجائے اقتدار کی ہوس میں اِن آمرانہ اقدامات کو اپنی سیاسی حاکمیت کے دائرے کو بڑھانے کیلئے ہی استعمال کرنا شروع کردیا ۔مندرجہ بالا منظر نامے کے پیشِ نظر گذشتہ آٹھ سالہ آمرانہ دور میں جب مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کی لیڈر شپ کو ڈیل یا ڈھیل کے تحت ملک سے باہر کر دیا گیا تو اِن دونوں ہی جماعتوں کی مقبول لیڈر شپ کو ملک سے باہر رہتے ہوئے اسلامی اور مغربی دنیائے سیاست کے متحرک عوامل کو قریب سے دیکھنے ، پرکھنے اور سمجھنے کا موقع ملا اور ان نئے سیاسی رجحانات کے باعث بہتر فکر و نظر کے تحت دونوں بڑی سیاسی جماعتوں نے ماضی کی غلطیوں اور زیادتیوں کو بھلا کر پاکستان کی نئے نسلوں اور سول سوسائیٹی کو ایک بہتر مستقبل دینے کیلئے ایک دوسرے کے عوامی مینڈیٹ کو برداشت کرنے اور انتقامی ذہنیت سے پاک ایک ایسے جمہوری کلچر کو فروغ دینے کا فیصلہ کیا جو نہ صرف مستقبل کی سیاسی سازشوں کا قلع قمع کر دے بلکہ سیاسی گھٹن کے ماحول میں پاکستانی عوام کیلئے تازہ ہوا کا جھونکا بھی ثابت ہو۔محترمہ بے نظیر بھٹو اور میاں محمد نواز شریف نے لندن میں میثاقِ جمہوریت کے معاہدے پر دستخط کر کیاایک نئی جمہوری فکر کی تاریخ مرتب کرتے ہوئے مثبت سیاسی مفاہمت کی بنیاد رکھی جبکہ جنرل پرویز مشرف کی آمرانہ حکمرانی کے خلاف چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی جرأت انکار اور وکلاء کی تحریک نے اِس نئی جمہوری فکر کو مہمیز دی جس کے باعث دونوں جِلاوطن سیاسی قوتوں کی ملک واپسی کا راستہ ہموار ہوا اور محترمہ بے نظیر بھٹو اور میاں محمد نواز شریف کی وطن واپسی ہوئی ۔لیکن صد افسوس کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی بے وقت شہادت کے بعد جہاں پاکستان اپنے ایک بے مثال لیڈر سے محروم ہوا وہاں آصف علی زرداری کے قومی سیاسی افق پر نمودار ہونے کے فوراً بعد وعدوں اور معاہدوں کی ناپاسداری کے دل شکن اقدامات دیکھنے کو ملے۔اسی طرح پنجاب میں شریف برادران کی حساس سیاسی پوزیشن کے نظرانداز کئے جانے پر انکے شدید سیاسی ردعمل کے سبب یہ فکری ورثہ مزید توڑ پھوڑ کی سیاست کا شکار ہوا ۔ حقیقت یہی ہے کہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی معزولی اور صدر زرداری کی جانب سے اُنکی بحالی سے متعلق وعدوں اور معاہدوں کی پاسداری نہ کرنے کے باعث ملک کی سیاسی صورتحال کشیدگی کا شکار ہوئی اور اب موجودہ سپریم کورٹ کے ایک متنازعہ فیصلے کے باعث شریف برادران کو سیاسی طور پر نااہل قرار دئیے جانے کے باعث ملک کی سیاسی اور معاشرتی صورتحال حد درجہ خرابی کا شکار ہوئی ہے۔ پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف کی اسمبلی کے بجائے عدلیہ کے متنازعہ فیصلے کے ذریعے برطرفی کے بعد فہم و دانش سے خالی صدارتی اقدام کے ذریعے پنجاب میں پارلیمنٹ کو نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کا موقع دئیے بغیر گورنر راج کا فیصلہ بھی گھوڑے کو تانگے کے پیچھے لگانے کے ہی مترادف سمجھا گیا ہے۔ اگر گورنر راج کا فیصلہ پنجاب میں وکلاء اور سیاسی جماعتوں کے لانگ مارچ کو ہر تحصیل لیول پر روکنے کیلئے لگایا گیا ہے تو ایسا ہی محسوس ہوتا ہے کہ اِس اقدام کے ممکنہ نتائج کے بارے میں ہوم ورک یا تو کیا ہی نہیں گیا ہے یا پھر ایسے خام تھنک ٹینکس کی رائے پر عمل کیا گیا ہے جو ایسے کسی بھی اقدام کے ممکنہ ردعمل کی شدت کا اندازہ نہیں لگا سکتے۔ یہ درست ہے کہ گورنر راج کے بعد صوبے کی انتظامی مشینری میں بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ کی گئی ہے اور بیشتر انتظامی منصبوں پر مشرف / پرویز الہٰی دور کے افسروں کو ہی تعنیات کیا گیا ہے لیکن کیا اِس اَمر کوو نظرانداز کیا جا سکتا ہے کہ وکلاء تحریک ، سول سوسائیٹی اور عوام الناس نے اپنی یکجہتی سے اقتدار کے تمام منصبوں پر فائز مشرف کی آمرانہ حکومت کو اقتدار سے نکال باہر کیا تھا ؟ اندریں حالات ، سیاسی شدت پسندی نہیں بلکہ تاریخ کی نبض پر ہاتھ رکھے ہوئے شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی مفاہمت کی حکمت عملی ہی وہ ایک راستہ ہے جسے اپنا کر موجودہ سیاسی بھنور سے باہر نکلا جا سکتا ہے ۔مندرجہ بالا تناظر میں خطے کی حساس صورتحال کے پیش نظر مرکزی سیاسی لیڈرشپ کو جس قدر سیاسی فہم و فراست ، تدبر اور ویژن کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت تھی ، اُس کا عشرِ عشیر بھی مرکزی حکومت کے اقدامات میں نظر نہیں آتا ۔ حقیقت یہی ہے کہ سپریم کورٹ کے متنازعہ فیصلے اور مرکزی حکومت کی جانب سے اِس مسئلے کی غیرمعمولی مس ہنڈلنگ کے باعث پنجاب جو پاکستان کی اکثریتی آبادی کا صوبہ ہے بُری طرح متاثر ہوا ہے ۔صدر زرداری کی جانب سے صوبائی اسمبلی کو نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کا موقع دئیے بغیر ، بِلا کسی جواز کے گورنر راج نافذ کرناملکی اور غیر ملکی سیاسی پنڈتوں کی سمجھ سے بالاتر ہے سوائے اِس کے کہ پنجاب میں گورنر راج کو مرکزی حکومت کی حمایت یافتہ حکومت بنانے کیلئے استعمال کیا جائے جو بڑے پیمانے پر ہارس ٹریڈنگ کے بغیر ممکن نہیں ہے اور جو شہید بینظیر بھٹو کی مفاہمت کی سیاست کے آدرشوں کو نہ صرف بے معنی بنا دیگا بلکہ طاقتور قوتوں کو بھی طالع آزمائی کا موقع فراہم کرے گا۔بہرحال موجودہ بگڑتی ہوئی سیاسی صورتحال سے تعلیم یافتہ پاکستانی سول سوسائیٹی و دانشور ، بیرون ملک مقیم پاکستانی اور عوام الناس حیران پریشان ہیں کہ ہمارے حکمران جمہوری مزاج سے کنارہ کشی کرتے ہوئے پھر سے ظلمات کے اُسی دور کی جانب کیوں واپس لوٹ گئے ہیں جو ماضی میں ہمارے راستے کی روشنیوں کے سنگ میل کو بجھا کر تاریکیوں کو ہمارا مقدر بنا گیا تھا۔ حقیقتا عوام مایوس ہیں، پاکستانی دانشور مایوس ہیں، بیرون ملک پاکستانی مایوس ہیں اور حتیٰ کہ سول سوسائٹی بھی اِس نئے پاکستانی تشخص سے مایوس ہے کہ پاکستانی جمہوری کلچر کو کس کی نظر لگ گئی ہے۔ وہ پوچھتے ہیں کہ جنرل پرویز مشرف کے آمرانہ نظامِ حکومت کو شکست دینے کے باوجود ہمارہ جمہوری نظام ابھی تک سابق صدر جنرل پرویز مشرف کی غیر آئینی بیساکھیوں پر ہی کیوں کھڑا ہے۔ وہ حکومتی موشگافیوں سے مطمئن نہیں ہیں اور موجودہ آمرانہ صدارتی نظام کے حوالے سے آئینی اختیارات کی روشنیوں سے محروم پارلیمنٹ ، اور پنجاب کی صوبائی اسمبلی جہاں اسپیکر سے پوچھے بغیر تالہ بندی کر دی گئی اور پھر وزیراعظم کے چیف ایگزیکٹیو ہونے کی جگ ہنسائی پر بقول شاعریہی کہا جا رہا ہے ........ تلاش کرنے میں دقت کبھی نہیں ہوتیوہ میرا گھر ہے ، جہاں روشنی نہیں ہوتیتحریر : رانا عبدالباقی (اسلام آباد)
Friday, November 14, 2008
Thursday, October 16, 2008
جینے کی راہ
جینے کی راہ
ٹیلی فون ایکسچینج کی نئی عمارت بن رہی ہے، عورتوں اور مردوں کا حجم غفیر سروں پر ٹوکریاں اٹھائے ایک دوسرے کے پیچھے چپ چاپ چلتے ہوئے آئے جارہے ہیں، مصالحہ ملانے والی مشین کی آواز کام کی نگرانی کرنے والوں کی آوازوں اور باہر سڑک پر آتی جاتی گاڑیوں کے تیز ہارن مل کر بھی اس خاموشی کو توڑ نہیں سکتے جو مزدوروں کے چہروں پر گہری کھدائی ہوئی ہے ، وہ مسکرانا نہیں جانتے شاید جیسے قسمت کے مضبوط ہاتھوں نے انہیں ان دیکھی رسی سے باندھ رکھا ہو اور انہیں مسلسل حرکت دے رہے ہوں۔
میں باہر کی چار دیواری کے پاس بنے کیبن میں بیٹھا لگاتار سگریٹ پھونکتا رہتا ہوں یا جوان اور مزدور عورتوں کو خاموشی سے گھورتا رہتا ہوں، ان کی رنگین کپڑے جب پسینہ سے شرابور ہو کر جسموں سے چپک جاتے تو میرا دل تیزی سے دھڑکنے لگتا ہے، میں سلطانہ کے جسم کے زاویوں کو دیکھتا ہوں تو میرا سارا جسم لذت بھری خواہش سے اینٹھنے لگتا ہے، تب دوسری ساری آوازیں صرف ایک آواز میں ڈھل جاتی ہیں، سلطانہ کے کرتے کے دامن سے بندھے چھوٹے چھوٹے گھنگرون اور اس کے چڑکلے سے بندھی نھنی نھنی چاندی کی گھنٹیاں اس کے ہر اٹھتے قدم کے ساتھ مجھے ایسا لگتا ہے جیسے سلطانہ ہولے ہولے سسکاریاں بھر رہی ہو، اپنی قسمت کا ماتم کر رہی ہو، اس کا خوبصورت سانولا چہرہ گہری سرخی سے تب جاتا ہے، اس کے قدم ست پڑجاتے ہیں تو اس کا شوہر اسے ڈانٹنے ہوئے کہتا ہے، کیا موت پڑگئی ہے، جو تو یوں چلے ہے، بھگ بھگ نہیں تو یوں جوتیاں ماروں گا کہ یاد ہی کرے گی، سلطانہ کا چہرہ ایک دم راکھ ہوجاتا ہے۔اس کے قدم تیز ہوجاتے ہیں، نھنے نھنے گھنگرو چھنکتے ہیں اور میرا جی چاہتا ہے میں آگے بڑھ کر اس کو اپنے بازئوں میں سمیٹ لوں لیکن میں ایسا نہیں کرسکتا، اس کے شوہر کا مضبوط جسم اور اعتماد سے پر چہرہ ایک خوف بن کر میرے اندر سماجاتا ہے، میں سوچتا ہوں میں کسی نہ کسی روز سلطانہ کو لے کر اس دھوپ بھری دوپہروں اور اس کے شوہر کے قہر بھرے چہرے سے دور لے جائو گا، تب اس کا جوان خوبصورت وجود زیادہ اجلا ہو جائے گا، میرا قصور نہ جانے کہاں کہاں بھٹکنے لگتا ہے میں سوچتا ہو مجھے سلطانہ سے محبت ہے، لیکن میں اس سے محبت نہیں کرتا، بس خوف اور خواہش کے درمیان معلق میں تیزی سے سگریٹ کے کش کھنچتے ہوئے ایک بھڑکتا سا عاشانہ پنجابی گیت گنگنانے لگتا ہوں، ایسا گیت جس میں جسم کا ذکر ہے، جوانی کا ذکر ہے، اور یہ جسم سلطانہ کا جسم ہے، یہ جسم میرا جسم ہے، میرا انہاک چھوٹے سے بچے کی بھوک سے بلبلاتی چیخ سے ٹوٹتا ہے، خدا کی نا انصافیوں پر پہلا احتجاج۔
دوسری مزدور عورت رضیہ میرے کیبن کے پاس آکر رکتی ہے، اس کا کرتا بہے دودھ سے بھیگا ہوا ہے، اس کے کانوں کی بالیاں اور ناک کی لونگ پسینے اور گردن سے میلی ہورہی ہے، لیکن اس کے چہرے پر مامتا کی لپک نے اسے جاندار مجسمے میں ڈھال دیا ہے، میں گانا بند کردیتا اور سوچتا ہوں یہ بھیگا ہوا جسم بھی عورت کا ہے لیکن میں اس کے بارے میں کچھ بھی نہیں سوچ رہا اور منہ پھیر کر بیٹھ جاتا ہوں، میرا ذہن عورت کے اس روپ کو قبول نہیں کرتا، عورت تو صرف عورت ہے جس کے جسم کے کتنے زاوئیے مرد کو مدہوش کردیتے ہیں، اسکے اندر کا شیطان پوری طرح چوکس ہوجاتا ہے میں رضیہ کو دیکھ کر مسکراتا ہوں لیکن وہ اپنے بچے پر جھگی سے چوم رہی ہے اور پھر اسے میلے کپڑے پر لٹا کر واپس چلی جاتی ہے، اور مجھے ایسا لگتا ہے جیسے مجھے اس نے دھتکار دیا ہو میرے اندر کا مرد تلمانے لگتا ہے۔با اختیار اور خود پسند مرد، سورج آسمان پر سفر کرتا ہو مغرب کی طرف جھک گیا ہے نگرانی کرتے کارندے تھکن سے نڈھال عورتیں گھٹے ہوئے جمسوں والے جوان مرد میرے کیبن کے سامنے اکھٹے ہورہے ہیں، گرد آلود ہوا بجری کے ڈھیروں اور بگھری ہوئی ریت پر آہستہ آہستہ رنگ رہی ہے، اور عورتوں کے بدبو دار کپڑوں میں سے گزرتی ہوئی چاروں طرف گھوم رہی ہے، سلطانہ نے اپنے گہرے سیاہ دوپٹے کے پلو سے اپنا منہ پونچا ہے اور چپ چاپ اپنے شوہر کے پاس کھڑی اپنی مزدوری کی منتظر ہے، ٹھیکدار اپنی سیاہ ٹیوٹا گاڑی کو تیزی سے اندر لاتے ہوئے ایک دم روکتا ہے اور تیز تیز قدم رکھتا کیبن میں آکر ایک کرسی پر بیٹھ جاتا ہے، میں رجسٹر میں نام لکھتا جاتا ہوں اور بڑھے ہوئے ہاتھ پر نوٹ رکھتا جاتا ہوں، میں جانتا ہوں سلطانہ کا ہاتھ چاندی کی انگوٹھیوں کا بوجھ سنبھالے آہستہ سے آگے بڑھے گا اور پھر لیکن نہیں میں ایسا نہیں کرسکتا، ٹھیکدار مسکرا کر اس کا حال پوچھتا ہے وہ مسکراتی ہے لیکن خوفزدہ سی اپنے شوہر کو دیکھتی ہے، اور میرا جی چاہتا ہے کہ میں ٹھیکدار کو اٹھا کر باہر پھینک دوں لیکن میں ایسا نہیں کرسکتا، میں جو سارا دن اس چھوٹے سے کیبن میں پنکھے کے نیچے آرام سے بیٹھا رہتا ہوں، اتنا ہی بے بس ہوں، ٹھیکدار کے سامنے ہاتھ پھیلانے والا پڑھا لکھا مزدور۔۔۔۔۔میں نے سلطانہ کے ہاتھ میں روپے رکھتے ہوئے اسے آہستہ سے چھوا ہے اور میرے سارے جسم میں سنسنی سی دوڑ گئی ہے ، میرا سارا جسم ایک دفعہ پھر خواہش سے تب گیا ہے۔سڑک کی دوسری طرف چائے کی ایک دکان کے سامنے بچھی بے رنگ میز کرسیوں پر چند جوان لڑکے بیٹھے چائے پی رہے ہیں اور ننگی نظروں سے عورتوں کو گھور رہے ہیں، میں انہیں کچھ نہیں کہہ سکتا، چائے خانے کا مالک بھولا پہلوان بے داغ بوسکیکی قمیض شلوار پہنے، بالوں میں خوشبودار تیل لگائے سگریٹ سے گاڑھے دھوئیں کے مرغولے بناتے ہوئے ایک طرف بیٹھا لڑکوں کو ڈانٹ رہا ہے، اس کے جوان چہرے پر سنجیدگی اور ٹہرائو ہے، اپنا کام کرو، چائے کو دیکھو، غیر عورتوں کو گھورنا ہے تو آئندہ یہاں نہیں آنا، وہ بھی کسی کی ماں بہنیں ہیں سمجھے، اس نے تیزی سے سگریٹ کی راکھ چٹکی بجا کر زمین پر جھٹکا ہے، لڑکے مسکراکر چائے پینے لگے ہیں اور پھر چائے کی قیمت چکا کر اٹھ جاتے ہیں اور ان منے قدموں سے مڑ مڑ کر دیکھتے ہوئے آگے چل پڑتے ہیں، میں بھی ان کی طرح عورت کے وجود اور اس کے سحر سے آگاہ ہوں اور سلطانہ کا جسم، ہر چیز خریدی جاسکتی ہے، چائے کی پیالی، سگریٹ کا پیکٹ، عورت کا جسم اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ ساری مزدوری کرتی اور عورتیں بھی خریدی گئی ہیں، رضیہ کی قیمت پندرہ سو تھی، انوراں کے مضبوط بازو اس کے شوہر کو پورے دو ہزارے روپے میں پڑے تھے، ریزواں کے اونچے آگے کو بڑھے دانتوں کی وجہ سے اس کے باپ کو صرف آٹھ سو روپیہ ملا تھا، اور یہ سلطانہ اسے نواب نے پورے پانچ ہزار میں خریدا تھا۔نواب نے ایک روز میرے پاس بیٹھے ہوئے اپنے ہاتھ کی پانچویں انگلیوں کو پورا پھیلاتے ہوئے کہا تھا، بابو صاحب میں نے سلطانہ کو دن رات کی کمائی جمع کرکے پورے پنج ہجار میں کھریدا ہے جی، اب میں کیا اسے سر پر بٹھائو، میں نے تو اپنے پیسے پورے کرنے ہیں، مجدوری تو یہ کرے ہی کرے اور میں نے نواب کے پاس بیٹھی اس معصوم کو دیکھ جس کی آنکھیں ایک دم بجھ گئی تھیں، اور اس کا خوبصورت چہرہ اس کے گلابی کڑھے وہے کرتے اور نھنے گھنگرو و لگے دامن کے درمیان ایسے لگنے لگا تھا جیسے بجھی سگریٹ دھواں دینے لگی ہو، میں زور سے ہنسا اور بولا نواب مہنگی چیز کی تو حفاظت کی جاتی ہے، سنبھال کر رکھا جاتا ہے، اور تم اپنی اتنی مہنگی جورو کو راکھ میں ڈال دیا ہے، کیا تمہیں اس سے محبت نہیں، جی محبت تو مجھے سلطانہ سے ہے جی جبھی تو میں نے پورے دس سال کے بعد اس کے باپ کو بڑی منتوں کے بعد شادی پر راجی کیا تھا جی، وہ تو مانے ہی نہیں تھا، کہتا تھا میری سلطانہ بہت کھوبچھورت ہے، اس کے تو پورے دس ہجارے ہی لوں گا، نواب کا جوان چہرہ جھیلے ہوئے انتظار کے کرب سے سخت ہوگیا، وہ انتظار جو اس نے برسوں روپوں کی گنتی پورے ہونے کے انتظار میں اٹھایا ہوگا، اس کا دل لحظ لحظ اس کے انتظار میں بھیگا ہوگا، اور اب نواب سلطانہ سے اس ساری محبت اور تک ودو کی قمیت وصول کر رہا ہے، کیا یہ محبت تھی، یا انسانی فطرت کا تقاضا تھا، جسم کی سچائی ہی سب سے اونچی پکار بن جاتی ہے۔نواب نے سگریٹ کو بھجا کر جیب میں رکھا اور میری طرف دیکھ کر بولا، بابو صاحب تم جانو جندگی بڑی کھٹن ہوئے ہے، روپیہ پیہ ہی تو طاقت ہے، بیماری شماری میں عورت تو کام نہ آوے، پیشا کام آوے پیشا، اور پھر ہمارے باپ دادوں نے ایسا ہی ہوتا آوے ہے، قیمت تو چکانی ہی پڑے ہے، اور کیا مرد کوئی قیمت نہ ہووے، ہووے صاحب میرے جیسا جوان سلطانہ کو دکھے ہے کوئی دوسرا اس ساری ٹکڑی میں جانچو تو جرا، کوئی دکھے ہے میرا جیسا جتا وہ بڑے اعتماد سے مسکرایا، سلطانہ تو اپنے آپ کو بڑھا بھاگوان سمجھے ہے، بڑی کھٹن ہے، منے سنگ، کیوں ری تو تو بول اس نے سلطانہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا اور سلطانہ نے شرما کر سر جھکا لیا، میں جانتا ہوں میں جو بڑھیا سگریٹ پیتا ہوں اچھے کپڑے پہنتا ہوں، نواب اس کے سامنے اپنے آپ کو حقیر اور چھوٹا سمجھتا ہے، اس کے سارے جذبے سچے اور کھرے ہیں، اور میں میرا ہر احساس صرف جھوٹ میں لپٹا ہوا ہے، میں اپنے اندر کی سچائی کو اپنے سامنے عیاں کرنے سے بھی گھبراتا ہوں، میں ابھی صرف جسم کو پہنچانتا ہوں، لیکن اسے محبت کا رنگ دیتا ہوں، دھواں آسمان کی طرف اٹھتا ہے اپنے بازئوں پر بھروسہ ہی ان کا ایمان ہے شام کے آسمان پر چیلیں ظمانیت بھرے پر پھیلائے دائرے میں اڑ رہی ہیں طمانیت کہاں ہے، پیسے کمانے میں محبت کرنے میں یا محبت کی قیمت چکانے میں، میں نے سلطانہ کی طرف دیکھا ہے، وہ اپنی ساس کے پاس چپ چاپ بیٹھی اڑتی چیلوں کو دیکھ رہی ہے، اس کا چٹلا ساکت ہے، اس کے دامن کے گھنگروں بھی ساکت ہیں اور مجھے لگ رہا ہے جیسے سب کچھ تھم گیا ہو، رک گیا ہو۔میں جاتے جاتے رک جاتا ہوں کھٹی لسی میں پکائے گئے چاولوں کی ناورا بوسب طرف پھیلی ہوئی ہے، لیکن میں اس بوکو سونگھنے بغیر ایک اور بو سنگھنے کی کوشش کر رہا ہوں، جو سلطانہ کے جسم سے اٹھ رہی تھی عورتوں کے رنگین چھینٹ کے کپڑے متیالے ہوچکے ہیں، لاکھ کے سفید چوڑوں سے بھرے بوزو ناک میں پڑی ہوئی بڑی لونگین ، کلون میں لٹکے کنٹھے ان عورتوں کی ساری زندگی کی بس اتنی ہی تو قیمت ہے لیکن میں سلطانہ کیلئے اس سے کہیں زیادہ دے سکتا ہوں، میں سلطانہ کا سودا دل ہی دل میں طے کرلیتا ہوں، سونے کے زیورات، ریشمی کپڑے اور شاید کسی روز میں یہ سودا کرسکوں، شاید کبھی میں اس کو چھو سکوں، میں گیٹ سے باہر سڑک کے کنارے بھولا پہلوان کے چائے خانے پر جا کر بیٹھ جاتا ہوں شاید میں تھک گیا ہوں، معلوم نہیں تک ودو کی کون سی منزل ہے کوئی نہیں بتاتا، ہر ایک کو اپنی راہ خود ہی ڈھونڈنی پڑتی ہے۔کیوں بابو صاحب تھک گئے ہوکیا، اوئے چھوٹے ملائی والی چائے لانا گرم گرم، اور بھولا پہلوان میرے پاس آکر بیٹھ گیا، اس نے سگریٹ کا تیز کش لیتے ہوئے میرے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا ہے کچھ کہتا ہوا کچھ مانگتا ہوا ہاتھ میں اس کی طرف دیکھ رہا ہوں۔بابو صاحب یہ جوان سی چھوکری ہے نا جو ۔۔۔۔نئی نئی آئی ہے مزدوری کرنے کیا نام ہے سلطانہ۔۔۔۔ہان سلطانہ اس نے بڑی گڑ بڑ پھیلادی ہے جی چھو کرو میں، میں تو حرامیوں کو بیٹھنے ہی نہ دوں اڈے پر، پر کیا کروں دھندا ہی ایسا ہے، اس کیگھر والے کو کہیں کہ اسے کھلے عام نہ لئے پھرے، نہیں تو کسی سن کسی چھوکرے سے سنگ بھاگ جاوے گی، پہلوان کے لہجے میں فکر مندی تھی، کم بخت غریب ہوکر بھی اتنی نازک لگتی ہے، جیسے کانچ کی بنی ہوئی ہو، اللہ اپنی کاری گری کہاں ضائع کردیتا ہے، کیا ضرورت تھی اسے ایسا بنانے کی، لیکن میں نواب کو کیسے کہہ سکتا ہوں میرا اس کا کائی ناتہ تو ہے نہیں نہیں جی اونچ نچ تو سمجھانی پڑتی ہے، آپ ان کے انچارج جوہوئے اور میں سوچ رہا ہوں کہ سلطانہ نہ صرف مجھے نظر آتی ہے، دوسرے بھی اسے دیکھتے ہیں دوسرے بھی اسکی خوبصورتی سے مسحور ہیں، میں نے کہا پہلوان جی نواب اس کی قیمت جانتا ہے اس کی حفاظت کرے گا، یہ لوگ بار بار شادی نہیں کرسکتے ان کے پاس بیوی خریدنے کیلئے پیسے کہاں، میں سمجھائوں گا، اسے خوب بھی تو چھوکرا سا ہے، اور شہر کی ہوا عورتوں کو بہت جلد بدل دیتی ہے، مردوں کی نظرین دلوں میں اتر جاتی ہیں جی، وہ بہت جلد سمجھ جائے گی، کہ وہ کتنی خوبصورت ہے، پہلوان کی آنکھیں سوچ میں ڈوبی ہوئی تھیں، اور وہ گہرے کش کھینچ رہا تھا، میں نے پھر کہا پہلوان جی لڑکے کے ماں باپ بھی تو ساتھ ہیں، وہ کہاں جائے گی۔پر بابو صاحب آپ نے کبھی لڑکی کی آنکھوں میں جھانکا ہے، ہر روز مار کھانے والی عورت زیادہ دیر ایسے مرد کے پاس نہیں رہتی، کیا ہے اس کی آنکھوں میں میں تجسس سے بولا، کچھ تو ہے، جیسے وہ رو رہی ہو، اور پھر بغاوت بھری ہے جی، پر پہلوان جی آپ نیکیسے پڑھیں اس کی آنکھیں، میں ہنس کر بولا، بابو جی میں بازار میں بیٹھنے والا آدمی ہوں، راہ جاتی عورت کی چال دیکھ کر پہچان جاتا ہوں کہ کس قماش کی عورت ہے، چالو ہے یا گھر دار، پر نواب سے بہتر اسے کوئی اور کیا ملے گا، آپ بھولے شاہ ہیں، عورت جو کچھ چاہتی ہے، نواب کے پاس نہیں، سختی دلوں کو پتھر بنا دیتی ہے، اور ہ تو کانچ کی بنی لگتی ہے، اور نواب اس کی قیمت کیا جانے، اس کے لیئے تو وہ ایک ٹوکری ہے بوجھ ڈھونے والی۔میں پہلوان کے ذاتی تجربات کے بارے میں کچھ نہیں جاتا ، ہمارا اس کا چند ماہ سے ہی تو ساتھ ہوا ہے، میں اتنا جانتا ہوں وہ سڑک پر جاتی عورت کو گھورتا نہیں اور نہ دوسروں کو گھورنے دیتا ہے، غیر محسوس طور پر سب اس سے ڈرتے ہیں اور اس کی عزت کرتے ہیں، سلطانہ اور مرد سلطانہ اور اس کا شوہر، عورت کی قیمت چند ہزار روپے، نقلی زیور، بے باک نظرین، شاید ہم سب کو اس کا بکائوں مال سمجھتے ہیں، اسے خریدنا چاہتے ہیں، شاید نواب اپنی چیز کی قیمت سے پوری طرح واقف ہے اس کی حفاظت کرنا جانتا ہے، عمارت بلند ہو رہی ہے، اور ساتھ ہی میرے دل میں سلطانہ کا خیال، میں اسکے وجود سے ہر لمحہ آگاہ رہتا ہوں، اس لئے اس کے اندر آئی تبدلیاں مجھے سب سے زیادہ نظر آتی ہیں۔وہ سب ہمیشہ کی طرح چپ چاپ کام کئے جاتے ہیں، لیکن مجھے لگتا ہے جیسے آوازوں کا شور اٹھ رہا ہو اور ان آزوازوں میں سلطانہ کی بولتی آنکھوں کی آواز سب سے بلند ہو، اب وہ اپنی مزدوری لینے کیلئے جب ہاتھ بڑھاتی ہے تو ماتھے تک کھنچے ہوئے گھونگھٹ میں ان کی آنکھیں مسکرانے لگتی ہیں، نواب اسے جھڑکتے ہوئے کہتا ہے، توہٹے گی یا میں لات دوں، میں نے دیکھا ہے، کہ نواب بھی اس کے اندر آتی جاتی تبدیلی سے آگاہ ہے، وہ اسے اب بات بے بات مارنے لگتا ہے، اس کی ساس بھی اسے پیٹتی رہتی ہے، لوکل مزدور کام کے بعد بڑے اہتمام سے نہاتے ہیں، تیل لگاکر بال بناتے ہیں، اور آہنس میں دور بیٹھے مذاق کرتے رہتے ہیں، بوڑھے رحیم نے جب اپنے بالوں کو بڑے اہتما سے خضاب سے رنگا تو سب جواب چھوکروں نے اس کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کیوں رحیم بابا نئی شادی کرنے لگے ہو۔میں ابھی بھی تم چار پر بھاری ہوں، سلطانہ منہ پر پلو رکھے آہستہ آہستہ ہنستی رہیتی اور رحیم بابا اپنی داڑھی اور بالون پر بار بار ہاتھ پھیرتا اسے دیکھتا رہتا ہے، اب جب نواب بھولا پہلوان کے چائے خانے پر جات اے تو وہ بھی جا کر کھڑی ہوجاتی ہے، بھولا اسے بھی ملائی والی چائے پلاتا ہے، اور مس جانتا ہوں ایک نا ایک دن کچھ ایسا ہوگا، جو نواب کے حق میں اچھا نہ ہوگا، اب نواب اسے پہلے سے بھی زیادہ مارتا ہے، وہ ہجری پر چادر لے کر لیٹ جاتی اور پھر کبھی کبھی چادر کا کونہ مجھے دیکھ کر مسکراتی ہے، میں جواب میں سکرا نہیں سکتا، وہ بہت سارے اور میں اکیلا، لیکن میں بے مقصد ہی وہاں رکا ہوا ہوں، میں سلطانہ کو ٹھیکیدار کے جوان بیٹے کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں، لیکن اتنے مزدوروں کے ہجوم میں اس سے بات نہیں کرسکتا، میں سلطانہ کے بارے میں فکر مند ہوں اسے مزدوروں کی نظروں سے بچانا چاہتا ہوں، اس روز سلطانہ میرے کیبن میں اکیلی آئی تھی، اور اس نے اپنی بڑی بڑی بھوری بھوری آنکھوں کو کھولتے ہوئے کہا تھا، ایک بات کرو صاحب، کیا تم میری مجدوریبڑھا نہیں سکتے، میں نئے کپڑے بنائو گی، اور اس نے اپنی پھٹا کرتا مجھے دکھایا، میں ہنسا، شاید سلطانہ میری نظروں کے پیغام کو جان گئی ہو، میں کہا، نواب کو کیوں نہیں کہتی ہو، وہ ایک دم چپ ہوگئی، اس کی آنکھیں کسی دکھ سے بھیگ گئی تھیں، وہ بولی نواب تو بس روپے جمع کرے ہے، اسے میرا ننگا بدن نجر نہیں آوے ہے، کیا میں بنادوں تجھے نئے کپڑے ، میں اس کے سامنے کھڑے ہوکر بولا وہ ایک دم کھڑی ہوگئی، ناں جی، کپڑے تو میں اپنی مجدوری سے ہی بنائوگی، بس تم میری مجدوری بڑھا دوں، پر نواب کو نہ بتانا، اور وہ جلد ہی باہر چلی گئی اور مسکرانے لگا، بھولا پہلوان نے ہی تو کہا تھا، شہر عورت کو بڑی جلدی بدل دیتا ہے، باہر موسم کی پہلی بارش ہو رہی تھی، سیاہ بالوں کے پرے سے پرے آسمان کے کناروں سے اٹھ کر چاروں طرف پھیل گئے تھے، میں کیبن کے دروازے پر کھڑا گہرے بادلوں کو ایک دوسرے میں مد غم ہوتے دیکھ رہا تھا، اور سلطانہ کا جسم میرے تصور میں چھایا ہوا تھا، وہ عمارت کے بر آمدے میں کھڑی اداس نظروں سے انہیں دیکھ رہی تھی اور پھر شاید وہ رونے لگے، اس کے آنسو کے رخساروں کو بگھورے تھے، دکھ بھرے آنسو۔اس کا سنہری بدن کڑکتے بادل، آنسوئوں سے بھیگے گال اور پھٹا کرتا، انسان چھوٹی چھوٹی خواہشوں کی تکمیل کیلئے کوشان کتنا بے بس معلوم نہیں رات کا ساتھ مرد عورت کو رہنی طور پر قریب لاتا ہے، کتنا دو کرتا ہے، اور کیا رات کا ساتھ ہی سب سے بڑی سچائی ہے میں سوچ رہا تھا، سوچ جو مثبت نہیں تھی، سلطانہ بدل رہی ہے، میں جانتا ہوں لیکن اس کا اور میرا فاصلہ بدستور قائم ہے، میں ہمیشہ کا ڈر پوک آدمی ہوں، عزت جانے کا ڈر، نوکری جانے کا ڈر، سلطانہ نے بہت کچھ سیکھ لیا ہے، اس کے چہرے پر غرور اور اعتماد نے اسے عمر سے بڑا بنادیا ہے، اب وہ جس سے جی چاہتا، باتیں کرنے لگتی ہے، بھولے کی دکان پر جارک چائے پیتی ہے، نواب سے مار کھا کر بھی زیادہ نہیں راتی، ساس اور سسر سے نہیں ڈرتی، بھول ٹھیک کہتا تھا کہ اس کی آنکھوں میں بغاوت بھری ہوئی ہے، شہری عورتوں نے غیر محسوس طور پر اسے بدل دیا ہے، ایک روز میں نے موقع پاکر سلطانہ کبھی مجھے بھی خدمت کا موقع دو، وہ زور سے ہنسی اور بولی ایسی ہی بات ہے ٹھیکدار کے بیٹے نے بھی کہی تھی ایسا لگے ہے جیسے یہاں کے سارے میرے ہی عسح مس گلتاں ہیں، کسی کو کوئی ور کام نہیں ہووے، ہے نا مجے کی بات، سچ بڑا مجا آوے ہے، جب نواب دیکھ کر جلے ہے، دیکھو وہ کھڑا گھورے ہے، بے چارا نواب، اور زور زور سے ہنسنے لگی، میں اس کی بے باکی پر حیران تھا، میں کہا، سلطانہ کیا تجھے نواب سے ڈر نہیں لگتا، جان سے مار ڈالے گا تجھے۔وہ بولی ڈروں ہوں، جرور ڈرو ہوں لیکن اتنا جانوں اور مجھے جان سے نہیں مارے گا، اس کا نخنشان کون پورا کے گا، ما ہی کروں گی نا، پھر میرے مرنے کا سے پھائدہ، وہ اپنی جرورت کیلئے مجھے جندہ رہنے دے گا، جرور جندہ رہنے دیگا، اور رہ بڑی لا پرواہی سے آگے چل دی۔وہ ان ساری زیادتیوں کا بدلہ لے رہی تھی، لیکن وہ یہ نہیں جانتی کہ نقصان صرف عورت کا ہی ہوتا ہے، گھاٹے میں صرف اس کی ذات رہتی ہے مجھے اس کی بیبا کی اچھی نہیں لگتی جیسے اس نے اپنی روح کی معصومیت کو بے مول بیچ دیا ہو، میں تو اس سلطانہ سے محبت کرنے لگا تھا جو نواب کی مارکھا کر بھی سہی رہتی تھی، ساس کی جھڑکیاں کھا کر بھی سر جھکا لیتی تھی، اس دن ڈھیکڈار کے بیٹے نے بڑی رازداری سے کہا کیا کسی طرح یہ سلطانہ ہاتھ نہیں لگ سکتی، ور میرا جی چاہا میں آگے بڑھ کر اس کا گلا دبا دوں، لیکن سلطانہ کولر کا پانی لینے کیلئے خود ہی آگئی، ٹھیکیدار، کے بیٹے کی نظروں میں ننگی بھوک تھی وہ بولا، آئو سلطانہ تمہیں اپنی گاڑی میں سیر کروا لائوں۔۔۔چلو گی میرے ساتھ، وہ گھبرائی نہیں، بس چل چاپ سے دیکھنے لگی اور بولی، صاحب میرا مرد جندہ ہے مرا نہیں ہے، اور اس جیسا کوئی ہوتو جانو اور چلی گی، شاید وہ سب کچھ جو میں دیکھتا رہتا ہو، محض نواب کو جلانے کیلئے ہو، ٹھیکدار کا بیٹا عورت خریدنی جانتا ہے عورت جیتنا نہیں وہ تلمتا ہوا چلا گیا، اور پھر کبھی نہیں آیا، سلطانہ اپنے آپ کو بیچنا نہیں چاہتی تھی، اس روز جانے کیا بات ہوئی کہ نواب نے اسے چٹیا سے گھسیٹا اور چلا کر پیٹنا شروع کردیام حرا مجاری گیر مردوں کے سنگ مجاخ کرے ہے، میں تیرے سب لچھن سمجھوں ہوں، میں نے پنج ہجار اس لئے تو نہیں بس بھرے تھے کہ دوسروں کے سنگ موج مناوے، سلطانہ کی ساس بھی چلا چلا کر الزام لگا رہی تھی، گندی گندی گالیاں بک رہی تھی، سلطانہ زور زور سے رونے لگی، ہاںہان میں دوسروں کے سنگ موج منائون ہوں میں نہیں رہتی تیرے سنگ، جالم مرد، دیکھ لینا ایک دن جرور بھاگ جائوگی، تو دیکھتا رہ جاوے گا، سب نے کام روک دیا اور ان کی لڑائی دیکھنے لگے، اس کا باپ روک رہ تھا، لیکن وہ جنونی طورت پر سلطانہ کو مار رہا تھا، میں تجھے جان سے ہی مار ڈالوں گا۔
بھولا پہلوان بھاگتا ہوا آیا، اس نے نواب کے دونوں بازوں سے تھام لیا اور چلایا، ہوش کر نواب مرجائے گی، تو کون ہے روکنے والا، اس کا باپ بوالا، میں ہوں، میں ہوں تمہاری بیویں کا یار، سور کی اولاد، بے بس عورت پرظلم کرتے ہیں، اور شرمندہ بھی نہیں ہوتے، عورت کو خریدتے ہیں، بے غریب اور پھر اس ظلم کرتے ہیں جیسے وہ کوئی جانور ہو، سلطانہ کھلی آنکھوں سے بھولا پہلوان کو دیکھ رہی تھی، اس کیبال بکھرے ہوئے تھے پتہ نہیں بھولا نے نواب کے بازو چھوڑ دئیے اور بڑ بڑاتا ہوا واپس چلا گیا، کام دوبارہ شروع ہوگیا، سلطانہ کی سسکیاں کبھی کبھار گونجتیں اور تھم جاتیں، سب مزدور چپ چاپ کام کررہے تھے، جیسے وہ احتجاج کرہے ہوں۔میں وہاں کھڑا گہری اداسی میں ڈوب گیا جیسے یہ ساری عورتین آہوں کی زنجیر میں بندھی مسلسل منزل کی تلاش میں ہوں، زندگی کی تلاش میں ہوں، اور مرد ہاتھوں میں کوڑے لئے انہیں آگے کو دکھیل رہے ہوں ان کی برہنہ پشتوں پر ماررہے ہیں، سلطانہ کی بھیگی آنکھیں سارے ماحول کو تسکین زدہ کر رہی تھی ، یہ ٹوکری اٹھائے مزدوری کرتی خوبصورت لڑکی ہماری زندگیوں کے خانے میں کہیں بھی فٹ نہیں ہوسکتی، میں جانتا ہوں ، اس کے جسم کے تو قیمت دی جاسکتی ہے لیکن اس ان کی روح میں کوئی بھی جھانکنا پسند نہیں کرے گا، وہ ہمیشہ تنہا رہے گی، ہمیشہ زندگی کی تلاش میں سر گرداں۔روز کی طرح شام کا سورج ڈوب رہا تھا، شروع شروع سردیوں کی ٹھنڈی ہوا آہستہ آہستہ کپکپارہی ہے، زمین سے اٹھیتی دھوک بھی شامل ہو کر اسے بوجھل بنارہی ہے، میں نے سر اٹھا کر دیکھا، دور کھڑا ٹھیکیدار سلطانہ کو دیکھ رہا تھا، سورج کی کوئی آخری شعاع کسی بے درد دھڑکی سے اندر آئی آئی ہوئی سلطانہ کے سراپے کو جلا رہی ہے، اور وہ یادوں میں ڈوبی اداس کھڑی ہے، یادیں جس میں اس کا گزرا بچپن ہوگا، ماں باپ کی ملائم شفقت ہوگی، مستقبل کی خوابناک جھلکیاں ہوگی، اس عذاب سے بچنے کیلئے دل کو کوئی راہ نہیں سوچھتی، پتہ نہیں سلطانہ بھی اس درد کو سہانے کی کوشش کرہی ہو، ٹھیکیدار بغیر مقصد کے کھڑا ہے، میں جانتا ہوں وہ بھی میری طرح مایوس ہوکر چلا چائے گا۔نومبر کا سورج دھند آلود فضا میں آہستہ آہستہ اوپر اٹھا رہا تھا کام شروع ہونے والا ہے، مزدور آہستہ آہستہ آکر عمارت کے پاس جمع ہورہے ہیں، سلطانہ اب پہلے سے بھی زیادہ خوبصورت لگتی تھی، سلطانہ کے چہرے پر کھنڈرا پن ہے، بھولا پہلوان آج پہلی بار آکر سلطانہ سے بات کر رہا ہے، میں نے کہا کیوں پہلوان جی کیا ڈھونڈ رہے ہوں، کیا گم ہوگیا ہے، ہو بولا گم تو نہ جانے کیا کیا ہوجاتا ہے، میں تو صرف اپنی گم پیالیاں دھونڈ رہا ہوں، شاید نواب لے آیا ہوں، اس نے سلطانہ پر ایک اچٹتی نظرڈالی سلطانہ، سلطانہ نے جلدی سے سر جھکا لیا، اور برتن اٹھا کر کھڑی ہوگئی۔بھولا پہلوان بے دھیانی سے ادھر ادھر دیکھ رہا تھا، اور پھر چلا گیا ہے، لگتا ہے الفاظ اس کے لبوں میں قید ہوگئے، میں نے کہا سلطانہ کیا نواب کی مار سے تمہیں ڈر نہیں لگتا، وہ کندھے اچکاتے ہوئے بولی مار مار، جب مرد کے پاس پیار نہیں ہوتا تو وہ مارے سے کام چلاوے ہے، اور جندگی صرف مار کھا کر تو نہیں گجرتی، میں تو اس مار سے تنگ آگئی ہو، پھر اسنے تالاب کے کنارے سے اپنے برتنوں کو اٹھایا اور چولہے کے پاس رکھنے کو چل پڑی اب نواب سلطانہ کو پہلے کی نسبت کم مارتا تھا، میں جانتا تھا، پہلوان اپنی دکان پر بیٹھا سلطانہ کو دیکھتا رہتا تھا، اسکے چہرے پر عجیب سی ملائمت آگئی ہے، وہ اپنے گاہکجوں کے ساتھ بڑی نرمی سے بولتا ہے نواب سلطانہ کی تیز نظروں سے کائف ہو کر دوسری طرف رخ موڑ لیتا ہے، اور بڑ بڑ انے لگتا ہے ، مجھے لگتا ہے جیے سلطانہ کے چہرے پر استہزا آمیز مسکراہٹ کھد گئی ہے، وہ میرا نواب کا، اپنی ساس کا مذاق اڑاتی ہوئی لگتی ہے، اس کس طاقت نے خود سر بنادیا ہے، یا پھر وہ بے حسی کے اس درجے میں داخل ہوگئی ہے جہاں سب کچھ بے وقت اور سہارے کے قابل لگتا ہے داکا دروازہ سب پر بند ہوجاتا ہے۔اس روز جب میں ہمیشہ کی طرح داخل ہوا تھا تو نواب کے سارے رشتہ دار فکر مند چہروں کے ساتھ ایک جگہ جمع تھے کام کا وقت ہوگیا تھا۔
میں نے کہا کیا بات ہے کام شروع کیوں نہیں ہوا، تو خیرو نے کہا، آج ہم دھاڑی نہیں لگائیں گے، ہمار گیر ہاجری لگادومں، میں جانتا تھا کہ کوئی بہت بڑی بات ہی انہیں مزدوری سے روک سکتی تھی، عورتیں گھونگھٹ نکالے الگ کھڑی باتیں کر رہی ہیں، ان میں سلطانہ نہیں تھی، میں گھبرا کر پہلوان کی دکان کی طرف دیکھا وہ چائے بنا رہا تھا، اور ایک دو گاہک بیٹھے چائے پی رہے تھے، کیا بات ہے؟ میں غصے سے بولا۔بات کیا ہووے ہے صاحب یہ سطلانہ ہرام جادی رات کو نہ جانے کون سے عاشخ سے مل کر آوے ہے، میں تو تھکا ہارا سو جائوں ہوں اور یہ موجاں مناوے ہے، مار مار تھک گیا یہ منہ سے بولے ہی نہیں ہے، نواب زمین پر بیٹھ کر رونے لگا، بے بسی سے میں پہلی بار اسے روتا دیکھ رہا تھا، مجھے لگا جیسے نواب کا خوبصورت وجود ایک دم بہت سکو گیا ہو، اس کی طاقت کا گمان سلطانہ نے توڑ دیا تھا، سلطانہ جو خرید ہوئی عورت تھی، صاحب میرے تو پنج ہجار مپھت میں جایاویں ہیں، ہاں ہاں پہنج ہجار جایا جاویں ہیں، میں اپنے آپ کو بیچون ہی کویں نا، سلطانہ اس کے سامنے کھڑی غصے سے چلا رہی تھی اس کا چہرہ چوٹوں سے سوجا ہوا تھا، اس کے پھٹے کرتے سے اس کا جسم نظر آرہا تھا، اس کی آواز میں اس کی مجروح ان کی چیح تھی، تو پنج ہجار کو کیا جانے، توتو پنج لاکھ کماسکتی ہو، تیرے عاشخ جو دیویں ہیں تجھے، نواب شیر کی طرح دھاڑا اور اسے مارنے لگا۔لائو میرے بنج ہجار، جائو جہاں مر جی جائو، لائو میرے بنج ہجار، سلطانہ وہی زمین پر بیٹھی بین ڈالنے لگی، میں اس کے پاس جا کر اسے تسلی دینا چاہتا تھا، میں نے کہا سلطانہ تمہیں ایسا نہیں کرنا چاہئیے تھا، قبیلے والے عزت دار آدمی ہیں، کای تم محبت دار نہیں ہو، تم اپنی جورو بیٹی سے کام کیوں نہیں کرواتے، کیوں انہیں گھر کی چار دیواری میں سنبھال کر رکھ ہو، اس لئے تاکہ وہ تمہاری محبت دیکھ رہی تھی، جیسے اس کے اندر سے سارے دکھ سکھ کے جذبات بنجر ہوگئے ہوں۔کہاں سے دوگی پانچ ہزار نواب کو، جانتی ہوں پانچ ہزار جمع کرنا کتان مشکل ہے، میں کچھ کہتے کہتے رک گیا، نواب نے بھی تو کھریدا ہے نام مجھے اب میں اپنے کو اپنی مرجی سے بچوں گی، اپنی مرجی گا گاہک کے پاس، اور اس کی چیخیں ایک دم بلند ہوگئیں، احتجاج کرتی ہوئیں، وہ اپنی زندگی میں آئی ساری محرومیوں کا ماتم کرتی تھی، شاید اور وہ سارے خاموش اسے دیکھ رہے تھے، خوفزدہ لیکن بھپرے ہوئے، پہلوان کی دکان کے تھڑے پر کھڑا اس سارے تماشے کو دیکھ رہا تھا، وہ پہلے کی طرح اندر نہیں آیا، لیکن تیزی سے سگریٹ کے کش لگاتے ہوئے اور گاڑھے دھوئیں کو باہر نکالتے ہوئے وہ بہت چین لگ رہا تھا، میں اس کے پاس چلا گیا اور کہا، پہلوان جی نہ جانے کون سا بانکا سلطنہ کا دل جیت کر لے گیا ہے، کچھ جانتے ہیں آپ؟ سلطانہ سے جاکر پوچھو مجھ سے کیا پوچھتے ہو، سالا مارتا ہے اور سوچتا ہے کہ وہ اس سے ہمیشہ محبت کرتی رہے گی، صاحب عورت کا دل کانچ کا ہوتا ہے، مارو گے تو ضرور ٹوٹے گا اور وہ تیز تیز بازار میں مڑ گیا، پہلوان کی دکان کا چولہا ٹھنڈا تھا۔کام ہمیشہ کی طرح ہو رہا تھا، مزدور سڑک کے کنارے روڑی ڈھیرے پر بیٹھے روڑی کوٹ رہے ہیں اور آپس میں فحش مذاق کررہے ہیں، خواہش، خریدی گئی عورتیں، سروں پر اٹھایا، دنیا کی تماشا گاہ میں انسانی بازی گر کی طرح زندگی کے تنے رسے سے پھر چلنے کی کوشش میں گر گر پڑتاہے ، نواب سلطانہ میں پہلوان اور دنیا کے سارے انسان لیکن پھر بھی چلنے پر مجبور ہیں۔میں نے جاتے جاتے سلطانہ کو مڑ کر دیکھا ہے، نواب سلطانہ کے پاس بیٹھا روٹی کھا رہا ہے، صبح کی ساری بات ایک تماشا لگتا ہے، میں مسکراتا ہوں، سوچ کے کتنے انداز ہیں، سردیوں کا چاند عمارت کی بلندی پر جھکا نیچے جھانک رہا ہے، چولہوں سے اٹھتا دھواں دھند میں شامل ہوا کر اسے بھی گہرا کر رہا ہے، دھند میں لپٹے انسان کی کوشش، اور چاند اکیلئے مسافر کی طرف اداس چہرہ لئے دھند کے ہلکے ہلکے بادلوں میں محو سفر، راہیں ہی راہیں، منزل کے بغیر۔سلطانہ بھاگ گئی، گیٹ میں داخل ہوتے ہی ایک مزدور بھاگا ہوا آیا، میں نے مڑ کر پہلوان کی دکان دیکھی وہ بند تھی، پتہ نہیں کس کے ساتھ، وہ نواب کیلئے پانچ ہزار چھوڑ گئی ہے جی، پورے پانچ ہزار بڑی خراب تھی جی وہ تو ہم نواب کا لحاظ کرتے رہے نہیں تو ہم بھی پیسے دے سکتے تھے، پتہ نہیں کون سالا بھگالے گیا سالی کو، وہ زور سے ہنسا چپ کر بند کرو یہ بکواس میں چلایا اور مجھے لگا میرے جسم سے کوئی چیز ہولے ہولے زمین میں اتر رہی ہو، سلطانہ کے رشتہ دار سب چپ چاپ دائرے میں بیٹھے باری باری حقے کی نوک کو تھامتے ہوئے حقہ پی رہے تھے نواب ہاتھ میں پانچ ہزار روپوں کی گھتی تھامے انہیں بار بار غور سے دیکھ رہا تھا، اور سلطانہ کی ساس اپنے نومولود بچے کو دودھ پلاتے ہوئے بول رہی تھی، اگر کوئی جنا ہوتا تو وہ یوں نہ بھاگتی، مائوں میں جنجیر جو ہوتی، اور یہ بناب بھی تو دان رات مارتا تھا، سوچے تھا عورت ناس جنور ہے، جنور گائی بھی سوٹی کاھنے پر رسہ تڑانے ہے وہ تو آخر جنانی تھی جلم کے ساتھ کب تک نبھاتی، جیادہ نخشان نہیں ہوا ماں، اب میں کوئی ہجار دو ہجار والی عورت بیاہ لوں گا، تین ہجار پھر بھی منافع ہو نا اماں، اور وہ بڑے اطمینان سے روپوں کو اپنے صافے کے پلوں میں باندھ کر اور اماں کو دیتے ہوئے بولا، پنج ہزار کو جمع کرتے کرتے میں تو اپنی آدھی جوانی بتادیتا، لیکن سلطانہ ایک ہی بلے میں مجھے امیر بناگئی اور وہ ہنسنے لگا، مجھے لگا جیسے وہاں پر بیٹھے سارے مرد خوفناک غفریت ہوں، جو عورتوں کو منہ میں پکڑے انہیں بھنھبور کر کھا رہے ہوں، باقی صرف نواب کو دیکھنے لگے اور پھر ایک ایک کرکے عمارت کی طرف بڑھ گئے، عورتوں نے اپنے بچوں کو چار پائیوں پر لٹا دیا، اور مردوں کے پیچھے چل پڑیں۔میں کھڑا سوچ رہا تھا کہ کیا سلطانہ ایک حقیقت تھی یا سایہ، کیا اس کے دامن کے نھنے گھنگرو کی آوازیں میں نے کبھی سن تھی یا میرا تصور ہی تھا، میرا دل بوجھ گلے دبا جارہا ہے،معلوم نہیں یہ بوجھ سلطانہ کی کھوجانے کا ہے یا اپنی محرومی کا، اور کیا سلطانہ جینے کی راہ کی کھوج لگانے نکلی ہے اور کیا، راہ سے مل جائے گی، بھولا پہلوان کی دکان بند ہے اور ایک کتیا اپنے بچوں کو لئے ٹھنڈے چولہے کی راکھ میں بڑے اطیمنان سے بیٹھی ہر آہٹ پر اپنی آنکھیں کھولتی اور پھر بند کرلیتی ہے
ٹیلی فون ایکسچینج کی نئی عمارت بن رہی ہے، عورتوں اور مردوں کا حجم غفیر سروں پر ٹوکریاں اٹھائے ایک دوسرے کے پیچھے چپ چاپ چلتے ہوئے آئے جارہے ہیں، مصالحہ ملانے والی مشین کی آواز کام کی نگرانی کرنے والوں کی آوازوں اور باہر سڑک پر آتی جاتی گاڑیوں کے تیز ہارن مل کر بھی اس خاموشی کو توڑ نہیں سکتے جو مزدوروں کے چہروں پر گہری کھدائی ہوئی ہے ، وہ مسکرانا نہیں جانتے شاید جیسے قسمت کے مضبوط ہاتھوں نے انہیں ان دیکھی رسی سے باندھ رکھا ہو اور انہیں مسلسل حرکت دے رہے ہوں۔
میں باہر کی چار دیواری کے پاس بنے کیبن میں بیٹھا لگاتار سگریٹ پھونکتا رہتا ہوں یا جوان اور مزدور عورتوں کو خاموشی سے گھورتا رہتا ہوں، ان کی رنگین کپڑے جب پسینہ سے شرابور ہو کر جسموں سے چپک جاتے تو میرا دل تیزی سے دھڑکنے لگتا ہے، میں سلطانہ کے جسم کے زاویوں کو دیکھتا ہوں تو میرا سارا جسم لذت بھری خواہش سے اینٹھنے لگتا ہے، تب دوسری ساری آوازیں صرف ایک آواز میں ڈھل جاتی ہیں، سلطانہ کے کرتے کے دامن سے بندھے چھوٹے چھوٹے گھنگرون اور اس کے چڑکلے سے بندھی نھنی نھنی چاندی کی گھنٹیاں اس کے ہر اٹھتے قدم کے ساتھ مجھے ایسا لگتا ہے جیسے سلطانہ ہولے ہولے سسکاریاں بھر رہی ہو، اپنی قسمت کا ماتم کر رہی ہو، اس کا خوبصورت سانولا چہرہ گہری سرخی سے تب جاتا ہے، اس کے قدم ست پڑجاتے ہیں تو اس کا شوہر اسے ڈانٹنے ہوئے کہتا ہے، کیا موت پڑگئی ہے، جو تو یوں چلے ہے، بھگ بھگ نہیں تو یوں جوتیاں ماروں گا کہ یاد ہی کرے گی، سلطانہ کا چہرہ ایک دم راکھ ہوجاتا ہے۔اس کے قدم تیز ہوجاتے ہیں، نھنے نھنے گھنگرو چھنکتے ہیں اور میرا جی چاہتا ہے میں آگے بڑھ کر اس کو اپنے بازئوں میں سمیٹ لوں لیکن میں ایسا نہیں کرسکتا، اس کے شوہر کا مضبوط جسم اور اعتماد سے پر چہرہ ایک خوف بن کر میرے اندر سماجاتا ہے، میں سوچتا ہوں میں کسی نہ کسی روز سلطانہ کو لے کر اس دھوپ بھری دوپہروں اور اس کے شوہر کے قہر بھرے چہرے سے دور لے جائو گا، تب اس کا جوان خوبصورت وجود زیادہ اجلا ہو جائے گا، میرا قصور نہ جانے کہاں کہاں بھٹکنے لگتا ہے میں سوچتا ہو مجھے سلطانہ سے محبت ہے، لیکن میں اس سے محبت نہیں کرتا، بس خوف اور خواہش کے درمیان معلق میں تیزی سے سگریٹ کے کش کھنچتے ہوئے ایک بھڑکتا سا عاشانہ پنجابی گیت گنگنانے لگتا ہوں، ایسا گیت جس میں جسم کا ذکر ہے، جوانی کا ذکر ہے، اور یہ جسم سلطانہ کا جسم ہے، یہ جسم میرا جسم ہے، میرا انہاک چھوٹے سے بچے کی بھوک سے بلبلاتی چیخ سے ٹوٹتا ہے، خدا کی نا انصافیوں پر پہلا احتجاج۔
دوسری مزدور عورت رضیہ میرے کیبن کے پاس آکر رکتی ہے، اس کا کرتا بہے دودھ سے بھیگا ہوا ہے، اس کے کانوں کی بالیاں اور ناک کی لونگ پسینے اور گردن سے میلی ہورہی ہے، لیکن اس کے چہرے پر مامتا کی لپک نے اسے جاندار مجسمے میں ڈھال دیا ہے، میں گانا بند کردیتا اور سوچتا ہوں یہ بھیگا ہوا جسم بھی عورت کا ہے لیکن میں اس کے بارے میں کچھ بھی نہیں سوچ رہا اور منہ پھیر کر بیٹھ جاتا ہوں، میرا ذہن عورت کے اس روپ کو قبول نہیں کرتا، عورت تو صرف عورت ہے جس کے جسم کے کتنے زاوئیے مرد کو مدہوش کردیتے ہیں، اسکے اندر کا شیطان پوری طرح چوکس ہوجاتا ہے میں رضیہ کو دیکھ کر مسکراتا ہوں لیکن وہ اپنے بچے پر جھگی سے چوم رہی ہے اور پھر اسے میلے کپڑے پر لٹا کر واپس چلی جاتی ہے، اور مجھے ایسا لگتا ہے جیسے مجھے اس نے دھتکار دیا ہو میرے اندر کا مرد تلمانے لگتا ہے۔با اختیار اور خود پسند مرد، سورج آسمان پر سفر کرتا ہو مغرب کی طرف جھک گیا ہے نگرانی کرتے کارندے تھکن سے نڈھال عورتیں گھٹے ہوئے جمسوں والے جوان مرد میرے کیبن کے سامنے اکھٹے ہورہے ہیں، گرد آلود ہوا بجری کے ڈھیروں اور بگھری ہوئی ریت پر آہستہ آہستہ رنگ رہی ہے، اور عورتوں کے بدبو دار کپڑوں میں سے گزرتی ہوئی چاروں طرف گھوم رہی ہے، سلطانہ نے اپنے گہرے سیاہ دوپٹے کے پلو سے اپنا منہ پونچا ہے اور چپ چاپ اپنے شوہر کے پاس کھڑی اپنی مزدوری کی منتظر ہے، ٹھیکدار اپنی سیاہ ٹیوٹا گاڑی کو تیزی سے اندر لاتے ہوئے ایک دم روکتا ہے اور تیز تیز قدم رکھتا کیبن میں آکر ایک کرسی پر بیٹھ جاتا ہے، میں رجسٹر میں نام لکھتا جاتا ہوں اور بڑھے ہوئے ہاتھ پر نوٹ رکھتا جاتا ہوں، میں جانتا ہوں سلطانہ کا ہاتھ چاندی کی انگوٹھیوں کا بوجھ سنبھالے آہستہ سے آگے بڑھے گا اور پھر لیکن نہیں میں ایسا نہیں کرسکتا، ٹھیکدار مسکرا کر اس کا حال پوچھتا ہے وہ مسکراتی ہے لیکن خوفزدہ سی اپنے شوہر کو دیکھتی ہے، اور میرا جی چاہتا ہے کہ میں ٹھیکدار کو اٹھا کر باہر پھینک دوں لیکن میں ایسا نہیں کرسکتا، میں جو سارا دن اس چھوٹے سے کیبن میں پنکھے کے نیچے آرام سے بیٹھا رہتا ہوں، اتنا ہی بے بس ہوں، ٹھیکدار کے سامنے ہاتھ پھیلانے والا پڑھا لکھا مزدور۔۔۔۔۔میں نے سلطانہ کے ہاتھ میں روپے رکھتے ہوئے اسے آہستہ سے چھوا ہے اور میرے سارے جسم میں سنسنی سی دوڑ گئی ہے ، میرا سارا جسم ایک دفعہ پھر خواہش سے تب گیا ہے۔سڑک کی دوسری طرف چائے کی ایک دکان کے سامنے بچھی بے رنگ میز کرسیوں پر چند جوان لڑکے بیٹھے چائے پی رہے ہیں اور ننگی نظروں سے عورتوں کو گھور رہے ہیں، میں انہیں کچھ نہیں کہہ سکتا، چائے خانے کا مالک بھولا پہلوان بے داغ بوسکیکی قمیض شلوار پہنے، بالوں میں خوشبودار تیل لگائے سگریٹ سے گاڑھے دھوئیں کے مرغولے بناتے ہوئے ایک طرف بیٹھا لڑکوں کو ڈانٹ رہا ہے، اس کے جوان چہرے پر سنجیدگی اور ٹہرائو ہے، اپنا کام کرو، چائے کو دیکھو، غیر عورتوں کو گھورنا ہے تو آئندہ یہاں نہیں آنا، وہ بھی کسی کی ماں بہنیں ہیں سمجھے، اس نے تیزی سے سگریٹ کی راکھ چٹکی بجا کر زمین پر جھٹکا ہے، لڑکے مسکراکر چائے پینے لگے ہیں اور پھر چائے کی قیمت چکا کر اٹھ جاتے ہیں اور ان منے قدموں سے مڑ مڑ کر دیکھتے ہوئے آگے چل پڑتے ہیں، میں بھی ان کی طرح عورت کے وجود اور اس کے سحر سے آگاہ ہوں اور سلطانہ کا جسم، ہر چیز خریدی جاسکتی ہے، چائے کی پیالی، سگریٹ کا پیکٹ، عورت کا جسم اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ ساری مزدوری کرتی اور عورتیں بھی خریدی گئی ہیں، رضیہ کی قیمت پندرہ سو تھی، انوراں کے مضبوط بازو اس کے شوہر کو پورے دو ہزارے روپے میں پڑے تھے، ریزواں کے اونچے آگے کو بڑھے دانتوں کی وجہ سے اس کے باپ کو صرف آٹھ سو روپیہ ملا تھا، اور یہ سلطانہ اسے نواب نے پورے پانچ ہزار میں خریدا تھا۔نواب نے ایک روز میرے پاس بیٹھے ہوئے اپنے ہاتھ کی پانچویں انگلیوں کو پورا پھیلاتے ہوئے کہا تھا، بابو صاحب میں نے سلطانہ کو دن رات کی کمائی جمع کرکے پورے پنج ہجار میں کھریدا ہے جی، اب میں کیا اسے سر پر بٹھائو، میں نے تو اپنے پیسے پورے کرنے ہیں، مجدوری تو یہ کرے ہی کرے اور میں نے نواب کے پاس بیٹھی اس معصوم کو دیکھ جس کی آنکھیں ایک دم بجھ گئی تھیں، اور اس کا خوبصورت چہرہ اس کے گلابی کڑھے وہے کرتے اور نھنے گھنگرو و لگے دامن کے درمیان ایسے لگنے لگا تھا جیسے بجھی سگریٹ دھواں دینے لگی ہو، میں زور سے ہنسا اور بولا نواب مہنگی چیز کی تو حفاظت کی جاتی ہے، سنبھال کر رکھا جاتا ہے، اور تم اپنی اتنی مہنگی جورو کو راکھ میں ڈال دیا ہے، کیا تمہیں اس سے محبت نہیں، جی محبت تو مجھے سلطانہ سے ہے جی جبھی تو میں نے پورے دس سال کے بعد اس کے باپ کو بڑی منتوں کے بعد شادی پر راجی کیا تھا جی، وہ تو مانے ہی نہیں تھا، کہتا تھا میری سلطانہ بہت کھوبچھورت ہے، اس کے تو پورے دس ہجارے ہی لوں گا، نواب کا جوان چہرہ جھیلے ہوئے انتظار کے کرب سے سخت ہوگیا، وہ انتظار جو اس نے برسوں روپوں کی گنتی پورے ہونے کے انتظار میں اٹھایا ہوگا، اس کا دل لحظ لحظ اس کے انتظار میں بھیگا ہوگا، اور اب نواب سلطانہ سے اس ساری محبت اور تک ودو کی قمیت وصول کر رہا ہے، کیا یہ محبت تھی، یا انسانی فطرت کا تقاضا تھا، جسم کی سچائی ہی سب سے اونچی پکار بن جاتی ہے۔نواب نے سگریٹ کو بھجا کر جیب میں رکھا اور میری طرف دیکھ کر بولا، بابو صاحب تم جانو جندگی بڑی کھٹن ہوئے ہے، روپیہ پیہ ہی تو طاقت ہے، بیماری شماری میں عورت تو کام نہ آوے، پیشا کام آوے پیشا، اور پھر ہمارے باپ دادوں نے ایسا ہی ہوتا آوے ہے، قیمت تو چکانی ہی پڑے ہے، اور کیا مرد کوئی قیمت نہ ہووے، ہووے صاحب میرے جیسا جوان سلطانہ کو دکھے ہے کوئی دوسرا اس ساری ٹکڑی میں جانچو تو جرا، کوئی دکھے ہے میرا جیسا جتا وہ بڑے اعتماد سے مسکرایا، سلطانہ تو اپنے آپ کو بڑھا بھاگوان سمجھے ہے، بڑی کھٹن ہے، منے سنگ، کیوں ری تو تو بول اس نے سلطانہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا اور سلطانہ نے شرما کر سر جھکا لیا، میں جانتا ہوں میں جو بڑھیا سگریٹ پیتا ہوں اچھے کپڑے پہنتا ہوں، نواب اس کے سامنے اپنے آپ کو حقیر اور چھوٹا سمجھتا ہے، اس کے سارے جذبے سچے اور کھرے ہیں، اور میں میرا ہر احساس صرف جھوٹ میں لپٹا ہوا ہے، میں اپنے اندر کی سچائی کو اپنے سامنے عیاں کرنے سے بھی گھبراتا ہوں، میں ابھی صرف جسم کو پہنچانتا ہوں، لیکن اسے محبت کا رنگ دیتا ہوں، دھواں آسمان کی طرف اٹھتا ہے اپنے بازئوں پر بھروسہ ہی ان کا ایمان ہے شام کے آسمان پر چیلیں ظمانیت بھرے پر پھیلائے دائرے میں اڑ رہی ہیں طمانیت کہاں ہے، پیسے کمانے میں محبت کرنے میں یا محبت کی قیمت چکانے میں، میں نے سلطانہ کی طرف دیکھا ہے، وہ اپنی ساس کے پاس چپ چاپ بیٹھی اڑتی چیلوں کو دیکھ رہی ہے، اس کا چٹلا ساکت ہے، اس کے دامن کے گھنگروں بھی ساکت ہیں اور مجھے لگ رہا ہے جیسے سب کچھ تھم گیا ہو، رک گیا ہو۔میں جاتے جاتے رک جاتا ہوں کھٹی لسی میں پکائے گئے چاولوں کی ناورا بوسب طرف پھیلی ہوئی ہے، لیکن میں اس بوکو سونگھنے بغیر ایک اور بو سنگھنے کی کوشش کر رہا ہوں، جو سلطانہ کے جسم سے اٹھ رہی تھی عورتوں کے رنگین چھینٹ کے کپڑے متیالے ہوچکے ہیں، لاکھ کے سفید چوڑوں سے بھرے بوزو ناک میں پڑی ہوئی بڑی لونگین ، کلون میں لٹکے کنٹھے ان عورتوں کی ساری زندگی کی بس اتنی ہی تو قیمت ہے لیکن میں سلطانہ کیلئے اس سے کہیں زیادہ دے سکتا ہوں، میں سلطانہ کا سودا دل ہی دل میں طے کرلیتا ہوں، سونے کے زیورات، ریشمی کپڑے اور شاید کسی روز میں یہ سودا کرسکوں، شاید کبھی میں اس کو چھو سکوں، میں گیٹ سے باہر سڑک کے کنارے بھولا پہلوان کے چائے خانے پر جا کر بیٹھ جاتا ہوں شاید میں تھک گیا ہوں، معلوم نہیں تک ودو کی کون سی منزل ہے کوئی نہیں بتاتا، ہر ایک کو اپنی راہ خود ہی ڈھونڈنی پڑتی ہے۔کیوں بابو صاحب تھک گئے ہوکیا، اوئے چھوٹے ملائی والی چائے لانا گرم گرم، اور بھولا پہلوان میرے پاس آکر بیٹھ گیا، اس نے سگریٹ کا تیز کش لیتے ہوئے میرے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا ہے کچھ کہتا ہوا کچھ مانگتا ہوا ہاتھ میں اس کی طرف دیکھ رہا ہوں۔بابو صاحب یہ جوان سی چھوکری ہے نا جو ۔۔۔۔نئی نئی آئی ہے مزدوری کرنے کیا نام ہے سلطانہ۔۔۔۔ہان سلطانہ اس نے بڑی گڑ بڑ پھیلادی ہے جی چھو کرو میں، میں تو حرامیوں کو بیٹھنے ہی نہ دوں اڈے پر، پر کیا کروں دھندا ہی ایسا ہے، اس کیگھر والے کو کہیں کہ اسے کھلے عام نہ لئے پھرے، نہیں تو کسی سن کسی چھوکرے سے سنگ بھاگ جاوے گی، پہلوان کے لہجے میں فکر مندی تھی، کم بخت غریب ہوکر بھی اتنی نازک لگتی ہے، جیسے کانچ کی بنی ہوئی ہو، اللہ اپنی کاری گری کہاں ضائع کردیتا ہے، کیا ضرورت تھی اسے ایسا بنانے کی، لیکن میں نواب کو کیسے کہہ سکتا ہوں میرا اس کا کائی ناتہ تو ہے نہیں نہیں جی اونچ نچ تو سمجھانی پڑتی ہے، آپ ان کے انچارج جوہوئے اور میں سوچ رہا ہوں کہ سلطانہ نہ صرف مجھے نظر آتی ہے، دوسرے بھی اسے دیکھتے ہیں دوسرے بھی اسکی خوبصورتی سے مسحور ہیں، میں نے کہا پہلوان جی نواب اس کی قیمت جانتا ہے اس کی حفاظت کرے گا، یہ لوگ بار بار شادی نہیں کرسکتے ان کے پاس بیوی خریدنے کیلئے پیسے کہاں، میں سمجھائوں گا، اسے خوب بھی تو چھوکرا سا ہے، اور شہر کی ہوا عورتوں کو بہت جلد بدل دیتی ہے، مردوں کی نظرین دلوں میں اتر جاتی ہیں جی، وہ بہت جلد سمجھ جائے گی، کہ وہ کتنی خوبصورت ہے، پہلوان کی آنکھیں سوچ میں ڈوبی ہوئی تھیں، اور وہ گہرے کش کھینچ رہا تھا، میں نے پھر کہا پہلوان جی لڑکے کے ماں باپ بھی تو ساتھ ہیں، وہ کہاں جائے گی۔پر بابو صاحب آپ نے کبھی لڑکی کی آنکھوں میں جھانکا ہے، ہر روز مار کھانے والی عورت زیادہ دیر ایسے مرد کے پاس نہیں رہتی، کیا ہے اس کی آنکھوں میں میں تجسس سے بولا، کچھ تو ہے، جیسے وہ رو رہی ہو، اور پھر بغاوت بھری ہے جی، پر پہلوان جی آپ نیکیسے پڑھیں اس کی آنکھیں، میں ہنس کر بولا، بابو جی میں بازار میں بیٹھنے والا آدمی ہوں، راہ جاتی عورت کی چال دیکھ کر پہچان جاتا ہوں کہ کس قماش کی عورت ہے، چالو ہے یا گھر دار، پر نواب سے بہتر اسے کوئی اور کیا ملے گا، آپ بھولے شاہ ہیں، عورت جو کچھ چاہتی ہے، نواب کے پاس نہیں، سختی دلوں کو پتھر بنا دیتی ہے، اور ہ تو کانچ کی بنی لگتی ہے، اور نواب اس کی قیمت کیا جانے، اس کے لیئے تو وہ ایک ٹوکری ہے بوجھ ڈھونے والی۔میں پہلوان کے ذاتی تجربات کے بارے میں کچھ نہیں جاتا ، ہمارا اس کا چند ماہ سے ہی تو ساتھ ہوا ہے، میں اتنا جانتا ہوں وہ سڑک پر جاتی عورت کو گھورتا نہیں اور نہ دوسروں کو گھورنے دیتا ہے، غیر محسوس طور پر سب اس سے ڈرتے ہیں اور اس کی عزت کرتے ہیں، سلطانہ اور مرد سلطانہ اور اس کا شوہر، عورت کی قیمت چند ہزار روپے، نقلی زیور، بے باک نظرین، شاید ہم سب کو اس کا بکائوں مال سمجھتے ہیں، اسے خریدنا چاہتے ہیں، شاید نواب اپنی چیز کی قیمت سے پوری طرح واقف ہے اس کی حفاظت کرنا جانتا ہے، عمارت بلند ہو رہی ہے، اور ساتھ ہی میرے دل میں سلطانہ کا خیال، میں اسکے وجود سے ہر لمحہ آگاہ رہتا ہوں، اس لئے اس کے اندر آئی تبدلیاں مجھے سب سے زیادہ نظر آتی ہیں۔وہ سب ہمیشہ کی طرح چپ چاپ کام کئے جاتے ہیں، لیکن مجھے لگتا ہے جیسے آوازوں کا شور اٹھ رہا ہو اور ان آزوازوں میں سلطانہ کی بولتی آنکھوں کی آواز سب سے بلند ہو، اب وہ اپنی مزدوری لینے کیلئے جب ہاتھ بڑھاتی ہے تو ماتھے تک کھنچے ہوئے گھونگھٹ میں ان کی آنکھیں مسکرانے لگتی ہیں، نواب اسے جھڑکتے ہوئے کہتا ہے، توہٹے گی یا میں لات دوں، میں نے دیکھا ہے، کہ نواب بھی اس کے اندر آتی جاتی تبدیلی سے آگاہ ہے، وہ اسے اب بات بے بات مارنے لگتا ہے، اس کی ساس بھی اسے پیٹتی رہتی ہے، لوکل مزدور کام کے بعد بڑے اہتمام سے نہاتے ہیں، تیل لگاکر بال بناتے ہیں، اور آہنس میں دور بیٹھے مذاق کرتے رہتے ہیں، بوڑھے رحیم نے جب اپنے بالوں کو بڑے اہتما سے خضاب سے رنگا تو سب جواب چھوکروں نے اس کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کیوں رحیم بابا نئی شادی کرنے لگے ہو۔میں ابھی بھی تم چار پر بھاری ہوں، سلطانہ منہ پر پلو رکھے آہستہ آہستہ ہنستی رہیتی اور رحیم بابا اپنی داڑھی اور بالون پر بار بار ہاتھ پھیرتا اسے دیکھتا رہتا ہے، اب جب نواب بھولا پہلوان کے چائے خانے پر جات اے تو وہ بھی جا کر کھڑی ہوجاتی ہے، بھولا اسے بھی ملائی والی چائے پلاتا ہے، اور مس جانتا ہوں ایک نا ایک دن کچھ ایسا ہوگا، جو نواب کے حق میں اچھا نہ ہوگا، اب نواب اسے پہلے سے بھی زیادہ مارتا ہے، وہ ہجری پر چادر لے کر لیٹ جاتی اور پھر کبھی کبھی چادر کا کونہ مجھے دیکھ کر مسکراتی ہے، میں جواب میں سکرا نہیں سکتا، وہ بہت سارے اور میں اکیلا، لیکن میں بے مقصد ہی وہاں رکا ہوا ہوں، میں سلطانہ کو ٹھیکیدار کے جوان بیٹے کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں، لیکن اتنے مزدوروں کے ہجوم میں اس سے بات نہیں کرسکتا، میں سلطانہ کے بارے میں فکر مند ہوں اسے مزدوروں کی نظروں سے بچانا چاہتا ہوں، اس روز سلطانہ میرے کیبن میں اکیلی آئی تھی، اور اس نے اپنی بڑی بڑی بھوری بھوری آنکھوں کو کھولتے ہوئے کہا تھا، ایک بات کرو صاحب، کیا تم میری مجدوریبڑھا نہیں سکتے، میں نئے کپڑے بنائو گی، اور اس نے اپنی پھٹا کرتا مجھے دکھایا، میں ہنسا، شاید سلطانہ میری نظروں کے پیغام کو جان گئی ہو، میں کہا، نواب کو کیوں نہیں کہتی ہو، وہ ایک دم چپ ہوگئی، اس کی آنکھیں کسی دکھ سے بھیگ گئی تھیں، وہ بولی نواب تو بس روپے جمع کرے ہے، اسے میرا ننگا بدن نجر نہیں آوے ہے، کیا میں بنادوں تجھے نئے کپڑے ، میں اس کے سامنے کھڑے ہوکر بولا وہ ایک دم کھڑی ہوگئی، ناں جی، کپڑے تو میں اپنی مجدوری سے ہی بنائوگی، بس تم میری مجدوری بڑھا دوں، پر نواب کو نہ بتانا، اور وہ جلد ہی باہر چلی گئی اور مسکرانے لگا، بھولا پہلوان نے ہی تو کہا تھا، شہر عورت کو بڑی جلدی بدل دیتا ہے، باہر موسم کی پہلی بارش ہو رہی تھی، سیاہ بالوں کے پرے سے پرے آسمان کے کناروں سے اٹھ کر چاروں طرف پھیل گئے تھے، میں کیبن کے دروازے پر کھڑا گہرے بادلوں کو ایک دوسرے میں مد غم ہوتے دیکھ رہا تھا، اور سلطانہ کا جسم میرے تصور میں چھایا ہوا تھا، وہ عمارت کے بر آمدے میں کھڑی اداس نظروں سے انہیں دیکھ رہی تھی اور پھر شاید وہ رونے لگے، اس کے آنسو کے رخساروں کو بگھورے تھے، دکھ بھرے آنسو۔اس کا سنہری بدن کڑکتے بادل، آنسوئوں سے بھیگے گال اور پھٹا کرتا، انسان چھوٹی چھوٹی خواہشوں کی تکمیل کیلئے کوشان کتنا بے بس معلوم نہیں رات کا ساتھ مرد عورت کو رہنی طور پر قریب لاتا ہے، کتنا دو کرتا ہے، اور کیا رات کا ساتھ ہی سب سے بڑی سچائی ہے میں سوچ رہا تھا، سوچ جو مثبت نہیں تھی، سلطانہ بدل رہی ہے، میں جانتا ہوں لیکن اس کا اور میرا فاصلہ بدستور قائم ہے، میں ہمیشہ کا ڈر پوک آدمی ہوں، عزت جانے کا ڈر، نوکری جانے کا ڈر، سلطانہ نے بہت کچھ سیکھ لیا ہے، اس کے چہرے پر غرور اور اعتماد نے اسے عمر سے بڑا بنادیا ہے، اب وہ جس سے جی چاہتا، باتیں کرنے لگتی ہے، بھولے کی دکان پر جارک چائے پیتی ہے، نواب سے مار کھا کر بھی زیادہ نہیں راتی، ساس اور سسر سے نہیں ڈرتی، بھول ٹھیک کہتا تھا کہ اس کی آنکھوں میں بغاوت بھری ہوئی ہے، شہری عورتوں نے غیر محسوس طور پر اسے بدل دیا ہے، ایک روز میں نے موقع پاکر سلطانہ کبھی مجھے بھی خدمت کا موقع دو، وہ زور سے ہنسی اور بولی ایسی ہی بات ہے ٹھیکدار کے بیٹے نے بھی کہی تھی ایسا لگے ہے جیسے یہاں کے سارے میرے ہی عسح مس گلتاں ہیں، کسی کو کوئی ور کام نہیں ہووے، ہے نا مجے کی بات، سچ بڑا مجا آوے ہے، جب نواب دیکھ کر جلے ہے، دیکھو وہ کھڑا گھورے ہے، بے چارا نواب، اور زور زور سے ہنسنے لگی، میں اس کی بے باکی پر حیران تھا، میں کہا، سلطانہ کیا تجھے نواب سے ڈر نہیں لگتا، جان سے مار ڈالے گا تجھے۔وہ بولی ڈروں ہوں، جرور ڈرو ہوں لیکن اتنا جانوں اور مجھے جان سے نہیں مارے گا، اس کا نخنشان کون پورا کے گا، ما ہی کروں گی نا، پھر میرے مرنے کا سے پھائدہ، وہ اپنی جرورت کیلئے مجھے جندہ رہنے دے گا، جرور جندہ رہنے دیگا، اور رہ بڑی لا پرواہی سے آگے چل دی۔وہ ان ساری زیادتیوں کا بدلہ لے رہی تھی، لیکن وہ یہ نہیں جانتی کہ نقصان صرف عورت کا ہی ہوتا ہے، گھاٹے میں صرف اس کی ذات رہتی ہے مجھے اس کی بیبا کی اچھی نہیں لگتی جیسے اس نے اپنی روح کی معصومیت کو بے مول بیچ دیا ہو، میں تو اس سلطانہ سے محبت کرنے لگا تھا جو نواب کی مارکھا کر بھی سہی رہتی تھی، ساس کی جھڑکیاں کھا کر بھی سر جھکا لیتی تھی، اس دن ڈھیکڈار کے بیٹے نے بڑی رازداری سے کہا کیا کسی طرح یہ سلطانہ ہاتھ نہیں لگ سکتی، ور میرا جی چاہا میں آگے بڑھ کر اس کا گلا دبا دوں، لیکن سلطانہ کولر کا پانی لینے کیلئے خود ہی آگئی، ٹھیکیدار، کے بیٹے کی نظروں میں ننگی بھوک تھی وہ بولا، آئو سلطانہ تمہیں اپنی گاڑی میں سیر کروا لائوں۔۔۔چلو گی میرے ساتھ، وہ گھبرائی نہیں، بس چل چاپ سے دیکھنے لگی اور بولی، صاحب میرا مرد جندہ ہے مرا نہیں ہے، اور اس جیسا کوئی ہوتو جانو اور چلی گی، شاید وہ سب کچھ جو میں دیکھتا رہتا ہو، محض نواب کو جلانے کیلئے ہو، ٹھیکدار کا بیٹا عورت خریدنی جانتا ہے عورت جیتنا نہیں وہ تلمتا ہوا چلا گیا، اور پھر کبھی نہیں آیا، سلطانہ اپنے آپ کو بیچنا نہیں چاہتی تھی، اس روز جانے کیا بات ہوئی کہ نواب نے اسے چٹیا سے گھسیٹا اور چلا کر پیٹنا شروع کردیام حرا مجاری گیر مردوں کے سنگ مجاخ کرے ہے، میں تیرے سب لچھن سمجھوں ہوں، میں نے پنج ہجار اس لئے تو نہیں بس بھرے تھے کہ دوسروں کے سنگ موج مناوے، سلطانہ کی ساس بھی چلا چلا کر الزام لگا رہی تھی، گندی گندی گالیاں بک رہی تھی، سلطانہ زور زور سے رونے لگی، ہاںہان میں دوسروں کے سنگ موج منائون ہوں میں نہیں رہتی تیرے سنگ، جالم مرد، دیکھ لینا ایک دن جرور بھاگ جائوگی، تو دیکھتا رہ جاوے گا، سب نے کام روک دیا اور ان کی لڑائی دیکھنے لگے، اس کا باپ روک رہ تھا، لیکن وہ جنونی طورت پر سلطانہ کو مار رہا تھا، میں تجھے جان سے ہی مار ڈالوں گا۔
بھولا پہلوان بھاگتا ہوا آیا، اس نے نواب کے دونوں بازوں سے تھام لیا اور چلایا، ہوش کر نواب مرجائے گی، تو کون ہے روکنے والا، اس کا باپ بوالا، میں ہوں، میں ہوں تمہاری بیویں کا یار، سور کی اولاد، بے بس عورت پرظلم کرتے ہیں، اور شرمندہ بھی نہیں ہوتے، عورت کو خریدتے ہیں، بے غریب اور پھر اس ظلم کرتے ہیں جیسے وہ کوئی جانور ہو، سلطانہ کھلی آنکھوں سے بھولا پہلوان کو دیکھ رہی تھی، اس کیبال بکھرے ہوئے تھے پتہ نہیں بھولا نے نواب کے بازو چھوڑ دئیے اور بڑ بڑاتا ہوا واپس چلا گیا، کام دوبارہ شروع ہوگیا، سلطانہ کی سسکیاں کبھی کبھار گونجتیں اور تھم جاتیں، سب مزدور چپ چاپ کام کررہے تھے، جیسے وہ احتجاج کرہے ہوں۔میں وہاں کھڑا گہری اداسی میں ڈوب گیا جیسے یہ ساری عورتین آہوں کی زنجیر میں بندھی مسلسل منزل کی تلاش میں ہوں، زندگی کی تلاش میں ہوں، اور مرد ہاتھوں میں کوڑے لئے انہیں آگے کو دکھیل رہے ہوں ان کی برہنہ پشتوں پر ماررہے ہیں، سلطانہ کی بھیگی آنکھیں سارے ماحول کو تسکین زدہ کر رہی تھی ، یہ ٹوکری اٹھائے مزدوری کرتی خوبصورت لڑکی ہماری زندگیوں کے خانے میں کہیں بھی فٹ نہیں ہوسکتی، میں جانتا ہوں ، اس کے جسم کے تو قیمت دی جاسکتی ہے لیکن اس ان کی روح میں کوئی بھی جھانکنا پسند نہیں کرے گا، وہ ہمیشہ تنہا رہے گی، ہمیشہ زندگی کی تلاش میں سر گرداں۔روز کی طرح شام کا سورج ڈوب رہا تھا، شروع شروع سردیوں کی ٹھنڈی ہوا آہستہ آہستہ کپکپارہی ہے، زمین سے اٹھیتی دھوک بھی شامل ہو کر اسے بوجھل بنارہی ہے، میں نے سر اٹھا کر دیکھا، دور کھڑا ٹھیکیدار سلطانہ کو دیکھ رہا تھا، سورج کی کوئی آخری شعاع کسی بے درد دھڑکی سے اندر آئی آئی ہوئی سلطانہ کے سراپے کو جلا رہی ہے، اور وہ یادوں میں ڈوبی اداس کھڑی ہے، یادیں جس میں اس کا گزرا بچپن ہوگا، ماں باپ کی ملائم شفقت ہوگی، مستقبل کی خوابناک جھلکیاں ہوگی، اس عذاب سے بچنے کیلئے دل کو کوئی راہ نہیں سوچھتی، پتہ نہیں سلطانہ بھی اس درد کو سہانے کی کوشش کرہی ہو، ٹھیکیدار بغیر مقصد کے کھڑا ہے، میں جانتا ہوں وہ بھی میری طرح مایوس ہوکر چلا چائے گا۔نومبر کا سورج دھند آلود فضا میں آہستہ آہستہ اوپر اٹھا رہا تھا کام شروع ہونے والا ہے، مزدور آہستہ آہستہ آکر عمارت کے پاس جمع ہورہے ہیں، سلطانہ اب پہلے سے بھی زیادہ خوبصورت لگتی تھی، سلطانہ کے چہرے پر کھنڈرا پن ہے، بھولا پہلوان آج پہلی بار آکر سلطانہ سے بات کر رہا ہے، میں نے کہا کیوں پہلوان جی کیا ڈھونڈ رہے ہوں، کیا گم ہوگیا ہے، ہو بولا گم تو نہ جانے کیا کیا ہوجاتا ہے، میں تو صرف اپنی گم پیالیاں دھونڈ رہا ہوں، شاید نواب لے آیا ہوں، اس نے سلطانہ پر ایک اچٹتی نظرڈالی سلطانہ، سلطانہ نے جلدی سے سر جھکا لیا، اور برتن اٹھا کر کھڑی ہوگئی۔بھولا پہلوان بے دھیانی سے ادھر ادھر دیکھ رہا تھا، اور پھر چلا گیا ہے، لگتا ہے الفاظ اس کے لبوں میں قید ہوگئے، میں نے کہا سلطانہ کیا نواب کی مار سے تمہیں ڈر نہیں لگتا، وہ کندھے اچکاتے ہوئے بولی مار مار، جب مرد کے پاس پیار نہیں ہوتا تو وہ مارے سے کام چلاوے ہے، اور جندگی صرف مار کھا کر تو نہیں گجرتی، میں تو اس مار سے تنگ آگئی ہو، پھر اسنے تالاب کے کنارے سے اپنے برتنوں کو اٹھایا اور چولہے کے پاس رکھنے کو چل پڑی اب نواب سلطانہ کو پہلے کی نسبت کم مارتا تھا، میں جانتا تھا، پہلوان اپنی دکان پر بیٹھا سلطانہ کو دیکھتا رہتا تھا، اسکے چہرے پر عجیب سی ملائمت آگئی ہے، وہ اپنے گاہکجوں کے ساتھ بڑی نرمی سے بولتا ہے نواب سلطانہ کی تیز نظروں سے کائف ہو کر دوسری طرف رخ موڑ لیتا ہے، اور بڑ بڑ انے لگتا ہے ، مجھے لگتا ہے جیے سلطانہ کے چہرے پر استہزا آمیز مسکراہٹ کھد گئی ہے، وہ میرا نواب کا، اپنی ساس کا مذاق اڑاتی ہوئی لگتی ہے، اس کس طاقت نے خود سر بنادیا ہے، یا پھر وہ بے حسی کے اس درجے میں داخل ہوگئی ہے جہاں سب کچھ بے وقت اور سہارے کے قابل لگتا ہے داکا دروازہ سب پر بند ہوجاتا ہے۔اس روز جب میں ہمیشہ کی طرح داخل ہوا تھا تو نواب کے سارے رشتہ دار فکر مند چہروں کے ساتھ ایک جگہ جمع تھے کام کا وقت ہوگیا تھا۔
میں نے کہا کیا بات ہے کام شروع کیوں نہیں ہوا، تو خیرو نے کہا، آج ہم دھاڑی نہیں لگائیں گے، ہمار گیر ہاجری لگادومں، میں جانتا تھا کہ کوئی بہت بڑی بات ہی انہیں مزدوری سے روک سکتی تھی، عورتیں گھونگھٹ نکالے الگ کھڑی باتیں کر رہی ہیں، ان میں سلطانہ نہیں تھی، میں گھبرا کر پہلوان کی دکان کی طرف دیکھا وہ چائے بنا رہا تھا، اور ایک دو گاہک بیٹھے چائے پی رہے تھے، کیا بات ہے؟ میں غصے سے بولا۔بات کیا ہووے ہے صاحب یہ سطلانہ ہرام جادی رات کو نہ جانے کون سے عاشخ سے مل کر آوے ہے، میں تو تھکا ہارا سو جائوں ہوں اور یہ موجاں مناوے ہے، مار مار تھک گیا یہ منہ سے بولے ہی نہیں ہے، نواب زمین پر بیٹھ کر رونے لگا، بے بسی سے میں پہلی بار اسے روتا دیکھ رہا تھا، مجھے لگا جیسے نواب کا خوبصورت وجود ایک دم بہت سکو گیا ہو، اس کی طاقت کا گمان سلطانہ نے توڑ دیا تھا، سلطانہ جو خرید ہوئی عورت تھی، صاحب میرے تو پنج ہجار مپھت میں جایاویں ہیں، ہاں ہاں پہنج ہجار جایا جاویں ہیں، میں اپنے آپ کو بیچون ہی کویں نا، سلطانہ اس کے سامنے کھڑی غصے سے چلا رہی تھی اس کا چہرہ چوٹوں سے سوجا ہوا تھا، اس کے پھٹے کرتے سے اس کا جسم نظر آرہا تھا، اس کی آواز میں اس کی مجروح ان کی چیح تھی، تو پنج ہجار کو کیا جانے، توتو پنج لاکھ کماسکتی ہو، تیرے عاشخ جو دیویں ہیں تجھے، نواب شیر کی طرح دھاڑا اور اسے مارنے لگا۔لائو میرے بنج ہجار، جائو جہاں مر جی جائو، لائو میرے بنج ہجار، سلطانہ وہی زمین پر بیٹھی بین ڈالنے لگی، میں اس کے پاس جا کر اسے تسلی دینا چاہتا تھا، میں نے کہا سلطانہ تمہیں ایسا نہیں کرنا چاہئیے تھا، قبیلے والے عزت دار آدمی ہیں، کای تم محبت دار نہیں ہو، تم اپنی جورو بیٹی سے کام کیوں نہیں کرواتے، کیوں انہیں گھر کی چار دیواری میں سنبھال کر رکھ ہو، اس لئے تاکہ وہ تمہاری محبت دیکھ رہی تھی، جیسے اس کے اندر سے سارے دکھ سکھ کے جذبات بنجر ہوگئے ہوں۔کہاں سے دوگی پانچ ہزار نواب کو، جانتی ہوں پانچ ہزار جمع کرنا کتان مشکل ہے، میں کچھ کہتے کہتے رک گیا، نواب نے بھی تو کھریدا ہے نام مجھے اب میں اپنے کو اپنی مرجی سے بچوں گی، اپنی مرجی گا گاہک کے پاس، اور اس کی چیخیں ایک دم بلند ہوگئیں، احتجاج کرتی ہوئیں، وہ اپنی زندگی میں آئی ساری محرومیوں کا ماتم کرتی تھی، شاید اور وہ سارے خاموش اسے دیکھ رہے تھے، خوفزدہ لیکن بھپرے ہوئے، پہلوان کی دکان کے تھڑے پر کھڑا اس سارے تماشے کو دیکھ رہا تھا، وہ پہلے کی طرح اندر نہیں آیا، لیکن تیزی سے سگریٹ کے کش لگاتے ہوئے اور گاڑھے دھوئیں کو باہر نکالتے ہوئے وہ بہت چین لگ رہا تھا، میں اس کے پاس چلا گیا اور کہا، پہلوان جی نہ جانے کون سا بانکا سلطنہ کا دل جیت کر لے گیا ہے، کچھ جانتے ہیں آپ؟ سلطانہ سے جاکر پوچھو مجھ سے کیا پوچھتے ہو، سالا مارتا ہے اور سوچتا ہے کہ وہ اس سے ہمیشہ محبت کرتی رہے گی، صاحب عورت کا دل کانچ کا ہوتا ہے، مارو گے تو ضرور ٹوٹے گا اور وہ تیز تیز بازار میں مڑ گیا، پہلوان کی دکان کا چولہا ٹھنڈا تھا۔کام ہمیشہ کی طرح ہو رہا تھا، مزدور سڑک کے کنارے روڑی ڈھیرے پر بیٹھے روڑی کوٹ رہے ہیں اور آپس میں فحش مذاق کررہے ہیں، خواہش، خریدی گئی عورتیں، سروں پر اٹھایا، دنیا کی تماشا گاہ میں انسانی بازی گر کی طرح زندگی کے تنے رسے سے پھر چلنے کی کوشش میں گر گر پڑتاہے ، نواب سلطانہ میں پہلوان اور دنیا کے سارے انسان لیکن پھر بھی چلنے پر مجبور ہیں۔میں نے جاتے جاتے سلطانہ کو مڑ کر دیکھا ہے، نواب سلطانہ کے پاس بیٹھا روٹی کھا رہا ہے، صبح کی ساری بات ایک تماشا لگتا ہے، میں مسکراتا ہوں، سوچ کے کتنے انداز ہیں، سردیوں کا چاند عمارت کی بلندی پر جھکا نیچے جھانک رہا ہے، چولہوں سے اٹھتا دھواں دھند میں شامل ہوا کر اسے بھی گہرا کر رہا ہے، دھند میں لپٹے انسان کی کوشش، اور چاند اکیلئے مسافر کی طرف اداس چہرہ لئے دھند کے ہلکے ہلکے بادلوں میں محو سفر، راہیں ہی راہیں، منزل کے بغیر۔سلطانہ بھاگ گئی، گیٹ میں داخل ہوتے ہی ایک مزدور بھاگا ہوا آیا، میں نے مڑ کر پہلوان کی دکان دیکھی وہ بند تھی، پتہ نہیں کس کے ساتھ، وہ نواب کیلئے پانچ ہزار چھوڑ گئی ہے جی، پورے پانچ ہزار بڑی خراب تھی جی وہ تو ہم نواب کا لحاظ کرتے رہے نہیں تو ہم بھی پیسے دے سکتے تھے، پتہ نہیں کون سالا بھگالے گیا سالی کو، وہ زور سے ہنسا چپ کر بند کرو یہ بکواس میں چلایا اور مجھے لگا میرے جسم سے کوئی چیز ہولے ہولے زمین میں اتر رہی ہو، سلطانہ کے رشتہ دار سب چپ چاپ دائرے میں بیٹھے باری باری حقے کی نوک کو تھامتے ہوئے حقہ پی رہے تھے نواب ہاتھ میں پانچ ہزار روپوں کی گھتی تھامے انہیں بار بار غور سے دیکھ رہا تھا، اور سلطانہ کی ساس اپنے نومولود بچے کو دودھ پلاتے ہوئے بول رہی تھی، اگر کوئی جنا ہوتا تو وہ یوں نہ بھاگتی، مائوں میں جنجیر جو ہوتی، اور یہ بناب بھی تو دان رات مارتا تھا، سوچے تھا عورت ناس جنور ہے، جنور گائی بھی سوٹی کاھنے پر رسہ تڑانے ہے وہ تو آخر جنانی تھی جلم کے ساتھ کب تک نبھاتی، جیادہ نخشان نہیں ہوا ماں، اب میں کوئی ہجار دو ہجار والی عورت بیاہ لوں گا، تین ہجار پھر بھی منافع ہو نا اماں، اور وہ بڑے اطمینان سے روپوں کو اپنے صافے کے پلوں میں باندھ کر اور اماں کو دیتے ہوئے بولا، پنج ہزار کو جمع کرتے کرتے میں تو اپنی آدھی جوانی بتادیتا، لیکن سلطانہ ایک ہی بلے میں مجھے امیر بناگئی اور وہ ہنسنے لگا، مجھے لگا جیسے وہاں پر بیٹھے سارے مرد خوفناک غفریت ہوں، جو عورتوں کو منہ میں پکڑے انہیں بھنھبور کر کھا رہے ہوں، باقی صرف نواب کو دیکھنے لگے اور پھر ایک ایک کرکے عمارت کی طرف بڑھ گئے، عورتوں نے اپنے بچوں کو چار پائیوں پر لٹا دیا، اور مردوں کے پیچھے چل پڑیں۔میں کھڑا سوچ رہا تھا کہ کیا سلطانہ ایک حقیقت تھی یا سایہ، کیا اس کے دامن کے نھنے گھنگرو کی آوازیں میں نے کبھی سن تھی یا میرا تصور ہی تھا، میرا دل بوجھ گلے دبا جارہا ہے،معلوم نہیں یہ بوجھ سلطانہ کی کھوجانے کا ہے یا اپنی محرومی کا، اور کیا سلطانہ جینے کی راہ کی کھوج لگانے نکلی ہے اور کیا، راہ سے مل جائے گی، بھولا پہلوان کی دکان بند ہے اور ایک کتیا اپنے بچوں کو لئے ٹھنڈے چولہے کی راکھ میں بڑے اطیمنان سے بیٹھی ہر آہٹ پر اپنی آنکھیں کھولتی اور پھر بند کرلیتی ہے
جینے کی راہ
جینے کی راہ
ٹیلی فون ایکسچینج کی نئی عمارت بن رہی ہے، عورتوں اور مردوں کا حجم غفیر سروں پر ٹوکریاں اٹھائے ایک دوسرے کے پیچھے چپ چاپ چلتے ہوئے آئے جارہے ہیں، مصالحہ ملانے والی مشین کی آواز کام کی نگرانی کرنے والوں کی آوازوں اور باہر سڑک پر آتی جاتی گاڑیوں کے تیز ہارن مل کر بھی اس خاموشی کو توڑ نہیں سکتے جو مزدوروں کے چہروں پر گہری کھدائی ہوئی ہے ، وہ مسکرانا نہیں جانتے شاید جیسے قسمت کے مضبوط ہاتھوں نے انہیں ان دیکھی رسی سے باندھ رکھا ہو اور انہیں مسلسل حرکت دے رہے ہوں۔
میں باہر کی چار دیواری کے پاس بنے کیبن میں بیٹھا لگاتار سگریٹ پھونکتا رہتا ہوں یا جوان اور مزدور عورتوں کو خاموشی سے گھورتا رہتا ہوں، ان کی رنگین کپڑے جب پسینہ سے شرابور ہو کر جسموں سے چپک جاتے تو میرا دل تیزی سے دھڑکنے لگتا ہے، میں سلطانہ کے جسم کے زاویوں کو دیکھتا ہوں تو میرا سارا جسم لذت بھری خواہش سے اینٹھنے لگتا ہے، تب دوسری ساری آوازیں صرف ایک آواز میں ڈھل جاتی ہیں، سلطانہ کے کرتے کے دامن سے بندھے چھوٹے چھوٹے گھنگرون اور اس کے چڑکلے سے بندھی نھنی نھنی چاندی کی گھنٹیاں اس کے ہر اٹھتے قدم کے ساتھ مجھے ایسا لگتا ہے جیسے سلطانہ ہولے ہولے سسکاریاں بھر رہی ہو، اپنی قسمت کا ماتم کر رہی ہو، اس کا خوبصورت سانولا چہرہ گہری سرخی سے تب جاتا ہے، اس کے قدم ست پڑجاتے ہیں تو اس کا شوہر اسے ڈانٹنے ہوئے کہتا ہے، کیا موت پڑگئی ہے، جو تو یوں چلے ہے، بھگ بھگ نہیں تو یوں جوتیاں ماروں گا کہ یاد ہی کرے گی، سلطانہ کا چہرہ ایک دم راکھ ہوجاتا ہے۔اس کے قدم تیز ہوجاتے ہیں، نھنے نھنے گھنگرو چھنکتے ہیں اور میرا جی چاہتا ہے میں آگے بڑھ کر اس کو اپنے بازئوں میں سمیٹ لوں لیکن میں ایسا نہیں کرسکتا، اس کے شوہر کا مضبوط جسم اور اعتماد سے پر چہرہ ایک خوف بن کر میرے اندر سماجاتا ہے، میں سوچتا ہوں میں کسی نہ کسی روز سلطانہ کو لے کر اس دھوپ بھری دوپہروں اور اس کے شوہر کے قہر بھرے چہرے سے دور لے جائو گا، تب اس کا جوان خوبصورت وجود زیادہ اجلا ہو جائے گا، میرا قصور نہ جانے کہاں کہاں بھٹکنے لگتا ہے میں سوچتا ہو مجھے سلطانہ سے محبت ہے، لیکن میں اس سے محبت نہیں کرتا، بس خوف اور خواہش کے درمیان معلق میں تیزی سے سگریٹ کے کش کھنچتے ہوئے ایک بھڑکتا سا عاشانہ پنجابی گیت گنگنانے لگتا ہوں، ایسا گیت جس میں جسم کا ذکر ہے، جوانی کا ذکر ہے، اور یہ جسم سلطانہ کا جسم ہے، یہ جسم میرا جسم ہے، میرا انہاک چھوٹے سے بچے کی بھوک سے بلبلاتی چیخ سے ٹوٹتا ہے، خدا کی نا انصافیوں پر پہلا احتجاج۔
دوسری مزدور عورت رضیہ میرے کیبن کے پاس آکر رکتی ہے، اس کا کرتا بہے دودھ سے بھیگا ہوا ہے، اس کے کانوں کی بالیاں اور ناک کی لونگ پسینے اور گردن سے میلی ہورہی ہے، لیکن اس کے چہرے پر مامتا کی لپک نے اسے جاندار مجسمے میں ڈھال دیا ہے، میں گانا بند کردیتا اور سوچتا ہوں یہ بھیگا ہوا جسم بھی عورت کا ہے لیکن میں اس کے بارے میں کچھ بھی نہیں سوچ رہا اور منہ پھیر کر بیٹھ جاتا ہوں، میرا ذہن عورت کے اس روپ کو قبول نہیں کرتا، عورت تو صرف عورت ہے جس کے جسم کے کتنے زاوئیے مرد کو مدہوش کردیتے ہیں، اسکے اندر کا شیطان پوری طرح چوکس ہوجاتا ہے میں رضیہ کو دیکھ کر مسکراتا ہوں لیکن وہ اپنے بچے پر جھگی سے چوم رہی ہے اور پھر اسے میلے کپڑے پر لٹا کر واپس چلی جاتی ہے، اور مجھے ایسا لگتا ہے جیسے مجھے اس نے دھتکار دیا ہو میرے اندر کا مرد تلمانے لگتا ہے۔با اختیار اور خود پسند مرد، سورج آسمان پر سفر کرتا ہو مغرب کی طرف جھک گیا ہے نگرانی کرتے کارندے تھکن سے نڈھال عورتیں گھٹے ہوئے جمسوں والے جوان مرد میرے کیبن کے سامنے اکھٹے ہورہے ہیں، گرد آلود ہوا بجری کے ڈھیروں اور بگھری ہوئی ریت پر آہستہ آہستہ رنگ رہی ہے، اور عورتوں کے بدبو دار کپڑوں میں سے گزرتی ہوئی چاروں طرف گھوم رہی ہے، سلطانہ نے اپنے گہرے سیاہ دوپٹے کے پلو سے اپنا منہ پونچا ہے اور چپ چاپ اپنے شوہر کے پاس کھڑی اپنی مزدوری کی منتظر ہے، ٹھیکدار اپنی سیاہ ٹیوٹا گاڑی کو تیزی سے اندر لاتے ہوئے ایک دم روکتا ہے اور تیز تیز قدم رکھتا کیبن میں آکر ایک کرسی پر بیٹھ جاتا ہے، میں رجسٹر میں نام لکھتا جاتا ہوں اور بڑھے ہوئے ہاتھ پر نوٹ رکھتا جاتا ہوں، میں جانتا ہوں سلطانہ کا ہاتھ چاندی کی انگوٹھیوں کا بوجھ سنبھالے آہستہ سے آگے بڑھے گا اور پھر لیکن نہیں میں ایسا نہیں کرسکتا، ٹھیکدار مسکرا کر اس کا حال پوچھتا ہے وہ مسکراتی ہے لیکن خوفزدہ سی اپنے شوہر کو دیکھتی ہے، اور میرا جی چاہتا ہے کہ میں ٹھیکدار کو اٹھا کر باہر پھینک دوں لیکن میں ایسا نہیں کرسکتا، میں جو سارا دن اس چھوٹے سے کیبن میں پنکھے کے نیچے آرام سے بیٹھا رہتا ہوں، اتنا ہی بے بس ہوں، ٹھیکدار کے سامنے ہاتھ پھیلانے والا پڑھا لکھا مزدور۔۔۔۔۔میں نے سلطانہ کے ہاتھ میں روپے رکھتے ہوئے اسے آہستہ سے چھوا ہے اور میرے سارے جسم میں سنسنی سی دوڑ گئی ہے ، میرا سارا جسم ایک دفعہ پھر خواہش سے تب گیا ہے۔سڑک کی دوسری طرف چائے کی ایک دکان کے سامنے بچھی بے رنگ میز کرسیوں پر چند جوان لڑکے بیٹھے چائے پی رہے ہیں اور ننگی نظروں سے عورتوں کو گھور رہے ہیں، میں انہیں کچھ نہیں کہہ سکتا، چائے خانے کا مالک بھولا پہلوان بے داغ بوسکیکی قمیض شلوار پہنے، بالوں میں خوشبودار تیل لگائے سگریٹ سے گاڑھے دھوئیں کے مرغولے بناتے ہوئے ایک طرف بیٹھا لڑکوں کو ڈانٹ رہا ہے، اس کے جوان چہرے پر سنجیدگی اور ٹہرائو ہے، اپنا کام کرو، چائے کو دیکھو، غیر عورتوں کو گھورنا ہے تو آئندہ یہاں نہیں آنا، وہ بھی کسی کی ماں بہنیں ہیں سمجھے، اس نے تیزی سے سگریٹ کی راکھ چٹکی بجا کر زمین پر جھٹکا ہے، لڑکے مسکراکر چائے پینے لگے ہیں اور پھر چائے کی قیمت چکا کر اٹھ جاتے ہیں اور ان منے قدموں سے مڑ مڑ کر دیکھتے ہوئے آگے چل پڑتے ہیں، میں بھی ان کی طرح عورت کے وجود اور اس کے سحر سے آگاہ ہوں اور سلطانہ کا جسم، ہر چیز خریدی جاسکتی ہے، چائے کی پیالی، سگریٹ کا پیکٹ، عورت کا جسم اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ ساری مزدوری کرتی اور عورتیں بھی خریدی گئی ہیں، رضیہ کی قیمت پندرہ سو تھی، انوراں کے مضبوط بازو اس کے شوہر کو پورے دو ہزارے روپے میں پڑے تھے، ریزواں کے اونچے آگے کو بڑھے دانتوں کی وجہ سے اس کے باپ کو صرف آٹھ سو روپیہ ملا تھا، اور یہ سلطانہ اسے نواب نے پورے پانچ ہزار میں خریدا تھا۔نواب نے ایک روز میرے پاس بیٹھے ہوئے اپنے ہاتھ کی پانچویں انگلیوں کو پورا پھیلاتے ہوئے کہا تھا، بابو صاحب میں نے سلطانہ کو دن رات کی کمائی جمع کرکے پورے پنج ہجار میں کھریدا ہے جی، اب میں کیا اسے سر پر بٹھائو، میں نے تو اپنے پیسے پورے کرنے ہیں، مجدوری تو یہ کرے ہی کرے اور میں نے نواب کے پاس بیٹھی اس معصوم کو دیکھ جس کی آنکھیں ایک دم بجھ گئی تھیں، اور اس کا خوبصورت چہرہ اس کے گلابی کڑھے وہے کرتے اور نھنے گھنگرو و لگے دامن کے درمیان ایسے لگنے لگا تھا جیسے بجھی سگریٹ دھواں دینے لگی ہو، میں زور سے ہنسا اور بولا نواب مہنگی چیز کی تو حفاظت کی جاتی ہے، سنبھال کر رکھا جاتا ہے، اور تم اپنی اتنی مہنگی جورو کو راکھ میں ڈال دیا ہے، کیا تمہیں اس سے محبت نہیں، جی محبت تو مجھے سلطانہ سے ہے جی جبھی تو میں نے پورے دس سال کے بعد اس کے باپ کو بڑی منتوں کے بعد شادی پر راجی کیا تھا جی، وہ تو مانے ہی نہیں تھا، کہتا تھا میری سلطانہ بہت کھوبچھورت ہے، اس کے تو پورے دس ہجارے ہی لوں گا، نواب کا جوان چہرہ جھیلے ہوئے انتظار کے کرب سے سخت ہوگیا، وہ انتظار جو اس نے برسوں روپوں کی گنتی پورے ہونے کے انتظار میں اٹھایا ہوگا، اس کا دل لحظ لحظ اس کے انتظار میں بھیگا ہوگا، اور اب نواب سلطانہ سے اس ساری محبت اور تک ودو کی قمیت وصول کر رہا ہے، کیا یہ محبت تھی، یا انسانی فطرت کا تقاضا تھا، جسم کی سچائی ہی سب سے اونچی پکار بن جاتی ہے۔نواب نے سگریٹ کو بھجا کر جیب میں رکھا اور میری طرف دیکھ کر بولا، بابو صاحب تم جانو جندگی بڑی کھٹن ہوئے ہے، روپیہ پیہ ہی تو طاقت ہے، بیماری شماری میں عورت تو کام نہ آوے، پیشا کام آوے پیشا، اور پھر ہمارے باپ دادوں نے ایسا ہی ہوتا آوے ہے، قیمت تو چکانی ہی پڑے ہے، اور کیا مرد کوئی قیمت نہ ہووے، ہووے صاحب میرے جیسا جوان سلطانہ کو دکھے ہے کوئی دوسرا اس ساری ٹکڑی میں جانچو تو جرا، کوئی دکھے ہے میرا جیسا جتا وہ بڑے اعتماد سے مسکرایا، سلطانہ تو اپنے آپ کو بڑھا بھاگوان سمجھے ہے، بڑی کھٹن ہے، منے سنگ، کیوں ری تو تو بول اس نے سلطانہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا اور سلطانہ نے شرما کر سر جھکا لیا، میں جانتا ہوں میں جو بڑھیا سگریٹ پیتا ہوں اچھے کپڑے پہنتا ہوں، نواب اس کے سامنے اپنے آپ کو حقیر اور چھوٹا سمجھتا ہے، اس کے سارے جذبے سچے اور کھرے ہیں، اور میں میرا ہر احساس صرف جھوٹ میں لپٹا ہوا ہے، میں اپنے اندر کی سچائی کو اپنے سامنے عیاں کرنے سے بھی گھبراتا ہوں، میں ابھی صرف جسم کو پہنچانتا ہوں، لیکن اسے محبت کا رنگ دیتا ہوں، دھواں آسمان کی طرف اٹھتا ہے اپنے بازئوں پر بھروسہ ہی ان کا ایمان ہے شام کے آسمان پر چیلیں ظمانیت بھرے پر پھیلائے دائرے میں اڑ رہی ہیں طمانیت کہاں ہے، پیسے کمانے میں محبت کرنے میں یا محبت کی قیمت چکانے میں، میں نے سلطانہ کی طرف دیکھا ہے، وہ اپنی ساس کے پاس چپ چاپ بیٹھی اڑتی چیلوں کو دیکھ رہی ہے، اس کا چٹلا ساکت ہے، اس کے دامن کے گھنگروں بھی ساکت ہیں اور مجھے لگ رہا ہے جیسے سب کچھ تھم گیا ہو، رک گیا ہو۔میں جاتے جاتے رک جاتا ہوں کھٹی لسی میں پکائے گئے چاولوں کی ناورا بوسب طرف پھیلی ہوئی ہے، لیکن میں اس بوکو سونگھنے بغیر ایک اور بو سنگھنے کی کوشش کر رہا ہوں، جو سلطانہ کے جسم سے اٹھ رہی تھی عورتوں کے رنگین چھینٹ کے کپڑے متیالے ہوچکے ہیں، لاکھ کے سفید چوڑوں سے بھرے بوزو ناک میں پڑی ہوئی بڑی لونگین ، کلون میں لٹکے کنٹھے ان عورتوں کی ساری زندگی کی بس اتنی ہی تو قیمت ہے لیکن میں سلطانہ کیلئے اس سے کہیں زیادہ دے سکتا ہوں، میں سلطانہ کا سودا دل ہی دل میں طے کرلیتا ہوں، سونے کے زیورات، ریشمی کپڑے اور شاید کسی روز میں یہ سودا کرسکوں، شاید کبھی میں اس کو چھو سکوں، میں گیٹ سے باہر سڑک کے کنارے بھولا پہلوان کے چائے خانے پر جا کر بیٹھ جاتا ہوں شاید میں تھک گیا ہوں، معلوم نہیں تک ودو کی کون سی منزل ہے کوئی نہیں بتاتا، ہر ایک کو اپنی راہ خود ہی ڈھونڈنی پڑتی ہے۔کیوں بابو صاحب تھک گئے ہوکیا، اوئے چھوٹے ملائی والی چائے لانا گرم گرم، اور بھولا پہلوان میرے پاس آکر بیٹھ گیا، اس نے سگریٹ کا تیز کش لیتے ہوئے میرے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا ہے کچھ کہتا ہوا کچھ مانگتا ہوا ہاتھ میں اس کی طرف دیکھ رہا ہوں۔بابو صاحب یہ جوان سی چھوکری ہے نا جو ۔۔۔۔نئی نئی آئی ہے مزدوری کرنے کیا نام ہے سلطانہ۔۔۔۔ہان سلطانہ اس نے بڑی گڑ بڑ پھیلادی ہے جی چھو کرو میں، میں تو حرامیوں کو بیٹھنے ہی نہ دوں اڈے پر، پر کیا کروں دھندا ہی ایسا ہے، اس کیگھر والے کو کہیں کہ اسے کھلے عام نہ لئے پھرے، نہیں تو کسی سن کسی چھوکرے سے سنگ بھاگ جاوے گی، پہلوان کے لہجے میں فکر مندی تھی، کم بخت غریب ہوکر بھی اتنی نازک لگتی ہے، جیسے کانچ کی بنی ہوئی ہو، اللہ اپنی کاری گری کہاں ضائع کردیتا ہے، کیا ضرورت تھی اسے ایسا بنانے کی، لیکن میں نواب کو کیسے کہہ سکتا ہوں میرا اس کا کائی ناتہ تو ہے نہیں نہیں جی اونچ نچ تو سمجھانی پڑتی ہے، آپ ان کے انچارج جوہوئے اور میں سوچ رہا ہوں کہ سلطانہ نہ صرف مجھے نظر آتی ہے، دوسرے بھی اسے دیکھتے ہیں دوسرے بھی اسکی خوبصورتی سے مسحور ہیں، میں نے کہا پہلوان جی نواب اس کی قیمت جانتا ہے اس کی حفاظت کرے گا، یہ لوگ بار بار شادی نہیں کرسکتے ان کے پاس بیوی خریدنے کیلئے پیسے کہاں، میں سمجھائوں گا، اسے خوب بھی تو چھوکرا سا ہے، اور شہر کی ہوا عورتوں کو بہت جلد بدل دیتی ہے، مردوں کی نظرین دلوں میں اتر جاتی ہیں جی، وہ بہت جلد سمجھ جائے گی، کہ وہ کتنی خوبصورت ہے، پہلوان کی آنکھیں سوچ میں ڈوبی ہوئی تھیں، اور وہ گہرے کش کھینچ رہا تھا، میں نے پھر کہا پہلوان جی لڑکے کے ماں باپ بھی تو ساتھ ہیں، وہ کہاں جائے گی۔پر بابو صاحب آپ نے کبھی لڑکی کی آنکھوں میں جھانکا ہے، ہر روز مار کھانے والی عورت زیادہ دیر ایسے مرد کے پاس نہیں رہتی، کیا ہے اس کی آنکھوں میں میں تجسس سے بولا، کچھ تو ہے، جیسے وہ رو رہی ہو، اور پھر بغاوت بھری ہے جی، پر پہلوان جی آپ نیکیسے پڑھیں اس کی آنکھیں، میں ہنس کر بولا، بابو جی میں بازار میں بیٹھنے والا آدمی ہوں، راہ جاتی عورت کی چال دیکھ کر پہچان جاتا ہوں کہ کس قماش کی عورت ہے، چالو ہے یا گھر دار، پر نواب سے بہتر اسے کوئی اور کیا ملے گا، آپ بھولے شاہ ہیں، عورت جو کچھ چاہتی ہے، نواب کے پاس نہیں، سختی دلوں کو پتھر بنا دیتی ہے، اور ہ تو کانچ کی بنی لگتی ہے، اور نواب اس کی قیمت کیا جانے، اس کے لیئے تو وہ ایک ٹوکری ہے بوجھ ڈھونے والی۔میں پہلوان کے ذاتی تجربات کے بارے میں کچھ نہیں جاتا ، ہمارا اس کا چند ماہ سے ہی تو ساتھ ہوا ہے، میں اتنا جانتا ہوں وہ سڑک پر جاتی عورت کو گھورتا نہیں اور نہ دوسروں کو گھورنے دیتا ہے، غیر محسوس طور پر سب اس سے ڈرتے ہیں اور اس کی عزت کرتے ہیں، سلطانہ اور مرد سلطانہ اور اس کا شوہر، عورت کی قیمت چند ہزار روپے، نقلی زیور، بے باک نظرین، شاید ہم سب کو اس کا بکائوں مال سمجھتے ہیں، اسے خریدنا چاہتے ہیں، شاید نواب اپنی چیز کی قیمت سے پوری طرح واقف ہے اس کی حفاظت کرنا جانتا ہے، عمارت بلند ہو رہی ہے، اور ساتھ ہی میرے دل میں سلطانہ کا خیال، میں اسکے وجود سے ہر لمحہ آگاہ رہتا ہوں، اس لئے اس کے اندر آئی تبدلیاں مجھے سب سے زیادہ نظر آتی ہیں۔وہ سب ہمیشہ کی طرح چپ چاپ کام کئے جاتے ہیں، لیکن مجھے لگتا ہے جیسے آوازوں کا شور اٹھ رہا ہو اور ان آزوازوں میں سلطانہ کی بولتی آنکھوں کی آواز سب سے بلند ہو، اب وہ اپنی مزدوری لینے کیلئے جب ہاتھ بڑھاتی ہے تو ماتھے تک کھنچے ہوئے گھونگھٹ میں ان کی آنکھیں مسکرانے لگتی ہیں، نواب اسے جھڑکتے ہوئے کہتا ہے، توہٹے گی یا میں لات دوں، میں نے دیکھا ہے، کہ نواب بھی اس کے اندر آتی جاتی تبدیلی سے آگاہ ہے، وہ اسے اب بات بے بات مارنے لگتا ہے، اس کی ساس بھی اسے پیٹتی رہتی ہے، لوکل مزدور کام کے بعد بڑے اہتمام سے نہاتے ہیں، تیل لگاکر بال بناتے ہیں، اور آہنس میں دور بیٹھے مذاق کرتے رہتے ہیں، بوڑھے رحیم نے جب اپنے بالوں کو بڑے اہتما سے خضاب سے رنگا تو سب جواب چھوکروں نے اس کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کیوں رحیم بابا نئی شادی کرنے لگے ہو۔میں ابھی بھی تم چار پر بھاری ہوں، سلطانہ منہ پر پلو رکھے آہستہ آہستہ ہنستی رہیتی اور رحیم بابا اپنی داڑھی اور بالون پر بار بار ہاتھ پھیرتا اسے دیکھتا رہتا ہے، اب جب نواب بھولا پہلوان کے چائے خانے پر جات اے تو وہ بھی جا کر کھڑی ہوجاتی ہے، بھولا اسے بھی ملائی والی چائے پلاتا ہے، اور مس جانتا ہوں ایک نا ایک دن کچھ ایسا ہوگا، جو نواب کے حق میں اچھا نہ ہوگا، اب نواب اسے پہلے سے بھی زیادہ مارتا ہے، وہ ہجری پر چادر لے کر لیٹ جاتی اور پھر کبھی کبھی چادر کا کونہ مجھے دیکھ کر مسکراتی ہے، میں جواب میں سکرا نہیں سکتا، وہ بہت سارے اور میں اکیلا، لیکن میں بے مقصد ہی وہاں رکا ہوا ہوں، میں سلطانہ کو ٹھیکیدار کے جوان بیٹے کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں، لیکن اتنے مزدوروں کے ہجوم میں اس سے بات نہیں کرسکتا، میں سلطانہ کے بارے میں فکر مند ہوں اسے مزدوروں کی نظروں سے بچانا چاہتا ہوں، اس روز سلطانہ میرے کیبن میں اکیلی آئی تھی، اور اس نے اپنی بڑی بڑی بھوری بھوری آنکھوں کو کھولتے ہوئے کہا تھا، ایک بات کرو صاحب، کیا تم میری مجدوریبڑھا نہیں سکتے، میں نئے کپڑے بنائو گی، اور اس نے اپنی پھٹا کرتا مجھے دکھایا، میں ہنسا، شاید سلطانہ میری نظروں کے پیغام کو جان گئی ہو، میں کہا، نواب کو کیوں نہیں کہتی ہو، وہ ایک دم چپ ہوگئی، اس کی آنکھیں کسی دکھ سے بھیگ گئی تھیں، وہ بولی نواب تو بس روپے جمع کرے ہے، اسے میرا ننگا بدن نجر نہیں آوے ہے، کیا میں بنادوں تجھے نئے کپڑے ، میں اس کے سامنے کھڑے ہوکر بولا وہ ایک دم کھڑی ہوگئی، ناں جی، کپڑے تو میں اپنی مجدوری سے ہی بنائوگی، بس تم میری مجدوری بڑھا دوں، پر نواب کو نہ بتانا، اور وہ جلد ہی باہر چلی گئی اور مسکرانے لگا، بھولا پہلوان نے ہی تو کہا تھا، شہر عورت کو بڑی جلدی بدل دیتا ہے، باہر موسم کی پہلی بارش ہو رہی تھی، سیاہ بالوں کے پرے سے پرے آسمان کے کناروں سے اٹھ کر چاروں طرف پھیل گئے تھے، میں کیبن کے دروازے پر کھڑا گہرے بادلوں کو ایک دوسرے میں مد غم ہوتے دیکھ رہا تھا، اور سلطانہ کا جسم میرے تصور میں چھایا ہوا تھا، وہ عمارت کے بر آمدے میں کھڑی اداس نظروں سے انہیں دیکھ رہی تھی اور پھر شاید وہ رونے لگے، اس کے آنسو کے رخساروں کو بگھورے تھے، دکھ بھرے آنسو۔اس کا سنہری بدن کڑکتے بادل، آنسوئوں سے بھیگے گال اور پھٹا کرتا، انسان چھوٹی چھوٹی خواہشوں کی تکمیل کیلئے کوشان کتنا بے بس معلوم نہیں رات کا ساتھ مرد عورت کو رہنی طور پر قریب لاتا ہے، کتنا دو کرتا ہے، اور کیا رات کا ساتھ ہی سب سے بڑی سچائی ہے میں سوچ رہا تھا، سوچ جو مثبت نہیں تھی، سلطانہ بدل رہی ہے، میں جانتا ہوں لیکن اس کا اور میرا فاصلہ بدستور قائم ہے، میں ہمیشہ کا ڈر پوک آدمی ہوں، عزت جانے کا ڈر، نوکری جانے کا ڈر، سلطانہ نے بہت کچھ سیکھ لیا ہے، اس کے چہرے پر غرور اور اعتماد نے اسے عمر سے بڑا بنادیا ہے، اب وہ جس سے جی چاہتا، باتیں کرنے لگتی ہے، بھولے کی دکان پر جارک چائے پیتی ہے، نواب سے مار کھا کر بھی زیادہ نہیں راتی، ساس اور سسر سے نہیں ڈرتی، بھول ٹھیک کہتا تھا کہ اس کی آنکھوں میں بغاوت بھری ہوئی ہے، شہری عورتوں نے غیر محسوس طور پر اسے بدل دیا ہے، ایک روز میں نے موقع پاکر سلطانہ کبھی مجھے بھی خدمت کا موقع دو، وہ زور سے ہنسی اور بولی ایسی ہی بات ہے ٹھیکدار کے بیٹے نے بھی کہی تھی ایسا لگے ہے جیسے یہاں کے سارے میرے ہی عسح مس گلتاں ہیں، کسی کو کوئی ور کام نہیں ہووے، ہے نا مجے کی بات، سچ بڑا مجا آوے ہے، جب نواب دیکھ کر جلے ہے، دیکھو وہ کھڑا گھورے ہے، بے چارا نواب، اور زور زور سے ہنسنے لگی، میں اس کی بے باکی پر حیران تھا، میں کہا، سلطانہ کیا تجھے نواب سے ڈر نہیں لگتا، جان سے مار ڈالے گا تجھے۔وہ بولی ڈروں ہوں، جرور ڈرو ہوں لیکن اتنا جانوں اور مجھے جان سے نہیں مارے گا، اس کا نخنشان کون پورا کے گا، ما ہی کروں گی نا، پھر میرے مرنے کا سے پھائدہ، وہ اپنی جرورت کیلئے مجھے جندہ رہنے دے گا، جرور جندہ رہنے دیگا، اور رہ بڑی لا پرواہی سے آگے چل دی۔وہ ان ساری زیادتیوں کا بدلہ لے رہی تھی، لیکن وہ یہ نہیں جانتی کہ نقصان صرف عورت کا ہی ہوتا ہے، گھاٹے میں صرف اس کی ذات رہتی ہے مجھے اس کی بیبا کی اچھی نہیں لگتی جیسے اس نے اپنی روح کی معصومیت کو بے مول بیچ دیا ہو، میں تو اس سلطانہ سے محبت کرنے لگا تھا جو نواب کی مارکھا کر بھی سہی رہتی تھی، ساس کی جھڑکیاں کھا کر بھی سر جھکا لیتی تھی، اس دن ڈھیکڈار کے بیٹے نے بڑی رازداری سے کہا کیا کسی طرح یہ سلطانہ ہاتھ نہیں لگ سکتی، ور میرا جی چاہا میں آگے بڑھ کر اس کا گلا دبا دوں، لیکن سلطانہ کولر کا پانی لینے کیلئے خود ہی آگئی، ٹھیکیدار، کے بیٹے کی نظروں میں ننگی بھوک تھی وہ بولا، آئو سلطانہ تمہیں اپنی گاڑی میں سیر کروا لائوں۔۔۔چلو گی میرے ساتھ، وہ گھبرائی نہیں، بس چل چاپ سے دیکھنے لگی اور بولی، صاحب میرا مرد جندہ ہے مرا نہیں ہے، اور اس جیسا کوئی ہوتو جانو اور چلی گی، شاید وہ سب کچھ جو میں دیکھتا رہتا ہو، محض نواب کو جلانے کیلئے ہو، ٹھیکدار کا بیٹا عورت خریدنی جانتا ہے عورت جیتنا نہیں وہ تلمتا ہوا چلا گیا، اور پھر کبھی نہیں آیا، سلطانہ اپنے آپ کو بیچنا نہیں چاہتی تھی، اس روز جانے کیا بات ہوئی کہ نواب نے اسے چٹیا سے گھسیٹا اور چلا کر پیٹنا شروع کردیام حرا مجاری گیر مردوں کے سنگ مجاخ کرے ہے، میں تیرے سب لچھن سمجھوں ہوں، میں نے پنج ہجار اس لئے تو نہیں بس بھرے تھے کہ دوسروں کے سنگ موج مناوے، سلطانہ کی ساس بھی چلا چلا کر الزام لگا رہی تھی، گندی گندی گالیاں بک رہی تھی، سلطانہ زور زور سے رونے لگی، ہاںہان میں دوسروں کے سنگ موج منائون ہوں میں نہیں رہتی تیرے سنگ، جالم مرد، دیکھ لینا ایک دن جرور بھاگ جائوگی، تو دیکھتا رہ جاوے گا، سب نے کام روک دیا اور ان کی لڑائی دیکھنے لگے، اس کا باپ روک رہ تھا، لیکن وہ جنونی طورت پر سلطانہ کو مار رہا تھا، میں تجھے جان سے ہی مار ڈالوں گا۔
بھولا پہلوان بھاگتا ہوا آیا، اس نے نواب کے دونوں بازوں سے تھام لیا اور چلایا، ہوش کر نواب مرجائے گی، تو کون ہے روکنے والا، اس کا باپ بوالا، میں ہوں، میں ہوں تمہاری بیویں کا یار، سور کی اولاد، بے بس عورت پرظلم کرتے ہیں، اور شرمندہ بھی نہیں ہوتے، عورت کو خریدتے ہیں، بے غریب اور پھر اس ظلم کرتے ہیں جیسے وہ کوئی جانور ہو، سلطانہ کھلی آنکھوں سے بھولا پہلوان کو دیکھ رہی تھی، اس کیبال بکھرے ہوئے تھے پتہ نہیں بھولا نے نواب کے بازو چھوڑ دئیے اور بڑ بڑاتا ہوا واپس چلا گیا، کام دوبارہ شروع ہوگیا، سلطانہ کی سسکیاں کبھی کبھار گونجتیں اور تھم جاتیں، سب مزدور چپ چاپ کام کررہے تھے، جیسے وہ احتجاج کرہے ہوں۔میں وہاں کھڑا گہری اداسی میں ڈوب گیا جیسے یہ ساری عورتین آہوں کی زنجیر میں بندھی مسلسل منزل کی تلاش میں ہوں، زندگی کی تلاش میں ہوں، اور مرد ہاتھوں میں کوڑے لئے انہیں آگے کو دکھیل رہے ہوں ان کی برہنہ پشتوں پر ماررہے ہیں، سلطانہ کی بھیگی آنکھیں سارے ماحول کو تسکین زدہ کر رہی تھی ، یہ ٹوکری اٹھائے مزدوری کرتی خوبصورت لڑکی ہماری زندگیوں کے خانے میں کہیں بھی فٹ نہیں ہوسکتی، میں جانتا ہوں ، اس کے جسم کے تو قیمت دی جاسکتی ہے لیکن اس ان کی روح میں کوئی بھی جھانکنا پسند نہیں کرے گا، وہ ہمیشہ تنہا رہے گی، ہمیشہ زندگی کی تلاش میں سر گرداں۔روز کی طرح شام کا سورج ڈوب رہا تھا، شروع شروع سردیوں کی ٹھنڈی ہوا آہستہ آہستہ کپکپارہی ہے، زمین سے اٹھیتی دھوک بھی شامل ہو کر اسے بوجھل بنارہی ہے، میں نے سر اٹھا کر دیکھا، دور کھڑا ٹھیکیدار سلطانہ کو دیکھ رہا تھا، سورج کی کوئی آخری شعاع کسی بے درد دھڑکی سے اندر آئی آئی ہوئی سلطانہ کے سراپے کو جلا رہی ہے، اور وہ یادوں میں ڈوبی اداس کھڑی ہے، یادیں جس میں اس کا گزرا بچپن ہوگا، ماں باپ کی ملائم شفقت ہوگی، مستقبل کی خوابناک جھلکیاں ہوگی، اس عذاب سے بچنے کیلئے دل کو کوئی راہ نہیں سوچھتی، پتہ نہیں سلطانہ بھی اس درد کو سہانے کی کوشش کرہی ہو، ٹھیکیدار بغیر مقصد کے کھڑا ہے، میں جانتا ہوں وہ بھی میری طرح مایوس ہوکر چلا چائے گا۔نومبر کا سورج دھند آلود فضا میں آہستہ آہستہ اوپر اٹھا رہا تھا کام شروع ہونے والا ہے، مزدور آہستہ آہستہ آکر عمارت کے پاس جمع ہورہے ہیں، سلطانہ اب پہلے سے بھی زیادہ خوبصورت لگتی تھی، سلطانہ کے چہرے پر کھنڈرا پن ہے، بھولا پہلوان آج پہلی بار آکر سلطانہ سے بات کر رہا ہے، میں نے کہا کیوں پہلوان جی کیا ڈھونڈ رہے ہوں، کیا گم ہوگیا ہے، ہو بولا گم تو نہ جانے کیا کیا ہوجاتا ہے، میں تو صرف اپنی گم پیالیاں دھونڈ رہا ہوں، شاید نواب لے آیا ہوں، اس نے سلطانہ پر ایک اچٹتی نظرڈالی سلطانہ، سلطانہ نے جلدی سے سر جھکا لیا، اور برتن اٹھا کر کھڑی ہوگئی۔بھولا پہلوان بے دھیانی سے ادھر ادھر دیکھ رہا تھا، اور پھر چلا گیا ہے، لگتا ہے الفاظ اس کے لبوں میں قید ہوگئے، میں نے کہا سلطانہ کیا نواب کی مار سے تمہیں ڈر نہیں لگتا، وہ کندھے اچکاتے ہوئے بولی مار مار، جب مرد کے پاس پیار نہیں ہوتا تو وہ مارے سے کام چلاوے ہے، اور جندگی صرف مار کھا کر تو نہیں گجرتی، میں تو اس مار سے تنگ آگئی ہو، پھر اسنے تالاب کے کنارے سے اپنے برتنوں کو اٹھایا اور چولہے کے پاس رکھنے کو چل پڑی اب نواب سلطانہ کو پہلے کی نسبت کم مارتا تھا، میں جانتا تھا، پہلوان اپنی دکان پر بیٹھا سلطانہ کو دیکھتا رہتا تھا، اسکے چہرے پر عجیب سی ملائمت آگئی ہے، وہ اپنے گاہکجوں کے ساتھ بڑی نرمی سے بولتا ہے نواب سلطانہ کی تیز نظروں سے کائف ہو کر دوسری طرف رخ موڑ لیتا ہے، اور بڑ بڑ انے لگتا ہے ، مجھے لگتا ہے جیے سلطانہ کے چہرے پر استہزا آمیز مسکراہٹ کھد گئی ہے، وہ میرا نواب کا، اپنی ساس کا مذاق اڑاتی ہوئی لگتی ہے، اس کس طاقت نے خود سر بنادیا ہے، یا پھر وہ بے حسی کے اس درجے میں داخل ہوگئی ہے جہاں سب کچھ بے وقت اور سہارے کے قابل لگتا ہے داکا دروازہ سب پر بند ہوجاتا ہے۔اس روز جب میں ہمیشہ کی طرح داخل ہوا تھا تو نواب کے سارے رشتہ دار فکر مند چہروں کے ساتھ ایک جگہ جمع تھے کام کا وقت ہوگیا تھا۔
میں نے کہا کیا بات ہے کام شروع کیوں نہیں ہوا، تو خیرو نے کہا، آج ہم دھاڑی نہیں لگائیں گے، ہمار گیر ہاجری لگادومں، میں جانتا تھا کہ کوئی بہت بڑی بات ہی انہیں مزدوری سے روک سکتی تھی، عورتیں گھونگھٹ نکالے الگ کھڑی باتیں کر رہی ہیں، ان میں سلطانہ نہیں تھی، میں گھبرا کر پہلوان کی دکان کی طرف دیکھا وہ چائے بنا رہا تھا، اور ایک دو گاہک بیٹھے چائے پی رہے تھے، کیا بات ہے؟ میں غصے سے بولا۔بات کیا ہووے ہے صاحب یہ سطلانہ ہرام جادی رات کو نہ جانے کون سے عاشخ سے مل کر آوے ہے، میں تو تھکا ہارا سو جائوں ہوں اور یہ موجاں مناوے ہے، مار مار تھک گیا یہ منہ سے بولے ہی نہیں ہے، نواب زمین پر بیٹھ کر رونے لگا، بے بسی سے میں پہلی بار اسے روتا دیکھ رہا تھا، مجھے لگا جیسے نواب کا خوبصورت وجود ایک دم بہت سکو گیا ہو، اس کی طاقت کا گمان سلطانہ نے توڑ دیا تھا، سلطانہ جو خرید ہوئی عورت تھی، صاحب میرے تو پنج ہجار مپھت میں جایاویں ہیں، ہاں ہاں پہنج ہجار جایا جاویں ہیں، میں اپنے آپ کو بیچون ہی کویں نا، سلطانہ اس کے سامنے کھڑی غصے سے چلا رہی تھی اس کا چہرہ چوٹوں سے سوجا ہوا تھا، اس کے پھٹے کرتے سے اس کا جسم نظر آرہا تھا، اس کی آواز میں اس کی مجروح ان کی چیح تھی، تو پنج ہجار کو کیا جانے، توتو پنج لاکھ کماسکتی ہو، تیرے عاشخ جو دیویں ہیں تجھے، نواب شیر کی طرح دھاڑا اور اسے مارنے لگا۔لائو میرے بنج ہجار، جائو جہاں مر جی جائو، لائو میرے بنج ہجار، سلطانہ وہی زمین پر بیٹھی بین ڈالنے لگی، میں اس کے پاس جا کر اسے تسلی دینا چاہتا تھا، میں نے کہا سلطانہ تمہیں ایسا نہیں کرنا چاہئیے تھا، قبیلے والے عزت دار آدمی ہیں، کای تم محبت دار نہیں ہو، تم اپنی جورو بیٹی سے کام کیوں نہیں کرواتے، کیوں انہیں گھر کی چار دیواری میں سنبھال کر رکھ ہو، اس لئے تاکہ وہ تمہاری محبت دیکھ رہی تھی، جیسے اس کے اندر سے سارے دکھ سکھ کے جذبات بنجر ہوگئے ہوں۔کہاں سے دوگی پانچ ہزار نواب کو، جانتی ہوں پانچ ہزار جمع کرنا کتان مشکل ہے، میں کچھ کہتے کہتے رک گیا، نواب نے بھی تو کھریدا ہے نام مجھے اب میں اپنے کو اپنی مرجی سے بچوں گی، اپنی مرجی گا گاہک کے پاس، اور اس کی چیخیں ایک دم بلند ہوگئیں، احتجاج کرتی ہوئیں، وہ اپنی زندگی میں آئی ساری محرومیوں کا ماتم کرتی تھی، شاید اور وہ سارے خاموش اسے دیکھ رہے تھے، خوفزدہ لیکن بھپرے ہوئے، پہلوان کی دکان کے تھڑے پر کھڑا اس سارے تماشے کو دیکھ رہا تھا، وہ پہلے کی طرح اندر نہیں آیا، لیکن تیزی سے سگریٹ کے کش لگاتے ہوئے اور گاڑھے دھوئیں کو باہر نکالتے ہوئے وہ بہت چین لگ رہا تھا، میں اس کے پاس چلا گیا اور کہا، پہلوان جی نہ جانے کون سا بانکا سلطنہ کا دل جیت کر لے گیا ہے، کچھ جانتے ہیں آپ؟ سلطانہ سے جاکر پوچھو مجھ سے کیا پوچھتے ہو، سالا مارتا ہے اور سوچتا ہے کہ وہ اس سے ہمیشہ محبت کرتی رہے گی، صاحب عورت کا دل کانچ کا ہوتا ہے، مارو گے تو ضرور ٹوٹے گا اور وہ تیز تیز بازار میں مڑ گیا، پہلوان کی دکان کا چولہا ٹھنڈا تھا۔کام ہمیشہ کی طرح ہو رہا تھا، مزدور سڑک کے کنارے روڑی ڈھیرے پر بیٹھے روڑی کوٹ رہے ہیں اور آپس میں فحش مذاق کررہے ہیں، خواہش، خریدی گئی عورتیں، سروں پر اٹھایا، دنیا کی تماشا گاہ میں انسانی بازی گر کی طرح زندگی کے تنے رسے سے پھر چلنے کی کوشش میں گر گر پڑتاہے ، نواب سلطانہ میں پہلوان اور دنیا کے سارے انسان لیکن پھر بھی چلنے پر مجبور ہیں۔میں نے جاتے جاتے سلطانہ کو مڑ کر دیکھا ہے، نواب سلطانہ کے پاس بیٹھا روٹی کھا رہا ہے، صبح کی ساری بات ایک تماشا لگتا ہے، میں مسکراتا ہوں، سوچ کے کتنے انداز ہیں، سردیوں کا چاند عمارت کی بلندی پر جھکا نیچے جھانک رہا ہے، چولہوں سے اٹھتا دھواں دھند میں شامل ہوا کر اسے بھی گہرا کر رہا ہے، دھند میں لپٹے انسان کی کوشش، اور چاند اکیلئے مسافر کی طرف اداس چہرہ لئے دھند کے ہلکے ہلکے بادلوں میں محو سفر، راہیں ہی راہیں، منزل کے بغیر۔سلطانہ بھاگ گئی، گیٹ میں داخل ہوتے ہی ایک مزدور بھاگا ہوا آیا، میں نے مڑ کر پہلوان کی دکان دیکھی وہ بند تھی، پتہ نہیں کس کے ساتھ، وہ نواب کیلئے پانچ ہزار چھوڑ گئی ہے جی، پورے پانچ ہزار بڑی خراب تھی جی وہ تو ہم نواب کا لحاظ کرتے رہے نہیں تو ہم بھی پیسے دے سکتے تھے، پتہ نہیں کون سالا بھگالے گیا سالی کو، وہ زور سے ہنسا چپ کر بند کرو یہ بکواس میں چلایا اور مجھے لگا میرے جسم سے کوئی چیز ہولے ہولے زمین میں اتر رہی ہو، سلطانہ کے رشتہ دار سب چپ چاپ دائرے میں بیٹھے باری باری حقے کی نوک کو تھامتے ہوئے حقہ پی رہے تھے نواب ہاتھ میں پانچ ہزار روپوں کی گھتی تھامے انہیں بار بار غور سے دیکھ رہا تھا، اور سلطانہ کی ساس اپنے نومولود بچے کو دودھ پلاتے ہوئے بول رہی تھی، اگر کوئی جنا ہوتا تو وہ یوں نہ بھاگتی، مائوں میں جنجیر جو ہوتی، اور یہ بناب بھی تو دان رات مارتا تھا، سوچے تھا عورت ناس جنور ہے، جنور گائی بھی سوٹی کاھنے پر رسہ تڑانے ہے وہ تو آخر جنانی تھی جلم کے ساتھ کب تک نبھاتی، جیادہ نخشان نہیں ہوا ماں، اب میں کوئی ہجار دو ہجار والی عورت بیاہ لوں گا، تین ہجار پھر بھی منافع ہو نا اماں، اور وہ بڑے اطمینان سے روپوں کو اپنے صافے کے پلوں میں باندھ کر اور اماں کو دیتے ہوئے بولا، پنج ہزار کو جمع کرتے کرتے میں تو اپنی آدھی جوانی بتادیتا، لیکن سلطانہ ایک ہی بلے میں مجھے امیر بناگئی اور وہ ہنسنے لگا، مجھے لگا جیسے وہاں پر بیٹھے سارے مرد خوفناک غفریت ہوں، جو عورتوں کو منہ میں پکڑے انہیں بھنھبور کر کھا رہے ہوں، باقی صرف نواب کو دیکھنے لگے اور پھر ایک ایک کرکے عمارت کی طرف بڑھ گئے، عورتوں نے اپنے بچوں کو چار پائیوں پر لٹا دیا، اور مردوں کے پیچھے چل پڑیں۔میں کھڑا سوچ رہا تھا کہ کیا سلطانہ ایک حقیقت تھی یا سایہ، کیا اس کے دامن کے نھنے گھنگرو کی آوازیں میں نے کبھی سن تھی یا میرا تصور ہی تھا، میرا دل بوجھ گلے دبا جارہا ہے،معلوم نہیں یہ بوجھ سلطانہ کی کھوجانے کا ہے یا اپنی محرومی کا، اور کیا سلطانہ جینے کی راہ کی کھوج لگانے نکلی ہے اور کیا، راہ سے مل جائے گی، بھولا پہلوان کی دکان بند ہے اور ایک کتیا اپنے بچوں کو لئے ٹھنڈے چولہے کی راکھ میں بڑے اطیمنان سے بیٹھی ہر آہٹ پر اپنی آنکھیں کھولتی اور پھر بند کرلیتی ہے
ٹیلی فون ایکسچینج کی نئی عمارت بن رہی ہے، عورتوں اور مردوں کا حجم غفیر سروں پر ٹوکریاں اٹھائے ایک دوسرے کے پیچھے چپ چاپ چلتے ہوئے آئے جارہے ہیں، مصالحہ ملانے والی مشین کی آواز کام کی نگرانی کرنے والوں کی آوازوں اور باہر سڑک پر آتی جاتی گاڑیوں کے تیز ہارن مل کر بھی اس خاموشی کو توڑ نہیں سکتے جو مزدوروں کے چہروں پر گہری کھدائی ہوئی ہے ، وہ مسکرانا نہیں جانتے شاید جیسے قسمت کے مضبوط ہاتھوں نے انہیں ان دیکھی رسی سے باندھ رکھا ہو اور انہیں مسلسل حرکت دے رہے ہوں۔
میں باہر کی چار دیواری کے پاس بنے کیبن میں بیٹھا لگاتار سگریٹ پھونکتا رہتا ہوں یا جوان اور مزدور عورتوں کو خاموشی سے گھورتا رہتا ہوں، ان کی رنگین کپڑے جب پسینہ سے شرابور ہو کر جسموں سے چپک جاتے تو میرا دل تیزی سے دھڑکنے لگتا ہے، میں سلطانہ کے جسم کے زاویوں کو دیکھتا ہوں تو میرا سارا جسم لذت بھری خواہش سے اینٹھنے لگتا ہے، تب دوسری ساری آوازیں صرف ایک آواز میں ڈھل جاتی ہیں، سلطانہ کے کرتے کے دامن سے بندھے چھوٹے چھوٹے گھنگرون اور اس کے چڑکلے سے بندھی نھنی نھنی چاندی کی گھنٹیاں اس کے ہر اٹھتے قدم کے ساتھ مجھے ایسا لگتا ہے جیسے سلطانہ ہولے ہولے سسکاریاں بھر رہی ہو، اپنی قسمت کا ماتم کر رہی ہو، اس کا خوبصورت سانولا چہرہ گہری سرخی سے تب جاتا ہے، اس کے قدم ست پڑجاتے ہیں تو اس کا شوہر اسے ڈانٹنے ہوئے کہتا ہے، کیا موت پڑگئی ہے، جو تو یوں چلے ہے، بھگ بھگ نہیں تو یوں جوتیاں ماروں گا کہ یاد ہی کرے گی، سلطانہ کا چہرہ ایک دم راکھ ہوجاتا ہے۔اس کے قدم تیز ہوجاتے ہیں، نھنے نھنے گھنگرو چھنکتے ہیں اور میرا جی چاہتا ہے میں آگے بڑھ کر اس کو اپنے بازئوں میں سمیٹ لوں لیکن میں ایسا نہیں کرسکتا، اس کے شوہر کا مضبوط جسم اور اعتماد سے پر چہرہ ایک خوف بن کر میرے اندر سماجاتا ہے، میں سوچتا ہوں میں کسی نہ کسی روز سلطانہ کو لے کر اس دھوپ بھری دوپہروں اور اس کے شوہر کے قہر بھرے چہرے سے دور لے جائو گا، تب اس کا جوان خوبصورت وجود زیادہ اجلا ہو جائے گا، میرا قصور نہ جانے کہاں کہاں بھٹکنے لگتا ہے میں سوچتا ہو مجھے سلطانہ سے محبت ہے، لیکن میں اس سے محبت نہیں کرتا، بس خوف اور خواہش کے درمیان معلق میں تیزی سے سگریٹ کے کش کھنچتے ہوئے ایک بھڑکتا سا عاشانہ پنجابی گیت گنگنانے لگتا ہوں، ایسا گیت جس میں جسم کا ذکر ہے، جوانی کا ذکر ہے، اور یہ جسم سلطانہ کا جسم ہے، یہ جسم میرا جسم ہے، میرا انہاک چھوٹے سے بچے کی بھوک سے بلبلاتی چیخ سے ٹوٹتا ہے، خدا کی نا انصافیوں پر پہلا احتجاج۔
دوسری مزدور عورت رضیہ میرے کیبن کے پاس آکر رکتی ہے، اس کا کرتا بہے دودھ سے بھیگا ہوا ہے، اس کے کانوں کی بالیاں اور ناک کی لونگ پسینے اور گردن سے میلی ہورہی ہے، لیکن اس کے چہرے پر مامتا کی لپک نے اسے جاندار مجسمے میں ڈھال دیا ہے، میں گانا بند کردیتا اور سوچتا ہوں یہ بھیگا ہوا جسم بھی عورت کا ہے لیکن میں اس کے بارے میں کچھ بھی نہیں سوچ رہا اور منہ پھیر کر بیٹھ جاتا ہوں، میرا ذہن عورت کے اس روپ کو قبول نہیں کرتا، عورت تو صرف عورت ہے جس کے جسم کے کتنے زاوئیے مرد کو مدہوش کردیتے ہیں، اسکے اندر کا شیطان پوری طرح چوکس ہوجاتا ہے میں رضیہ کو دیکھ کر مسکراتا ہوں لیکن وہ اپنے بچے پر جھگی سے چوم رہی ہے اور پھر اسے میلے کپڑے پر لٹا کر واپس چلی جاتی ہے، اور مجھے ایسا لگتا ہے جیسے مجھے اس نے دھتکار دیا ہو میرے اندر کا مرد تلمانے لگتا ہے۔با اختیار اور خود پسند مرد، سورج آسمان پر سفر کرتا ہو مغرب کی طرف جھک گیا ہے نگرانی کرتے کارندے تھکن سے نڈھال عورتیں گھٹے ہوئے جمسوں والے جوان مرد میرے کیبن کے سامنے اکھٹے ہورہے ہیں، گرد آلود ہوا بجری کے ڈھیروں اور بگھری ہوئی ریت پر آہستہ آہستہ رنگ رہی ہے، اور عورتوں کے بدبو دار کپڑوں میں سے گزرتی ہوئی چاروں طرف گھوم رہی ہے، سلطانہ نے اپنے گہرے سیاہ دوپٹے کے پلو سے اپنا منہ پونچا ہے اور چپ چاپ اپنے شوہر کے پاس کھڑی اپنی مزدوری کی منتظر ہے، ٹھیکدار اپنی سیاہ ٹیوٹا گاڑی کو تیزی سے اندر لاتے ہوئے ایک دم روکتا ہے اور تیز تیز قدم رکھتا کیبن میں آکر ایک کرسی پر بیٹھ جاتا ہے، میں رجسٹر میں نام لکھتا جاتا ہوں اور بڑھے ہوئے ہاتھ پر نوٹ رکھتا جاتا ہوں، میں جانتا ہوں سلطانہ کا ہاتھ چاندی کی انگوٹھیوں کا بوجھ سنبھالے آہستہ سے آگے بڑھے گا اور پھر لیکن نہیں میں ایسا نہیں کرسکتا، ٹھیکدار مسکرا کر اس کا حال پوچھتا ہے وہ مسکراتی ہے لیکن خوفزدہ سی اپنے شوہر کو دیکھتی ہے، اور میرا جی چاہتا ہے کہ میں ٹھیکدار کو اٹھا کر باہر پھینک دوں لیکن میں ایسا نہیں کرسکتا، میں جو سارا دن اس چھوٹے سے کیبن میں پنکھے کے نیچے آرام سے بیٹھا رہتا ہوں، اتنا ہی بے بس ہوں، ٹھیکدار کے سامنے ہاتھ پھیلانے والا پڑھا لکھا مزدور۔۔۔۔۔میں نے سلطانہ کے ہاتھ میں روپے رکھتے ہوئے اسے آہستہ سے چھوا ہے اور میرے سارے جسم میں سنسنی سی دوڑ گئی ہے ، میرا سارا جسم ایک دفعہ پھر خواہش سے تب گیا ہے۔سڑک کی دوسری طرف چائے کی ایک دکان کے سامنے بچھی بے رنگ میز کرسیوں پر چند جوان لڑکے بیٹھے چائے پی رہے ہیں اور ننگی نظروں سے عورتوں کو گھور رہے ہیں، میں انہیں کچھ نہیں کہہ سکتا، چائے خانے کا مالک بھولا پہلوان بے داغ بوسکیکی قمیض شلوار پہنے، بالوں میں خوشبودار تیل لگائے سگریٹ سے گاڑھے دھوئیں کے مرغولے بناتے ہوئے ایک طرف بیٹھا لڑکوں کو ڈانٹ رہا ہے، اس کے جوان چہرے پر سنجیدگی اور ٹہرائو ہے، اپنا کام کرو، چائے کو دیکھو، غیر عورتوں کو گھورنا ہے تو آئندہ یہاں نہیں آنا، وہ بھی کسی کی ماں بہنیں ہیں سمجھے، اس نے تیزی سے سگریٹ کی راکھ چٹکی بجا کر زمین پر جھٹکا ہے، لڑکے مسکراکر چائے پینے لگے ہیں اور پھر چائے کی قیمت چکا کر اٹھ جاتے ہیں اور ان منے قدموں سے مڑ مڑ کر دیکھتے ہوئے آگے چل پڑتے ہیں، میں بھی ان کی طرح عورت کے وجود اور اس کے سحر سے آگاہ ہوں اور سلطانہ کا جسم، ہر چیز خریدی جاسکتی ہے، چائے کی پیالی، سگریٹ کا پیکٹ، عورت کا جسم اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ ساری مزدوری کرتی اور عورتیں بھی خریدی گئی ہیں، رضیہ کی قیمت پندرہ سو تھی، انوراں کے مضبوط بازو اس کے شوہر کو پورے دو ہزارے روپے میں پڑے تھے، ریزواں کے اونچے آگے کو بڑھے دانتوں کی وجہ سے اس کے باپ کو صرف آٹھ سو روپیہ ملا تھا، اور یہ سلطانہ اسے نواب نے پورے پانچ ہزار میں خریدا تھا۔نواب نے ایک روز میرے پاس بیٹھے ہوئے اپنے ہاتھ کی پانچویں انگلیوں کو پورا پھیلاتے ہوئے کہا تھا، بابو صاحب میں نے سلطانہ کو دن رات کی کمائی جمع کرکے پورے پنج ہجار میں کھریدا ہے جی، اب میں کیا اسے سر پر بٹھائو، میں نے تو اپنے پیسے پورے کرنے ہیں، مجدوری تو یہ کرے ہی کرے اور میں نے نواب کے پاس بیٹھی اس معصوم کو دیکھ جس کی آنکھیں ایک دم بجھ گئی تھیں، اور اس کا خوبصورت چہرہ اس کے گلابی کڑھے وہے کرتے اور نھنے گھنگرو و لگے دامن کے درمیان ایسے لگنے لگا تھا جیسے بجھی سگریٹ دھواں دینے لگی ہو، میں زور سے ہنسا اور بولا نواب مہنگی چیز کی تو حفاظت کی جاتی ہے، سنبھال کر رکھا جاتا ہے، اور تم اپنی اتنی مہنگی جورو کو راکھ میں ڈال دیا ہے، کیا تمہیں اس سے محبت نہیں، جی محبت تو مجھے سلطانہ سے ہے جی جبھی تو میں نے پورے دس سال کے بعد اس کے باپ کو بڑی منتوں کے بعد شادی پر راجی کیا تھا جی، وہ تو مانے ہی نہیں تھا، کہتا تھا میری سلطانہ بہت کھوبچھورت ہے، اس کے تو پورے دس ہجارے ہی لوں گا، نواب کا جوان چہرہ جھیلے ہوئے انتظار کے کرب سے سخت ہوگیا، وہ انتظار جو اس نے برسوں روپوں کی گنتی پورے ہونے کے انتظار میں اٹھایا ہوگا، اس کا دل لحظ لحظ اس کے انتظار میں بھیگا ہوگا، اور اب نواب سلطانہ سے اس ساری محبت اور تک ودو کی قمیت وصول کر رہا ہے، کیا یہ محبت تھی، یا انسانی فطرت کا تقاضا تھا، جسم کی سچائی ہی سب سے اونچی پکار بن جاتی ہے۔نواب نے سگریٹ کو بھجا کر جیب میں رکھا اور میری طرف دیکھ کر بولا، بابو صاحب تم جانو جندگی بڑی کھٹن ہوئے ہے، روپیہ پیہ ہی تو طاقت ہے، بیماری شماری میں عورت تو کام نہ آوے، پیشا کام آوے پیشا، اور پھر ہمارے باپ دادوں نے ایسا ہی ہوتا آوے ہے، قیمت تو چکانی ہی پڑے ہے، اور کیا مرد کوئی قیمت نہ ہووے، ہووے صاحب میرے جیسا جوان سلطانہ کو دکھے ہے کوئی دوسرا اس ساری ٹکڑی میں جانچو تو جرا، کوئی دکھے ہے میرا جیسا جتا وہ بڑے اعتماد سے مسکرایا، سلطانہ تو اپنے آپ کو بڑھا بھاگوان سمجھے ہے، بڑی کھٹن ہے، منے سنگ، کیوں ری تو تو بول اس نے سلطانہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا اور سلطانہ نے شرما کر سر جھکا لیا، میں جانتا ہوں میں جو بڑھیا سگریٹ پیتا ہوں اچھے کپڑے پہنتا ہوں، نواب اس کے سامنے اپنے آپ کو حقیر اور چھوٹا سمجھتا ہے، اس کے سارے جذبے سچے اور کھرے ہیں، اور میں میرا ہر احساس صرف جھوٹ میں لپٹا ہوا ہے، میں اپنے اندر کی سچائی کو اپنے سامنے عیاں کرنے سے بھی گھبراتا ہوں، میں ابھی صرف جسم کو پہنچانتا ہوں، لیکن اسے محبت کا رنگ دیتا ہوں، دھواں آسمان کی طرف اٹھتا ہے اپنے بازئوں پر بھروسہ ہی ان کا ایمان ہے شام کے آسمان پر چیلیں ظمانیت بھرے پر پھیلائے دائرے میں اڑ رہی ہیں طمانیت کہاں ہے، پیسے کمانے میں محبت کرنے میں یا محبت کی قیمت چکانے میں، میں نے سلطانہ کی طرف دیکھا ہے، وہ اپنی ساس کے پاس چپ چاپ بیٹھی اڑتی چیلوں کو دیکھ رہی ہے، اس کا چٹلا ساکت ہے، اس کے دامن کے گھنگروں بھی ساکت ہیں اور مجھے لگ رہا ہے جیسے سب کچھ تھم گیا ہو، رک گیا ہو۔میں جاتے جاتے رک جاتا ہوں کھٹی لسی میں پکائے گئے چاولوں کی ناورا بوسب طرف پھیلی ہوئی ہے، لیکن میں اس بوکو سونگھنے بغیر ایک اور بو سنگھنے کی کوشش کر رہا ہوں، جو سلطانہ کے جسم سے اٹھ رہی تھی عورتوں کے رنگین چھینٹ کے کپڑے متیالے ہوچکے ہیں، لاکھ کے سفید چوڑوں سے بھرے بوزو ناک میں پڑی ہوئی بڑی لونگین ، کلون میں لٹکے کنٹھے ان عورتوں کی ساری زندگی کی بس اتنی ہی تو قیمت ہے لیکن میں سلطانہ کیلئے اس سے کہیں زیادہ دے سکتا ہوں، میں سلطانہ کا سودا دل ہی دل میں طے کرلیتا ہوں، سونے کے زیورات، ریشمی کپڑے اور شاید کسی روز میں یہ سودا کرسکوں، شاید کبھی میں اس کو چھو سکوں، میں گیٹ سے باہر سڑک کے کنارے بھولا پہلوان کے چائے خانے پر جا کر بیٹھ جاتا ہوں شاید میں تھک گیا ہوں، معلوم نہیں تک ودو کی کون سی منزل ہے کوئی نہیں بتاتا، ہر ایک کو اپنی راہ خود ہی ڈھونڈنی پڑتی ہے۔کیوں بابو صاحب تھک گئے ہوکیا، اوئے چھوٹے ملائی والی چائے لانا گرم گرم، اور بھولا پہلوان میرے پاس آکر بیٹھ گیا، اس نے سگریٹ کا تیز کش لیتے ہوئے میرے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا ہے کچھ کہتا ہوا کچھ مانگتا ہوا ہاتھ میں اس کی طرف دیکھ رہا ہوں۔بابو صاحب یہ جوان سی چھوکری ہے نا جو ۔۔۔۔نئی نئی آئی ہے مزدوری کرنے کیا نام ہے سلطانہ۔۔۔۔ہان سلطانہ اس نے بڑی گڑ بڑ پھیلادی ہے جی چھو کرو میں، میں تو حرامیوں کو بیٹھنے ہی نہ دوں اڈے پر، پر کیا کروں دھندا ہی ایسا ہے، اس کیگھر والے کو کہیں کہ اسے کھلے عام نہ لئے پھرے، نہیں تو کسی سن کسی چھوکرے سے سنگ بھاگ جاوے گی، پہلوان کے لہجے میں فکر مندی تھی، کم بخت غریب ہوکر بھی اتنی نازک لگتی ہے، جیسے کانچ کی بنی ہوئی ہو، اللہ اپنی کاری گری کہاں ضائع کردیتا ہے، کیا ضرورت تھی اسے ایسا بنانے کی، لیکن میں نواب کو کیسے کہہ سکتا ہوں میرا اس کا کائی ناتہ تو ہے نہیں نہیں جی اونچ نچ تو سمجھانی پڑتی ہے، آپ ان کے انچارج جوہوئے اور میں سوچ رہا ہوں کہ سلطانہ نہ صرف مجھے نظر آتی ہے، دوسرے بھی اسے دیکھتے ہیں دوسرے بھی اسکی خوبصورتی سے مسحور ہیں، میں نے کہا پہلوان جی نواب اس کی قیمت جانتا ہے اس کی حفاظت کرے گا، یہ لوگ بار بار شادی نہیں کرسکتے ان کے پاس بیوی خریدنے کیلئے پیسے کہاں، میں سمجھائوں گا، اسے خوب بھی تو چھوکرا سا ہے، اور شہر کی ہوا عورتوں کو بہت جلد بدل دیتی ہے، مردوں کی نظرین دلوں میں اتر جاتی ہیں جی، وہ بہت جلد سمجھ جائے گی، کہ وہ کتنی خوبصورت ہے، پہلوان کی آنکھیں سوچ میں ڈوبی ہوئی تھیں، اور وہ گہرے کش کھینچ رہا تھا، میں نے پھر کہا پہلوان جی لڑکے کے ماں باپ بھی تو ساتھ ہیں، وہ کہاں جائے گی۔پر بابو صاحب آپ نے کبھی لڑکی کی آنکھوں میں جھانکا ہے، ہر روز مار کھانے والی عورت زیادہ دیر ایسے مرد کے پاس نہیں رہتی، کیا ہے اس کی آنکھوں میں میں تجسس سے بولا، کچھ تو ہے، جیسے وہ رو رہی ہو، اور پھر بغاوت بھری ہے جی، پر پہلوان جی آپ نیکیسے پڑھیں اس کی آنکھیں، میں ہنس کر بولا، بابو جی میں بازار میں بیٹھنے والا آدمی ہوں، راہ جاتی عورت کی چال دیکھ کر پہچان جاتا ہوں کہ کس قماش کی عورت ہے، چالو ہے یا گھر دار، پر نواب سے بہتر اسے کوئی اور کیا ملے گا، آپ بھولے شاہ ہیں، عورت جو کچھ چاہتی ہے، نواب کے پاس نہیں، سختی دلوں کو پتھر بنا دیتی ہے، اور ہ تو کانچ کی بنی لگتی ہے، اور نواب اس کی قیمت کیا جانے، اس کے لیئے تو وہ ایک ٹوکری ہے بوجھ ڈھونے والی۔میں پہلوان کے ذاتی تجربات کے بارے میں کچھ نہیں جاتا ، ہمارا اس کا چند ماہ سے ہی تو ساتھ ہوا ہے، میں اتنا جانتا ہوں وہ سڑک پر جاتی عورت کو گھورتا نہیں اور نہ دوسروں کو گھورنے دیتا ہے، غیر محسوس طور پر سب اس سے ڈرتے ہیں اور اس کی عزت کرتے ہیں، سلطانہ اور مرد سلطانہ اور اس کا شوہر، عورت کی قیمت چند ہزار روپے، نقلی زیور، بے باک نظرین، شاید ہم سب کو اس کا بکائوں مال سمجھتے ہیں، اسے خریدنا چاہتے ہیں، شاید نواب اپنی چیز کی قیمت سے پوری طرح واقف ہے اس کی حفاظت کرنا جانتا ہے، عمارت بلند ہو رہی ہے، اور ساتھ ہی میرے دل میں سلطانہ کا خیال، میں اسکے وجود سے ہر لمحہ آگاہ رہتا ہوں، اس لئے اس کے اندر آئی تبدلیاں مجھے سب سے زیادہ نظر آتی ہیں۔وہ سب ہمیشہ کی طرح چپ چاپ کام کئے جاتے ہیں، لیکن مجھے لگتا ہے جیسے آوازوں کا شور اٹھ رہا ہو اور ان آزوازوں میں سلطانہ کی بولتی آنکھوں کی آواز سب سے بلند ہو، اب وہ اپنی مزدوری لینے کیلئے جب ہاتھ بڑھاتی ہے تو ماتھے تک کھنچے ہوئے گھونگھٹ میں ان کی آنکھیں مسکرانے لگتی ہیں، نواب اسے جھڑکتے ہوئے کہتا ہے، توہٹے گی یا میں لات دوں، میں نے دیکھا ہے، کہ نواب بھی اس کے اندر آتی جاتی تبدیلی سے آگاہ ہے، وہ اسے اب بات بے بات مارنے لگتا ہے، اس کی ساس بھی اسے پیٹتی رہتی ہے، لوکل مزدور کام کے بعد بڑے اہتمام سے نہاتے ہیں، تیل لگاکر بال بناتے ہیں، اور آہنس میں دور بیٹھے مذاق کرتے رہتے ہیں، بوڑھے رحیم نے جب اپنے بالوں کو بڑے اہتما سے خضاب سے رنگا تو سب جواب چھوکروں نے اس کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کیوں رحیم بابا نئی شادی کرنے لگے ہو۔میں ابھی بھی تم چار پر بھاری ہوں، سلطانہ منہ پر پلو رکھے آہستہ آہستہ ہنستی رہیتی اور رحیم بابا اپنی داڑھی اور بالون پر بار بار ہاتھ پھیرتا اسے دیکھتا رہتا ہے، اب جب نواب بھولا پہلوان کے چائے خانے پر جات اے تو وہ بھی جا کر کھڑی ہوجاتی ہے، بھولا اسے بھی ملائی والی چائے پلاتا ہے، اور مس جانتا ہوں ایک نا ایک دن کچھ ایسا ہوگا، جو نواب کے حق میں اچھا نہ ہوگا، اب نواب اسے پہلے سے بھی زیادہ مارتا ہے، وہ ہجری پر چادر لے کر لیٹ جاتی اور پھر کبھی کبھی چادر کا کونہ مجھے دیکھ کر مسکراتی ہے، میں جواب میں سکرا نہیں سکتا، وہ بہت سارے اور میں اکیلا، لیکن میں بے مقصد ہی وہاں رکا ہوا ہوں، میں سلطانہ کو ٹھیکیدار کے جوان بیٹے کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں، لیکن اتنے مزدوروں کے ہجوم میں اس سے بات نہیں کرسکتا، میں سلطانہ کے بارے میں فکر مند ہوں اسے مزدوروں کی نظروں سے بچانا چاہتا ہوں، اس روز سلطانہ میرے کیبن میں اکیلی آئی تھی، اور اس نے اپنی بڑی بڑی بھوری بھوری آنکھوں کو کھولتے ہوئے کہا تھا، ایک بات کرو صاحب، کیا تم میری مجدوریبڑھا نہیں سکتے، میں نئے کپڑے بنائو گی، اور اس نے اپنی پھٹا کرتا مجھے دکھایا، میں ہنسا، شاید سلطانہ میری نظروں کے پیغام کو جان گئی ہو، میں کہا، نواب کو کیوں نہیں کہتی ہو، وہ ایک دم چپ ہوگئی، اس کی آنکھیں کسی دکھ سے بھیگ گئی تھیں، وہ بولی نواب تو بس روپے جمع کرے ہے، اسے میرا ننگا بدن نجر نہیں آوے ہے، کیا میں بنادوں تجھے نئے کپڑے ، میں اس کے سامنے کھڑے ہوکر بولا وہ ایک دم کھڑی ہوگئی، ناں جی، کپڑے تو میں اپنی مجدوری سے ہی بنائوگی، بس تم میری مجدوری بڑھا دوں، پر نواب کو نہ بتانا، اور وہ جلد ہی باہر چلی گئی اور مسکرانے لگا، بھولا پہلوان نے ہی تو کہا تھا، شہر عورت کو بڑی جلدی بدل دیتا ہے، باہر موسم کی پہلی بارش ہو رہی تھی، سیاہ بالوں کے پرے سے پرے آسمان کے کناروں سے اٹھ کر چاروں طرف پھیل گئے تھے، میں کیبن کے دروازے پر کھڑا گہرے بادلوں کو ایک دوسرے میں مد غم ہوتے دیکھ رہا تھا، اور سلطانہ کا جسم میرے تصور میں چھایا ہوا تھا، وہ عمارت کے بر آمدے میں کھڑی اداس نظروں سے انہیں دیکھ رہی تھی اور پھر شاید وہ رونے لگے، اس کے آنسو کے رخساروں کو بگھورے تھے، دکھ بھرے آنسو۔اس کا سنہری بدن کڑکتے بادل، آنسوئوں سے بھیگے گال اور پھٹا کرتا، انسان چھوٹی چھوٹی خواہشوں کی تکمیل کیلئے کوشان کتنا بے بس معلوم نہیں رات کا ساتھ مرد عورت کو رہنی طور پر قریب لاتا ہے، کتنا دو کرتا ہے، اور کیا رات کا ساتھ ہی سب سے بڑی سچائی ہے میں سوچ رہا تھا، سوچ جو مثبت نہیں تھی، سلطانہ بدل رہی ہے، میں جانتا ہوں لیکن اس کا اور میرا فاصلہ بدستور قائم ہے، میں ہمیشہ کا ڈر پوک آدمی ہوں، عزت جانے کا ڈر، نوکری جانے کا ڈر، سلطانہ نے بہت کچھ سیکھ لیا ہے، اس کے چہرے پر غرور اور اعتماد نے اسے عمر سے بڑا بنادیا ہے، اب وہ جس سے جی چاہتا، باتیں کرنے لگتی ہے، بھولے کی دکان پر جارک چائے پیتی ہے، نواب سے مار کھا کر بھی زیادہ نہیں راتی، ساس اور سسر سے نہیں ڈرتی، بھول ٹھیک کہتا تھا کہ اس کی آنکھوں میں بغاوت بھری ہوئی ہے، شہری عورتوں نے غیر محسوس طور پر اسے بدل دیا ہے، ایک روز میں نے موقع پاکر سلطانہ کبھی مجھے بھی خدمت کا موقع دو، وہ زور سے ہنسی اور بولی ایسی ہی بات ہے ٹھیکدار کے بیٹے نے بھی کہی تھی ایسا لگے ہے جیسے یہاں کے سارے میرے ہی عسح مس گلتاں ہیں، کسی کو کوئی ور کام نہیں ہووے، ہے نا مجے کی بات، سچ بڑا مجا آوے ہے، جب نواب دیکھ کر جلے ہے، دیکھو وہ کھڑا گھورے ہے، بے چارا نواب، اور زور زور سے ہنسنے لگی، میں اس کی بے باکی پر حیران تھا، میں کہا، سلطانہ کیا تجھے نواب سے ڈر نہیں لگتا، جان سے مار ڈالے گا تجھے۔وہ بولی ڈروں ہوں، جرور ڈرو ہوں لیکن اتنا جانوں اور مجھے جان سے نہیں مارے گا، اس کا نخنشان کون پورا کے گا، ما ہی کروں گی نا، پھر میرے مرنے کا سے پھائدہ، وہ اپنی جرورت کیلئے مجھے جندہ رہنے دے گا، جرور جندہ رہنے دیگا، اور رہ بڑی لا پرواہی سے آگے چل دی۔وہ ان ساری زیادتیوں کا بدلہ لے رہی تھی، لیکن وہ یہ نہیں جانتی کہ نقصان صرف عورت کا ہی ہوتا ہے، گھاٹے میں صرف اس کی ذات رہتی ہے مجھے اس کی بیبا کی اچھی نہیں لگتی جیسے اس نے اپنی روح کی معصومیت کو بے مول بیچ دیا ہو، میں تو اس سلطانہ سے محبت کرنے لگا تھا جو نواب کی مارکھا کر بھی سہی رہتی تھی، ساس کی جھڑکیاں کھا کر بھی سر جھکا لیتی تھی، اس دن ڈھیکڈار کے بیٹے نے بڑی رازداری سے کہا کیا کسی طرح یہ سلطانہ ہاتھ نہیں لگ سکتی، ور میرا جی چاہا میں آگے بڑھ کر اس کا گلا دبا دوں، لیکن سلطانہ کولر کا پانی لینے کیلئے خود ہی آگئی، ٹھیکیدار، کے بیٹے کی نظروں میں ننگی بھوک تھی وہ بولا، آئو سلطانہ تمہیں اپنی گاڑی میں سیر کروا لائوں۔۔۔چلو گی میرے ساتھ، وہ گھبرائی نہیں، بس چل چاپ سے دیکھنے لگی اور بولی، صاحب میرا مرد جندہ ہے مرا نہیں ہے، اور اس جیسا کوئی ہوتو جانو اور چلی گی، شاید وہ سب کچھ جو میں دیکھتا رہتا ہو، محض نواب کو جلانے کیلئے ہو، ٹھیکدار کا بیٹا عورت خریدنی جانتا ہے عورت جیتنا نہیں وہ تلمتا ہوا چلا گیا، اور پھر کبھی نہیں آیا، سلطانہ اپنے آپ کو بیچنا نہیں چاہتی تھی، اس روز جانے کیا بات ہوئی کہ نواب نے اسے چٹیا سے گھسیٹا اور چلا کر پیٹنا شروع کردیام حرا مجاری گیر مردوں کے سنگ مجاخ کرے ہے، میں تیرے سب لچھن سمجھوں ہوں، میں نے پنج ہجار اس لئے تو نہیں بس بھرے تھے کہ دوسروں کے سنگ موج مناوے، سلطانہ کی ساس بھی چلا چلا کر الزام لگا رہی تھی، گندی گندی گالیاں بک رہی تھی، سلطانہ زور زور سے رونے لگی، ہاںہان میں دوسروں کے سنگ موج منائون ہوں میں نہیں رہتی تیرے سنگ، جالم مرد، دیکھ لینا ایک دن جرور بھاگ جائوگی، تو دیکھتا رہ جاوے گا، سب نے کام روک دیا اور ان کی لڑائی دیکھنے لگے، اس کا باپ روک رہ تھا، لیکن وہ جنونی طورت پر سلطانہ کو مار رہا تھا، میں تجھے جان سے ہی مار ڈالوں گا۔
بھولا پہلوان بھاگتا ہوا آیا، اس نے نواب کے دونوں بازوں سے تھام لیا اور چلایا، ہوش کر نواب مرجائے گی، تو کون ہے روکنے والا، اس کا باپ بوالا، میں ہوں، میں ہوں تمہاری بیویں کا یار، سور کی اولاد، بے بس عورت پرظلم کرتے ہیں، اور شرمندہ بھی نہیں ہوتے، عورت کو خریدتے ہیں، بے غریب اور پھر اس ظلم کرتے ہیں جیسے وہ کوئی جانور ہو، سلطانہ کھلی آنکھوں سے بھولا پہلوان کو دیکھ رہی تھی، اس کیبال بکھرے ہوئے تھے پتہ نہیں بھولا نے نواب کے بازو چھوڑ دئیے اور بڑ بڑاتا ہوا واپس چلا گیا، کام دوبارہ شروع ہوگیا، سلطانہ کی سسکیاں کبھی کبھار گونجتیں اور تھم جاتیں، سب مزدور چپ چاپ کام کررہے تھے، جیسے وہ احتجاج کرہے ہوں۔میں وہاں کھڑا گہری اداسی میں ڈوب گیا جیسے یہ ساری عورتین آہوں کی زنجیر میں بندھی مسلسل منزل کی تلاش میں ہوں، زندگی کی تلاش میں ہوں، اور مرد ہاتھوں میں کوڑے لئے انہیں آگے کو دکھیل رہے ہوں ان کی برہنہ پشتوں پر ماررہے ہیں، سلطانہ کی بھیگی آنکھیں سارے ماحول کو تسکین زدہ کر رہی تھی ، یہ ٹوکری اٹھائے مزدوری کرتی خوبصورت لڑکی ہماری زندگیوں کے خانے میں کہیں بھی فٹ نہیں ہوسکتی، میں جانتا ہوں ، اس کے جسم کے تو قیمت دی جاسکتی ہے لیکن اس ان کی روح میں کوئی بھی جھانکنا پسند نہیں کرے گا، وہ ہمیشہ تنہا رہے گی، ہمیشہ زندگی کی تلاش میں سر گرداں۔روز کی طرح شام کا سورج ڈوب رہا تھا، شروع شروع سردیوں کی ٹھنڈی ہوا آہستہ آہستہ کپکپارہی ہے، زمین سے اٹھیتی دھوک بھی شامل ہو کر اسے بوجھل بنارہی ہے، میں نے سر اٹھا کر دیکھا، دور کھڑا ٹھیکیدار سلطانہ کو دیکھ رہا تھا، سورج کی کوئی آخری شعاع کسی بے درد دھڑکی سے اندر آئی آئی ہوئی سلطانہ کے سراپے کو جلا رہی ہے، اور وہ یادوں میں ڈوبی اداس کھڑی ہے، یادیں جس میں اس کا گزرا بچپن ہوگا، ماں باپ کی ملائم شفقت ہوگی، مستقبل کی خوابناک جھلکیاں ہوگی، اس عذاب سے بچنے کیلئے دل کو کوئی راہ نہیں سوچھتی، پتہ نہیں سلطانہ بھی اس درد کو سہانے کی کوشش کرہی ہو، ٹھیکیدار بغیر مقصد کے کھڑا ہے، میں جانتا ہوں وہ بھی میری طرح مایوس ہوکر چلا چائے گا۔نومبر کا سورج دھند آلود فضا میں آہستہ آہستہ اوپر اٹھا رہا تھا کام شروع ہونے والا ہے، مزدور آہستہ آہستہ آکر عمارت کے پاس جمع ہورہے ہیں، سلطانہ اب پہلے سے بھی زیادہ خوبصورت لگتی تھی، سلطانہ کے چہرے پر کھنڈرا پن ہے، بھولا پہلوان آج پہلی بار آکر سلطانہ سے بات کر رہا ہے، میں نے کہا کیوں پہلوان جی کیا ڈھونڈ رہے ہوں، کیا گم ہوگیا ہے، ہو بولا گم تو نہ جانے کیا کیا ہوجاتا ہے، میں تو صرف اپنی گم پیالیاں دھونڈ رہا ہوں، شاید نواب لے آیا ہوں، اس نے سلطانہ پر ایک اچٹتی نظرڈالی سلطانہ، سلطانہ نے جلدی سے سر جھکا لیا، اور برتن اٹھا کر کھڑی ہوگئی۔بھولا پہلوان بے دھیانی سے ادھر ادھر دیکھ رہا تھا، اور پھر چلا گیا ہے، لگتا ہے الفاظ اس کے لبوں میں قید ہوگئے، میں نے کہا سلطانہ کیا نواب کی مار سے تمہیں ڈر نہیں لگتا، وہ کندھے اچکاتے ہوئے بولی مار مار، جب مرد کے پاس پیار نہیں ہوتا تو وہ مارے سے کام چلاوے ہے، اور جندگی صرف مار کھا کر تو نہیں گجرتی، میں تو اس مار سے تنگ آگئی ہو، پھر اسنے تالاب کے کنارے سے اپنے برتنوں کو اٹھایا اور چولہے کے پاس رکھنے کو چل پڑی اب نواب سلطانہ کو پہلے کی نسبت کم مارتا تھا، میں جانتا تھا، پہلوان اپنی دکان پر بیٹھا سلطانہ کو دیکھتا رہتا تھا، اسکے چہرے پر عجیب سی ملائمت آگئی ہے، وہ اپنے گاہکجوں کے ساتھ بڑی نرمی سے بولتا ہے نواب سلطانہ کی تیز نظروں سے کائف ہو کر دوسری طرف رخ موڑ لیتا ہے، اور بڑ بڑ انے لگتا ہے ، مجھے لگتا ہے جیے سلطانہ کے چہرے پر استہزا آمیز مسکراہٹ کھد گئی ہے، وہ میرا نواب کا، اپنی ساس کا مذاق اڑاتی ہوئی لگتی ہے، اس کس طاقت نے خود سر بنادیا ہے، یا پھر وہ بے حسی کے اس درجے میں داخل ہوگئی ہے جہاں سب کچھ بے وقت اور سہارے کے قابل لگتا ہے داکا دروازہ سب پر بند ہوجاتا ہے۔اس روز جب میں ہمیشہ کی طرح داخل ہوا تھا تو نواب کے سارے رشتہ دار فکر مند چہروں کے ساتھ ایک جگہ جمع تھے کام کا وقت ہوگیا تھا۔
میں نے کہا کیا بات ہے کام شروع کیوں نہیں ہوا، تو خیرو نے کہا، آج ہم دھاڑی نہیں لگائیں گے، ہمار گیر ہاجری لگادومں، میں جانتا تھا کہ کوئی بہت بڑی بات ہی انہیں مزدوری سے روک سکتی تھی، عورتیں گھونگھٹ نکالے الگ کھڑی باتیں کر رہی ہیں، ان میں سلطانہ نہیں تھی، میں گھبرا کر پہلوان کی دکان کی طرف دیکھا وہ چائے بنا رہا تھا، اور ایک دو گاہک بیٹھے چائے پی رہے تھے، کیا بات ہے؟ میں غصے سے بولا۔بات کیا ہووے ہے صاحب یہ سطلانہ ہرام جادی رات کو نہ جانے کون سے عاشخ سے مل کر آوے ہے، میں تو تھکا ہارا سو جائوں ہوں اور یہ موجاں مناوے ہے، مار مار تھک گیا یہ منہ سے بولے ہی نہیں ہے، نواب زمین پر بیٹھ کر رونے لگا، بے بسی سے میں پہلی بار اسے روتا دیکھ رہا تھا، مجھے لگا جیسے نواب کا خوبصورت وجود ایک دم بہت سکو گیا ہو، اس کی طاقت کا گمان سلطانہ نے توڑ دیا تھا، سلطانہ جو خرید ہوئی عورت تھی، صاحب میرے تو پنج ہجار مپھت میں جایاویں ہیں، ہاں ہاں پہنج ہجار جایا جاویں ہیں، میں اپنے آپ کو بیچون ہی کویں نا، سلطانہ اس کے سامنے کھڑی غصے سے چلا رہی تھی اس کا چہرہ چوٹوں سے سوجا ہوا تھا، اس کے پھٹے کرتے سے اس کا جسم نظر آرہا تھا، اس کی آواز میں اس کی مجروح ان کی چیح تھی، تو پنج ہجار کو کیا جانے، توتو پنج لاکھ کماسکتی ہو، تیرے عاشخ جو دیویں ہیں تجھے، نواب شیر کی طرح دھاڑا اور اسے مارنے لگا۔لائو میرے بنج ہجار، جائو جہاں مر جی جائو، لائو میرے بنج ہجار، سلطانہ وہی زمین پر بیٹھی بین ڈالنے لگی، میں اس کے پاس جا کر اسے تسلی دینا چاہتا تھا، میں نے کہا سلطانہ تمہیں ایسا نہیں کرنا چاہئیے تھا، قبیلے والے عزت دار آدمی ہیں، کای تم محبت دار نہیں ہو، تم اپنی جورو بیٹی سے کام کیوں نہیں کرواتے، کیوں انہیں گھر کی چار دیواری میں سنبھال کر رکھ ہو، اس لئے تاکہ وہ تمہاری محبت دیکھ رہی تھی، جیسے اس کے اندر سے سارے دکھ سکھ کے جذبات بنجر ہوگئے ہوں۔کہاں سے دوگی پانچ ہزار نواب کو، جانتی ہوں پانچ ہزار جمع کرنا کتان مشکل ہے، میں کچھ کہتے کہتے رک گیا، نواب نے بھی تو کھریدا ہے نام مجھے اب میں اپنے کو اپنی مرجی سے بچوں گی، اپنی مرجی گا گاہک کے پاس، اور اس کی چیخیں ایک دم بلند ہوگئیں، احتجاج کرتی ہوئیں، وہ اپنی زندگی میں آئی ساری محرومیوں کا ماتم کرتی تھی، شاید اور وہ سارے خاموش اسے دیکھ رہے تھے، خوفزدہ لیکن بھپرے ہوئے، پہلوان کی دکان کے تھڑے پر کھڑا اس سارے تماشے کو دیکھ رہا تھا، وہ پہلے کی طرح اندر نہیں آیا، لیکن تیزی سے سگریٹ کے کش لگاتے ہوئے اور گاڑھے دھوئیں کو باہر نکالتے ہوئے وہ بہت چین لگ رہا تھا، میں اس کے پاس چلا گیا اور کہا، پہلوان جی نہ جانے کون سا بانکا سلطنہ کا دل جیت کر لے گیا ہے، کچھ جانتے ہیں آپ؟ سلطانہ سے جاکر پوچھو مجھ سے کیا پوچھتے ہو، سالا مارتا ہے اور سوچتا ہے کہ وہ اس سے ہمیشہ محبت کرتی رہے گی، صاحب عورت کا دل کانچ کا ہوتا ہے، مارو گے تو ضرور ٹوٹے گا اور وہ تیز تیز بازار میں مڑ گیا، پہلوان کی دکان کا چولہا ٹھنڈا تھا۔کام ہمیشہ کی طرح ہو رہا تھا، مزدور سڑک کے کنارے روڑی ڈھیرے پر بیٹھے روڑی کوٹ رہے ہیں اور آپس میں فحش مذاق کررہے ہیں، خواہش، خریدی گئی عورتیں، سروں پر اٹھایا، دنیا کی تماشا گاہ میں انسانی بازی گر کی طرح زندگی کے تنے رسے سے پھر چلنے کی کوشش میں گر گر پڑتاہے ، نواب سلطانہ میں پہلوان اور دنیا کے سارے انسان لیکن پھر بھی چلنے پر مجبور ہیں۔میں نے جاتے جاتے سلطانہ کو مڑ کر دیکھا ہے، نواب سلطانہ کے پاس بیٹھا روٹی کھا رہا ہے، صبح کی ساری بات ایک تماشا لگتا ہے، میں مسکراتا ہوں، سوچ کے کتنے انداز ہیں، سردیوں کا چاند عمارت کی بلندی پر جھکا نیچے جھانک رہا ہے، چولہوں سے اٹھتا دھواں دھند میں شامل ہوا کر اسے بھی گہرا کر رہا ہے، دھند میں لپٹے انسان کی کوشش، اور چاند اکیلئے مسافر کی طرف اداس چہرہ لئے دھند کے ہلکے ہلکے بادلوں میں محو سفر، راہیں ہی راہیں، منزل کے بغیر۔سلطانہ بھاگ گئی، گیٹ میں داخل ہوتے ہی ایک مزدور بھاگا ہوا آیا، میں نے مڑ کر پہلوان کی دکان دیکھی وہ بند تھی، پتہ نہیں کس کے ساتھ، وہ نواب کیلئے پانچ ہزار چھوڑ گئی ہے جی، پورے پانچ ہزار بڑی خراب تھی جی وہ تو ہم نواب کا لحاظ کرتے رہے نہیں تو ہم بھی پیسے دے سکتے تھے، پتہ نہیں کون سالا بھگالے گیا سالی کو، وہ زور سے ہنسا چپ کر بند کرو یہ بکواس میں چلایا اور مجھے لگا میرے جسم سے کوئی چیز ہولے ہولے زمین میں اتر رہی ہو، سلطانہ کے رشتہ دار سب چپ چاپ دائرے میں بیٹھے باری باری حقے کی نوک کو تھامتے ہوئے حقہ پی رہے تھے نواب ہاتھ میں پانچ ہزار روپوں کی گھتی تھامے انہیں بار بار غور سے دیکھ رہا تھا، اور سلطانہ کی ساس اپنے نومولود بچے کو دودھ پلاتے ہوئے بول رہی تھی، اگر کوئی جنا ہوتا تو وہ یوں نہ بھاگتی، مائوں میں جنجیر جو ہوتی، اور یہ بناب بھی تو دان رات مارتا تھا، سوچے تھا عورت ناس جنور ہے، جنور گائی بھی سوٹی کاھنے پر رسہ تڑانے ہے وہ تو آخر جنانی تھی جلم کے ساتھ کب تک نبھاتی، جیادہ نخشان نہیں ہوا ماں، اب میں کوئی ہجار دو ہجار والی عورت بیاہ لوں گا، تین ہجار پھر بھی منافع ہو نا اماں، اور وہ بڑے اطمینان سے روپوں کو اپنے صافے کے پلوں میں باندھ کر اور اماں کو دیتے ہوئے بولا، پنج ہزار کو جمع کرتے کرتے میں تو اپنی آدھی جوانی بتادیتا، لیکن سلطانہ ایک ہی بلے میں مجھے امیر بناگئی اور وہ ہنسنے لگا، مجھے لگا جیسے وہاں پر بیٹھے سارے مرد خوفناک غفریت ہوں، جو عورتوں کو منہ میں پکڑے انہیں بھنھبور کر کھا رہے ہوں، باقی صرف نواب کو دیکھنے لگے اور پھر ایک ایک کرکے عمارت کی طرف بڑھ گئے، عورتوں نے اپنے بچوں کو چار پائیوں پر لٹا دیا، اور مردوں کے پیچھے چل پڑیں۔میں کھڑا سوچ رہا تھا کہ کیا سلطانہ ایک حقیقت تھی یا سایہ، کیا اس کے دامن کے نھنے گھنگرو کی آوازیں میں نے کبھی سن تھی یا میرا تصور ہی تھا، میرا دل بوجھ گلے دبا جارہا ہے،معلوم نہیں یہ بوجھ سلطانہ کی کھوجانے کا ہے یا اپنی محرومی کا، اور کیا سلطانہ جینے کی راہ کی کھوج لگانے نکلی ہے اور کیا، راہ سے مل جائے گی، بھولا پہلوان کی دکان بند ہے اور ایک کتیا اپنے بچوں کو لئے ٹھنڈے چولہے کی راکھ میں بڑے اطیمنان سے بیٹھی ہر آہٹ پر اپنی آنکھیں کھولتی اور پھر بند کرلیتی ہے
Wednesday, May 14, 2008
(افسانہ)
الجھن
برات آئي، خير کيلئے ہاتھ اٹھائے گئے اور اس کے بياہ کا اعلان کيا گيا۔۔۔۔۔۔۔۔وہ لال دوپٹے ميں سمٹي ہوئي سوچنے لگي کہ اتنا بڑا واقعہ اتنے مختصر عرصے ميں کيسے تکميل تک پہنچا، وہ تو يہ سمجھے بيٹھي تھي کہ جب برات آئے گي تو زمين اور آسمان کے درميان الف ليلہ والي پريوں کے غول ہاتھوں ميں ہاتھ ڈالے، پروں سے ملائے بڑا پيارا سا ناچ ناچيں گے، بکھرے ہوئے تارے ادھر ادھر سے کھسک کر ايک دوسرے سے چمٹ جائيں گے اور ٹمٹاتے ہوئے بادل کي شکل اخيتار کر ليں گے، اور پھر يہ بادل ہولے ہولے زميں پر اترے گا، اس کے سر پر آکر رک جائے گا اور اس کے حنا آلود انگھوٹے کي پوروں کي لکيريں تک جھلملا اٹھيں گيں، دنيا کے کناروں سے تہنيت کے غلفے اٹھيں گے اور اس کے باليوں بھرے کانوں کے قريب آکر منڈ لائيں گے۔۔۔۔۔۔۔وہ تو يہ سمجھتي تھي کہ يہ دن اور رات کا سلسلہ صرف اس کے بياہ کے انتظار ميں ہے، بس جو نہي اس کا بياہ ہوگا، پورب پچھم پر ايک مٹيالا سا اجالا چھا جائے گا۔۔۔۔۔جسے نہ دن کہا جاسکے گا اور نہ ہي رات۔۔۔۔۔۔بس جھٹپٹے کا سا سماں رہے گا قيامت تک اور جونہي برات اس کے گھر کي دہليز الانگے گي يہ سارا نظام کھلکھلا کر ہنس دے گا اور تب سب لوگوں کو معلوم ہوگا کہ آج گوري کا بياہ ہے۔
ليکن بس برات آئي، لمبي لمبي داڑھيوں والوں نے آنکھيں بند کرکے دعا کيلئے ہاتھ اٹھائے، شکر اور تل تقسيم کئے گئے اور پھر اسے ڈولي ميں دھکا دے يا گيا، ڈھول چنگھاڑنے لگے، شہنائيان بکلنے لگيں، گولے بھونکنے لگے اور وہ کسي ان ديکھے ، ان جانے گھر کو روانہ کردي گئي۔
ڈولي ميں سے بہت مشکل سے ايک جھري بنا کر اس نے ميراسيوں کي طرف ديکھا، کالے کلوٹۓ بھتنے، ميال ڈھول اور مري ہوئي سنپوليون کي سي شہنائيوں ، نہ بين نہ باجہ نہ تونتنياں نہ انٹوں کے گھٹنوں پر جھنجناتے ہوئے گھنگرو، نہ گولے نہ شرکنياں، جيسے کسي کي لاش قبرستان لے جا رہے ہوں۔
ہاں وہ لاش ہي تو تھي اور يہ ڈولي اس کا تابوت تھا، سفيد کفن کے بجائے اس نےلال کفن اوڑھ رکھا تھا اور پھر يہ نتھ، بلاق، جھومر، ہار۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بالياں۔۔۔۔۔۔۔۔۔يہ قبر والے بچھو اور کھنکجورے تھے، جو اسے قدم قدم پر ڈس رہے تھے۔
ڈولي کے قريب بار بار ايک بوڑھے کي کھانسي کي آواز آرہي تھي، شايد وہ دولہا کا باپ تھا۔۔۔۔۔۔۔۔پھر جس دولھا کا باپ پل پل بھر بعد بلغم کے انتے بڑے بڑے گولے پٹاخ سے زمين پر دے مارتا ہے، وہ خود کيسا ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔ہائے ري۔
وہ رو دي، وہ اس سے پيشتر بھي روئي تھي، جب اس کي ماں نے اسے گلے سے لگايا اور سرگوشي کي۔۔ميري لاڈلي گوري۔۔۔تيري عزت ہماري عزت ہے، تو اب پرائے گھر جارہي ہے، بڑے سليقے سے رہنا ورنہ ناک کٹ جائے گي، ہماري۔۔۔۔۔۔۔۔۔يعني اس کي ماں کو اس موقعہ پربھي اپني ناک کي فکر ہوئي بھٹی ميں دانہ اسپند ڈال ديا جائے۔۔۔۔۔ماں کو اس کے دل کي پراوہ نہ تھي، اس وقت دکھاوے کي خاطر وہ روئي بھي ، سسکياں بھي بھري، گلووان کے دوپٹۓ سے آنسو بھي پونچھے، پر اس نے رونے ميں کوئي مزا نہ تھا، يہاں ڈولي ميں اس کي آنکھوں ميں نمي تيري ہي تھي کہ اس کے روئيں روئيں ميں ہزاروں خفتہ بے قرارياں جاگ اٹھيں۔۔۔۔۔۔۔۔۔شہنائياں اس کا ساتھ ديتي رہيں، ڈھول پٹتا رہا، جب ڈولي دولھا کے گھر پہنچي تو ايک گولہ چھوٹا جيسے کسي بيمار کو مري مري چھيک آئے، اسے اپني سہيلي نوري پر بہت غصہ آيا جو بياہ کے گيت گانے ميں تاک سمجھي جاتي تھي اور جس نے ايک بار گوري کو چھيڑنے کيلئے بھرے مجمع ميں ايک گيت گايا تھا۔
عطر پھليل لگالے ري گوري سيج بلائے توئے
گوري نے ڈولي سے باہر قدم رکھا ہي تھا کہ آنگن سے اس پار تک روئي کي ايک پگڈنڈي سي بچھا دي گئي، اس کي ساس اس سے يوں لپٹ گئي جيسے گوري نے شراب پي رکھي ہوں، اور ساس کو اس کے لڑکھڑانے کا خوف دامن گير ہے، گوري نرم نرم روئي پر چلي تو اسے يونہي شک گزرا کہ واقعي يہ واقعہ تھا تو بڑا، اس کا اپنا اندازہ غلط تھا، آخر اتني ملائم روئي صرف اسي لئےتو خاک پر نہيں بھچائي گئي تھي، کہ اس کے مہندي رہے پائوں ميلے نہ ہوں، پر جونہي اس نے اس شبہ کو يقين ميں بدلنا چاہا تو اچانک اس کے پائوں زميں کي سخت ٹھنڈي سطح سے مس ہوئے اور سراب کي چمک ماند پڑ گئي۔۔۔۔۔۔۔۔روئي ختم ہوچکي تھي۔
اب سے سخت سزا بگھتنا پڑگئي، اسے ايک کونے ميں بيٹھا ديا گيا، اس حالت مين کہ اسکا سر جھک کر اس کے گھٹنوں کو چھورہا تھا اور اس کے گلے کا ہار آگے لٹ کر اس کي تھوڑي سے لپٹا پڑا تھا، گائوں والياں آنے لگيں، اکني چوني اسکے مردہ ہاتھ ميں ٹھونس دي اور گھونگھٹ اٹھا اٹھا کر بٹر بٹر اس چہرے کو گھورا جانے لگا۔۔۔۔جيسے لاش کے چہرے سے آخري ديدار کي خاطر کفن سرکا ديا جاتا تھا۔۔۔۔
سارا دن اس کي ناک کے بانسے، اس کي پلکوں کے تنائو، اس کے ہونٹوں کے خم، اس کے نام اور اس کے رنگ، اس کي اتني بڑي نتھ اور جھومر اور باليوں کے متعلق تذکرے کئے گئے، اور جب سورج پچھم کي طرف لٹک گيا تو اس کے آگے چوري کا کٹورا ادھر ديا گيا، اس کي ساس ناک سڑ سٹراتي اس کے پاس آئي اور بولي لئ ميري راني کھالے چوري؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔جيسے نئے نئے طوطے کو پچکارا جاتا ہے، اسے ايک بار خيال آيا کہ کيوں نہ نئے طوطے کي طرح لپک کر اس کي ناک کاٹ لے، مگر اب اس نے ايک اور موضوع پر بولنا شروع کرديا تھا، کيا کروں بہن عجيب مصيبت ہے، جي آتا نگوڑي ناک کو کاٹ کر پھينکوں، بہ چلي جار رہي ہے، اتني چھينکيں آتي ہيں، بہن اور اتني بڑي چھينکيں کہ اللہ قسم انتڑياں کھنچ جاتي ہيں، ادھر ميرے لال کا بھي يہي حال ہے، پڑا چھيکنتا ہے پلنگ پر، اور اس کا باپ تو کھانس کھانس کر ادھ موا ہورہا ہے،۔
گوري کا جي متلا گيا۔۔۔۔
پرے کونے ميں دبکي ہوئي ايک بڑھيا نے اپنے زخم کا تذکرہ چھيڑ ديا، چھينک آتي بھي ہے اور نہيں بھي، بس يوں منہ کھولتي ہوں اور کھولے رکھتي ہوں، اور چھينک پلٹ جاتي ہے اور دماغ ميں وہ کھلبلي مچتي ہے کہ چاہتي ہوں چولھے ميں دے دوں اپنا سر۔۔۔
عام شکايت ہے دوسري بولي۔۔۔
پہلي نے اپني بينگن جيسي ناک کو صادر تلے چھپا کر کہا، پر ميں تو سمجھتي ہوں يہ آفت صرف مجھ پر پڑي ہے، اوروں کو زکام ہوتا ہے کہ دماغ ميں کھلبي ہوئي، چھينک آئي اور جي خوش ہوگيا، يہاں تو يہ حال ہے کہ زکام کي فکر الگ اور جھينک کي الگ۔۔۔
اور خدا جانے کيا بات ہوئي کہ گوري کو بھي چھينک آگئي اس کي ساس اور اوسان خطا ہوگئے، تجھے بھي چھينک آگئ، اے ہے، اب کيا ہو گا، نئي نويلي دلہن کو اللہ کرے کبھي چھينک نہ آئے، بنفشے کا کاڑھا بنالائوں؟ پر اس صدي ميں تو بنفشے کا اثر ہي ختم ہوگيا، گرم گرم چنے ٹھيک رہيں گے وہ يہ کہ تيزي سے اٹھي تو چادر پائوں ميں الجھ گئي، ہڑ بڑا کر پرلے کونے ميں بڑھيا پر جا گري، وہ بے چاري چھينک کو دماغ سے نوچ چھيکنے کي کوشش ميں تھي کہ يہ نئي آفت ٹوٹي تو اس کہ منہ سے کچھ ايسي آواز نکلي جيسے گيلا گولا پٹھتا ہے۔
ہڑبونگ مچي تو گوري سب کے دماغ سے اتر گئي اور جب کچھ سکون ہوا تو بوڑھي نائن کولہوں پر ہاتھ رکھے اندر آئي اور گوري کے پاس بيٹھ کر بولي۔۔
اے ہے ميري راني، ابھي تک چوري نہيں کھائي تو نے؟ نوج ايسے لاج بھي کيا؟
ان دلہوں کو کيا ہوجاتا ہے، دو دو دن ايک کھيل بھي اڑ کر نہيں جاتي پيٹ ميں اور منہ مچوڑے بيٹھي ہے۔
جي نہيں چاہتا۔
جي چاہتا ہے اندر سے، پر يہ نگوڑي لاج نيا گھر۔۔۔۔۔۔۔۔نئے لوگ پر گوري راني میں تو تيري وہي پراني نائن ہوں، جانے کے بار مينڈھياں بنائيں، کے بار کنگھي کي، وہ ايک بار تيرا بندا اٹک گيا تھا بالوں ميں، تو چلائي تو گھر بھر مچل اٹھا، بڑي بوڑھيوں کا جمگھٹ ہوگيا، کوئي بندے کو مروڑ رہي تھي، کوئي بالوں کي لٹيں کھيچ رہي تھي اور تو گلاب کا پھول بني جارہي تھي۔
دکھ سے، میں آئي بالوں کي ايک لٹ کو ادھر اٹھايا، ايک لٹ کو ادھر کھسکايا اور بندا اپني جگہ پر آ گيا، ياد ہے نہ؟۔۔۔۔۔۔۔پر تو چوري کيوں نہيں کھاتي؟ يہ بھي کوئي بات ہے۔۔۔۔۔۔۔۔اور نائن نے گوري کا گھونگھٹ اٹھا کر کٹورا آگے بڑھا ديا۔
گوري کو تو جيسے آگ لگ گئي، چوري کھائي تو ہيٹی ہو سب کہيں چار دن سے بھوکي تھي، بھوکے کے گھر سے آئي ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور اگر ہاتھ اٹھا کر کٹورے کو پرے چکھيلتي ہےتو چوڑياں بجتي ہيں، يہ کم بخت بلور کي چوڑيا جن کے چھنا کے ميں چھرياں تيزکے جانے کي آواز تھي، بڑي بوڑھياں کہنيوں تک ٹھونس ديتي ہيں چوڑياں اور پھر ساتھ ہي يہ بھي کہتي ہيں کہ آواز نہ آئے زيور کي، لوگ بےشرم کہيں گے۔۔۔
گوري پہلے تو بت بني بيٹھي رہي ليکن جب نائن نے کٹورا اتنا آگے بڑھا ديا کہ وہ اس کے چولے کو چھونے لگا تو وہ ضبط نہ کرسکي، سرگوشي سے بھي کہيں مدہم آواز ميں بولي، ميں نہيں کھائوں گي، کيوں نہيں کھائے گي؟ نائن نے اب گوري کا گھونگھٹ اٹھا کر اپنے سر پر ڈال ليا تھا، کيوں نہيں کھائے گي؟ ميں کھلا کے چھوڑوں گي، تو نہيں کھائے گي تو ميں بھي نہيں کھائوں گي، ہاں پر تو تو ضرور کھائے گي، يہ ديکھ ميں کھا رہي ہوں، ديکھ نا گوري دلہن۔۔۔۔۔اس نے چوري مٹھي بھري اور پوپلے ميں ٹھونس کر بولي اب کھا بھي لے گوري راني۔
ميں نہيں کھائوں گي، گوري نے يہ الفاظ کچھ اونچي آواز ميں کہے اور گھونگھٹ کھيچ کر ديوار سے لگ گئي، چوڑياں بجيں تو عورتيں منمانے لگيں۔
نہي نويلي دلہنوں کو پہلے دن کبھي بولتے نہ سنا تھا۔
اور پھر ايک جگہ جم کر بيٹھي ہي نہيں، تڑپ رہي ہے پارے کي طرح۔
اس صدي کے بياہ کيا ہوتے ہيں مداري کھيل دکھاتا ہے۔
ہم نے ديکھي ہيں دلہن، ايک ايک مہينہ نہيں بوليں کسي سے۔۔۔۔۔۔ايک ايک مہينہ۔۔۔۔
مجھے تو اور کسي کي بات ياد نہيں، يہ سامنے نائن بيٹھي ہے ہماري، دس دن تک منہ ميں گھنگھنياں ڈالے بيٹھي رہي، گيارہويں دن زبان بھي ہلائي تو بس اذان کے بعد کلمہ پڑھا۔
نائن يوں ہنسنے لگي جيسے ٹين کے ڈبے ميں کنکر ڈال کر اسے لڑھکا ديا جائے، بولي کسي سے غلط بات سني تو نے، ميں نے تو جيسے ہي نئے گھر ميں قدم دھرا اور ساس نے سہارا ديا تو بلبلا اٹھي تھي، کيا لپٹي پڑتي ہے مجھ کو، ميں کوئي لنڈوري چڑيا توتھوڑي ہوں کہ اڑ جائوں گي پھر سے، يہيں رہنے آئي ہوں يہیں رہوں گي، ساس اپنا سا منہ لے کر رہ گئي اور ميں نے اسي روز دن ڈھلے سہيليوں سے گيٹياں کھيلي۔
کون گيٹياں کھيلي، گوري کي ساس دامن ميں چنے ڈالے اندر آئي۔۔۔۔دلہن کے ساتھ گيٹيوں کي باتيں کي جاتي ہيں؟ اتني عمر گزر گئي، سينکڑوں بار دايہ بني پر بات کرنے کا ڈھب نہ آيا تجھے۔۔۔بھونےہوئے چنوں کي خوشبو سے کمرہ مہک گيا، ليکن شادي کے روز سسرال ميں پہلے پہل چنوں سے فاقہ توڑنا برا شگون تھا اس لئے گوري اپنے آپ کو اس نئے حملے سے محفوظ رکھنے کي کوشش کرنے لگي، نائن کا بازو چھوا اور جب وہ اس کے بالکل قريب ہوگئي تو آہستہ سے بولي مجھے نيند آئي ہے۔
گوري کي ساس نے نائن سے پوچھا کيا کہتي ہے؟
نائن ناک پر انگلي رکھ کر بولي کہتي مجھے نيند آئي ہے؟۔۔۔۔۔اور پھر ٹين کے ڈبے ميں کنکر بجنے لگے۔۔۔ميري راني نيدن کي بھي ايک ہي کہي تو نے۔۔۔۔۔تيري نيند ۔۔۔۔دلہن کي نيند۔۔۔۔۔۔اب ميں کيا کہوں؟ گلے ميں پھندا پڑا ہے۔
يہاں گوري کي ساس نے رحمت کے فرشتے کا روپ دھار ليا بولي، اے رہنے بھي دے بات بات پر دانت نکال رہي ہے، نائن ہوتو سليقے والي ہو يہ بھي کيا ادھر بات ہوئي ادھر منہ پھاڑ کر حلق کا کوا دکھا ديا، اتنا نہيں سوچا کہ دن بھر کي تھکن ہے۔۔۔۔سو چا ميري گوري راني۔۔۔۔پر يہ چنے۔
اونہک گوري ايک طرف جھک گئي اور قريب ہي بيٹھي ہوئي ادھيڑ عمر کي ايک عورت گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر بولي۔بڑي لاڈلي دلہن ہے۔۔۔
سب عورتيں باہر نکل گئيں مگر گوري کي آنکھوں ميں نيند کہاں آج تو نيند کي جگہ کاجل نے لے لي ہے، آنکھيں جھپکاتي رہي اور سوچتي رہي، واہ رے ميرے پھوٹے بھاگ يہي بياہ ہے تو واري جائوں کنوارے پن پے، کيا زمانہ تھا کون سي بات ياد کروں، کس کس کو ياد کرو، وہ ساون کي چھم چھم ميں کڑےنيم کے ٹہنے ميں چھولنا، جھولا آگے لپکتا ہےتو ٹھنڈي پھوار دھو ڈالتي ہے، جھولا پيچھا ہٹتا ہے، تو خوشبو ميں بسي ہوئي لٹيں چہرے کو پونچھ ڈالتي ہيں، آس پاس کا جھرمٹ بھيگي بھيگي ڈھولک کي ميٹھي ميٹھي آواز اور نوري کا نرس بھرا گيت۔۔۔
موہے ساون کي رم جھم بھائے رے۔۔
بھيا کے کانوں ميں سونے کي مرکي۔۔
پھول پہ تتلي آئے رے۔۔۔۔
موہے ساون کي رم جھم بھائے رے۔۔
اور پھر اسي شرير نوير کے کھلے آنگين ميں چرغے کي گھوں گھوں، گورے گورے ہاتھ پونياں تھامے اوپر ابھرتے ہيں، تکتے سے باريک تار لپٹتا ہے تو ايسا لگتا ہے جيسے تار پوني سے نہيں نکلا ، گوري کي ہتھيلي سے نکلا ہے، اور پھر عيد کے دن ملنگ سائيں کا ميلہ، وہ اتري ڈھيروں پر پروا کے جھونکوں ميں لچکتي ہوئي گھاس ۔۔۔۔۔وہ گونجتے ہوئے دن اور چپ چاپ راتيں اور يہ نئي زندگي جينا اجيرن ہو رہا تھا، ہاتھ پائوں ہلائوں تو بے حيا اور لاڈلي ٹہروں، اجنبي عورتوں کا ہجوم کوئي کھانستي ہے، کوئي چھينکتي ہے، کوئي پڑوسن کا گلہ کرتي ہے، کوئي ميرے لونگ کے کناروں کو بھدا بتاتي ہے، نہ ساون کي رم جھم کے گيت، نہ الف ليلہ کي کہانياں، نہ ہم سنوں کي چہيلں، اس سےتو يہي اچھا تھا کہ ماں باپ مجھے کسي کگر سے دکھا دے ديتے، يہ سانسوں کي ڈوري ٹوٹ جاتي، چين آجاتا ، کيسے مذاق کرتي تھي مجھ سے نوري، تو بياہي جائے گي، دلہن بنے گي مہندي رچائے گي، دودھ پئے گي، چوري کھائے گي اور نوري کو اپنے من سے نکال دے گي۔۔۔۔۔بے چاري بھولي نوري۔۔۔۔۔نادان سہيلي۔۔۔۔تجھے کيا معلوم بياہ کي رونق صرف دکھاوا ہے، پھوڑے کي طرح۔۔۔۔۔اوپر سے گلابي اندر سے پيپ بھرا۔۔۔۔۔اف۔۔۔۔
گوري گھبرا کر اٹھي بيٹھي، چوڑياں بجيں تو ساس اندر دوڑي آئي اس کے بعد ايک عورت۔۔۔۔دوسري عورت۔۔۔۔پھر تسيري عورت۔۔۔۔۔اور وہي دم گھونٹ دينے والي حرکتيں اور باتيں، گوري نے چاہا نادان بچوں کي طرح مچل جائے بلک بلک کر رونےلگے، بھاگ کر باہر آنگن ميں لوٹنے لگے، زيور اتار پھينکے کپڑوں کي دھجياں اڑادے اور آنکھوں پر دھول بھرے ہاتھ مل مل کر سسکياں بھرے اور کہے، ميں تو سب سے تھک گئي ہوں، تم الف ليلہ والي ديونياں ہو، تماہري کھانس کي ٹھن ٹھن تمہارے قہقہوں کي کرختگي بہت ڈرائوني بہت گھنائوني ہے، مجھے اکيلا چھوڑ دو ميں ناچنا اور گانا چاہتي ہوں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔تب گوري کے دل ميں خيال آيا نہ ہوئي نوري اس وقت ورنہ يوں زور ست گلےلگاتي اسے کم بخت کي پسلياں پٹاخے چھوڑنے لگتيں۔
وہ خدا جانے اور کيا سوچتي مگر ساس اور نائن اور دوسري کم بختين پھر وہي گھس پٹي باتيں کرنيں لگيں، جہيز کي کيا پوچھتي ہو بہن، سارا گھر دے ڈالا گوري کو، ايسے ايسے کپڑے کہ ديکھے ميلے ہوں، وہ وہ زيور کہ آنکھيں چندھيا جائيں، پلنگ کے پانے نہيں ديکھے تم نے؟ نيچے سے شنگرافي اور اوپر سے اتنے سفيد جيسے چاند اتر کر جڑ دئيے ہيں، اصل ميں ميرا بيٹا ہے ہي قسمت والا۔۔
اور نائن بولي کيا سجيلا گبرو ہے۔ آن نائي کہہ رہا ھے ميں کپڑے پہنانے دولہا کو گھر آئوں گا شانے پر ہاتھ پھيرا تو جيسے فولاد اور چہرے پر وہ نور کہ تارے بغليں جھانکيں۔۔۔۔ پر ميں ابھي ابھي اسے ڈيوڑھي ميں کھڑے ديکھا، اس زکام کا برا ہو، پھول سا چہرہ يوں ہو رہا تھا۔۔۔۔۔اور نائن نے اپني سفيد چادر کا پلو سب کے آگے پھيلا ديا۔
گوري کيلئے يہ موضوع بھي دلچسپي سے خالي تھا، نائين جھوٹ بولتي ہيں اکثر، پر وہ سجيلا ہے بھي تو کيا، حالت تو يہ ہے کہ چار پہر سے اس کے گھر ميں بيٹھي ہوں اور اس نے شکل تک نہيں دکھائي، وہيں ڈيوڑھي ميں پڑا چھينکتا ہے، بے ترس۔
بڑي دير کے بعد شام آئي، عورتيں چلي گئيں اور اس نے ہاتھ پائوں پھيلا کر بازو تانے، زيور سے لدے پھندے سر کو دھيرے سے جھٹکايا اور باہر ديکھا، اس کي ساس اور نائن سامنے کے کمرے سے باہر آتي تھيں اور اندر گھس جاتي مرجھائي ہوئي بانہوں ميں تانبے کے کنگن اور پتيل کي چوڑياں جيسے کھانس رہي تھي، جوتياں چپڑ چپڑ چيخ رہي تھيں اور وہ کل دار گڑيوں کي طرح مٹکتي پھر رہي تھيں۔
کچھ دير بعد گائوں والياں گيت گانے اور سننے آئيں تو ان کے ہمراہ نوري بھي آئي گوري کے قريب بيٹھ گئي اور اس کے کان ميں بولي آج تو بات تک نہيں کرتي بہن، اور پھر آنکھيں مٹکا کر گنگننے لگي۔
دلہن کا بولنا گناہ ہے اور پھر گوري تو ان اللہ واليوں کو ذکر بھي سن چکي تھي جنہوں نے ايک ايک ماہ چپ شاہ کا روزہ رکھا، اس لئے اس نے بولنا مناسب نہ سمجھا بس دھيرے سے نوري کے پہلو میں کہني جڑدي، اور نوري تڑپ کر بولي، لے کے کيلجہ ہلا ديا ميرا، کيوں نہ ہو، بياہ جو ہوگيا تيرا، ہو لينے دے ہمارا بياہ، تيرے گھر کے پاس سے گزريں گے تو ناک بھوں چڑھا کر آگے بڑھ جائيں گے غرور سے پلٹ کر ديکھيں گے بھي نہيں ، کر لے مان گھڑي کي بات ہے۔
گوري کي زبان ميں سوئياں سي چبھ گئيں، جب تک گيت گائے جاتے رہے وہ نوري کو اور نوري کے نقرئي بندوں کو ديکھتي رہي اور سوچتي رہي کہ ، کنوارے پنے کے ساتھي، بندے کيسے بھلے لگتے ہيں گلابي کانوں ميئں، اور ايک ميرے کان ہيں کہ کيڑوں ايسي پتلي پتلي باليوں سے پٹے پڑے ہيں، نوري سر ہلاتي ہے تو يہ بندے تاروں کي طرح ٹمٹاتے ہيں اور جب پلٹ کر ادھر ادھر ديکھتي ہے تو بندے انگوروں کا گچھا بن جاتے ہيں۔۔۔۔۔۔۔سوچتے سوچتے اس کا ماتھا دھوپ ميں پڑي ہوئي ٹھيکري کي مانند تب گيا اور جب سب ناچنے لگيں اور نوري نے ڈھولک کے ارد گرد گھوم کر ايک گايا۔۔۔
جاري سہيلي اب جا۔۔۔۔تو ہے پيا بلاوے۔
چاندي کي جھيلوں کے پار رے
سونے کے ٹیلوں کے پار رے
جاري سہيلي اب جا۔۔۔۔تو ہے پيا بلاوے
تو گوري نے ديوار سے سر ٹيک کر روکنا چاہا کہ ذرا جي ھلکا ہو جائے تو مگر آج تو آنکھوں ميں ہر چيز کي جگہ کاجل نے لے لي تھي، نہ نيند نہ آنسو بس کاجل ہي کاجل اچھا بياہ ہوا۔۔۔يہ بھي خوب رہي۔
جب سب چلي گئيں اور آنگن سونا ہوگيا تو دولہا کا باپ کھانستا ہوا آيا اور ايک طرف سے حقہ اٹھا کر چلتا بنا، نائن ہاتھ ملتي اٹھي اور بولي، آ ميري بچي ادھر پلنگ پر آجا، نيند آرہي ہوگي تجھے اور پھر گوري کي بغلوں ميں ہاتھ ڈال کر نائن نے اسے يوں کھينچا جيسے لاش کو اٹھا رہي ہے، گوري پائوں گھسٹي کمرے ميں آئي، رنگين پائے والے پلنگ پر دھم سے گري اور چھم سے ليٹ گئي، نائن بولي بيٹي زيور تو اتار لے، نتھ وتھ کہيں اٹک گئي تو مشکل بنے گي۔۔۔۔۔۔نہيں اٹکتي گوري بولي۔۔۔ميں خود اتار لوں گي۔۔
نائن نے آگے بڑھ کر پھر اس کي بغلوں ميں دونوں ہاتھ جما دئيے، نہيں نہيں بيٹي يہ برا شگون ہے، زيور اتارنے ہي پڑتے ہيں، ايک بار ايک دلہن نے تيري طرح۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ليکن نائن اپني کہاني شروع کرنے ہي پائي تھي کہ گوري زيور نوچنے لگي اور پھر فورا دھڑام سے پلنگ پر گر گئي، ٹين کے ڈبے ميں کنکر بج اٹھے نائن بولي يہ بھي خوب رہي نائن چلي گئي اور گوري دانت پيس کر رہ گئي۔
جيسے بہت سے تاگے آپس ميں الجھ جائيں تو انہيں سلجھانے کي کوشس اور الجھنيں پيدا کرديتي ہے بالکل يہي کيفيت تھي گوري کے ذہن کی، بياہ کا پہلا دن بس بن کر اس کے سينے پر سوار تھا، کہ اچانک چرغ سے دروازہ کھلا گوري چونک گئي، ارے۔
ميں سمجھتي تھي نائن جھوٹ بکتي ہے، اس نے گھونگھٹ کي شکنوں ميں سے کنکھيوں سے نودار کو ديکھتے ہوئے سوچا، يہ ميرا دولہا ہے يا لال بادشاہ۔
بھونچال سا آ گيا اس کي طبعيت ميں، چيختي ہوئي آندھيوں، کڑکتے ہوئے بادلوں ، لڑھکتي ہوئي چٹانوں اور ٹوٹے ہوئے ٹہنوں ميں لپٹا ہوا ذہن يہاں سے وہاں اچھلنے لگا سنبھل کر بيٹھنا چاہا تو پلنگ کے پائے تک کھسک گئے۔
دولھا مسکراتا رہا اور پھر پلنگ پر بيٹھ کر بولا اگر تم کچھ اور پرے کھسکتيں تو پلنگ سے گر جاتي۔
گوري خاموش رہي۔
دولھا نے اس کا ہاتھ پکڑ ليا اور بولا، سنا کچھ۔
اور يکايک آندھياں تھم گئيں اور بادلوں نے چپ سادھ لي، گوري کے جسم ميں جھرجھري سي دوڑ گئي، ذہن يوں صاف ہوگيا جيسے اس نے کڑکتي دھوپ ميں ليموں کا يخ شربت غٹ غٹ چڑھا ليا ہو، انگڑائي آئی تو با نہيں نہ تان سکي، بس اندر ہي چٹخ پٹخ کر رہ گئي اور پھر ہاتھ چھڑا کر ذرا پرے کھسکنے کي کوشش کرنے لگي۔
پلنگ سے گر جائو گي گوري۔ دولہا بولا۔
آپ کي بلا سے۔گوري نے جيسے اپنے ذہن کا سارا بوجھ اتار کر پرے جھٹک ديا۔
اگر تم گرگئيں تو تکليف مجھے ہوگي دولہا بولا۔
گوري شرما گئي اور بےتعلق سا سوال کر بيٹھي، زکام کا کيا حال ہے۔
سرک گيا ہے اس وقت، دولھا مسکرايا اور پھر خاموشي کے ايک طويل وقفے ميں گوري کي اٹھتي اور گرتي ہوئي نظروں سے بہت سي باتيں کرليں اور جب آنگن کے پرلے سرے پر اپنے ڈربے ميں ايک مرغي ککرائي تو دولھا نے کہا کوئي بات کرو گوري۔
تم ہي کوئي بات کرو، گوري پہلي مرتبہ مسکرادي۔
کيا بات کروں؟
کوئي کہاني وہاني سنائو، گوري جيسے اپنےآپ سے باتيں کرہي ہو۔
کہاني ۔۔۔۔۔۔۔۔۔کيي کہاني؟دولھا نے پوچھا۔
کوئي پريوں وريوں کي کہاني، گوري کھل کر بولنے کے باوجود سمٹی جا رہي تھي،۔
مجھے تو صرف لال بادشاہ اور سبز پري کي کہاني آتي ہے، دولھا مسکرايا۔
وہي سہي، گوري نے انگلي ميں سنہري انگوٹھي کو گھماتے ہوئے کہا۔
دولھا نے تکئے پر کہني ٹیک دي۔ تو پھر سنو، پر ذرا قريب ہوکر سننا۔۔۔۔۔۔يوں۔۔۔۔جہاں زمين ختم ہوجاتي ہے نا وہں ايک نگري ہے، جسے لوگ نيند کي نگري کہتے ہيں، اس نگري پر ايک بادشاہ راج کيا کرتا تھا، اسکا نام تھا لال بادشاہ بڑا خوبصورت، بڑا ہنس مکھ بہت بانکا، بہت سجيلا۔
تمہاري طرح، گوري کا بستر کي چادر پر انگلي پھرتے ہوئے يوں بولي جيسے کانسي کےکٹورے سے چھلا مس کر گيا ہو۔
دولھا ہنس ديا اور گوري کي لال لال پوروں کو اپني دودھ ايسي پوروں سے ٹٹول کر بولا تو کرنا خدا کيا ہوا گوري کہ ايک دن لال بادشاہ شکار کھيلنے ايک جنگل ميں جانکلا اور۔۔۔۔۔۔۔۔
ابھي کہاني نصف تک پہنچي تھي، ابھي لال بادشاہ نے سبز پري کا ہاتھ اپنے ہاتھ ميں ہي ليا تھا کہ دروازے کي جھريوں سے صبح کاذب جھانکي، دولھا چونک کر بولا، ارے صبح ہوگئي۔
نہيں شام ہوگي، گوري نہ بھولے سے کہا۔
اچھل کر دولھا نے دروازہ کھولا پلٹ کر مسکرايا اور باہر نکل گيا اور گوري نے اتني لمبي انگڑائي لي جيسے پورب سے انگڑائي ليتي ہوئي صبح کا منہ نوچ لے گي، تکئيے ميں سرجما کر کہنے لگي ہائے رے نوري بہن تو کتني ابھاگن ہے، پڑي ہوگي ٹوٹے کھٹولے پر گھگھڑي بن کر۔۔۔۔۔۔اور يہاں تيري گوري شنگرفي پايوں والے پلنگ پر۔۔۔۔۔مہندي کي خوشبو سے بسے ہوئے کمرے ميں ۔۔۔۔۔اپنے بانکے سجيلے دولھا سے۔۔۔۔۔اف، کتني سچي باتيں کہتي تھي تو؟
اس نے مسکرا کر دئيے کي پيلي روشني ميں اپني لال ہتھيلياں ديکھيں اور اپنے تپے ہوئے چہرے پر ہاتھ مل کر بولي، کاش اس وقت يہاں نوري ہوتي ۔۔۔۔۔۔يا کوئي آئينہ ہي ہوتا؟
احمد ندیم قاسمی
برات آئي، خير کيلئے ہاتھ اٹھائے گئے اور اس کے بياہ کا اعلان کيا گيا۔۔۔۔۔۔۔۔وہ لال دوپٹے ميں سمٹي ہوئي سوچنے لگي کہ اتنا بڑا واقعہ اتنے مختصر عرصے ميں کيسے تکميل تک پہنچا، وہ تو يہ سمجھے بيٹھي تھي کہ جب برات آئے گي تو زمين اور آسمان کے درميان الف ليلہ والي پريوں کے غول ہاتھوں ميں ہاتھ ڈالے، پروں سے ملائے بڑا پيارا سا ناچ ناچيں گے، بکھرے ہوئے تارے ادھر ادھر سے کھسک کر ايک دوسرے سے چمٹ جائيں گے اور ٹمٹاتے ہوئے بادل کي شکل اخيتار کر ليں گے، اور پھر يہ بادل ہولے ہولے زميں پر اترے گا، اس کے سر پر آکر رک جائے گا اور اس کے حنا آلود انگھوٹے کي پوروں کي لکيريں تک جھلملا اٹھيں گيں، دنيا کے کناروں سے تہنيت کے غلفے اٹھيں گے اور اس کے باليوں بھرے کانوں کے قريب آکر منڈ لائيں گے۔۔۔۔۔۔۔وہ تو يہ سمجھتي تھي کہ يہ دن اور رات کا سلسلہ صرف اس کے بياہ کے انتظار ميں ہے، بس جو نہي اس کا بياہ ہوگا، پورب پچھم پر ايک مٹيالا سا اجالا چھا جائے گا۔۔۔۔۔جسے نہ دن کہا جاسکے گا اور نہ ہي رات۔۔۔۔۔۔بس جھٹپٹے کا سا سماں رہے گا قيامت تک اور جونہي برات اس کے گھر کي دہليز الانگے گي يہ سارا نظام کھلکھلا کر ہنس دے گا اور تب سب لوگوں کو معلوم ہوگا کہ آج گوري کا بياہ ہے۔
ليکن بس برات آئي، لمبي لمبي داڑھيوں والوں نے آنکھيں بند کرکے دعا کيلئے ہاتھ اٹھائے، شکر اور تل تقسيم کئے گئے اور پھر اسے ڈولي ميں دھکا دے يا گيا، ڈھول چنگھاڑنے لگے، شہنائيان بکلنے لگيں، گولے بھونکنے لگے اور وہ کسي ان ديکھے ، ان جانے گھر کو روانہ کردي گئي۔
ڈولي ميں سے بہت مشکل سے ايک جھري بنا کر اس نے ميراسيوں کي طرف ديکھا، کالے کلوٹۓ بھتنے، ميال ڈھول اور مري ہوئي سنپوليون کي سي شہنائيوں ، نہ بين نہ باجہ نہ تونتنياں نہ انٹوں کے گھٹنوں پر جھنجناتے ہوئے گھنگرو، نہ گولے نہ شرکنياں، جيسے کسي کي لاش قبرستان لے جا رہے ہوں۔
ہاں وہ لاش ہي تو تھي اور يہ ڈولي اس کا تابوت تھا، سفيد کفن کے بجائے اس نےلال کفن اوڑھ رکھا تھا اور پھر يہ نتھ، بلاق، جھومر، ہار۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بالياں۔۔۔۔۔۔۔۔۔يہ قبر والے بچھو اور کھنکجورے تھے، جو اسے قدم قدم پر ڈس رہے تھے۔
ڈولي کے قريب بار بار ايک بوڑھے کي کھانسي کي آواز آرہي تھي، شايد وہ دولہا کا باپ تھا۔۔۔۔۔۔۔۔پھر جس دولھا کا باپ پل پل بھر بعد بلغم کے انتے بڑے بڑے گولے پٹاخ سے زمين پر دے مارتا ہے، وہ خود کيسا ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔ہائے ري۔
وہ رو دي، وہ اس سے پيشتر بھي روئي تھي، جب اس کي ماں نے اسے گلے سے لگايا اور سرگوشي کي۔۔ميري لاڈلي گوري۔۔۔تيري عزت ہماري عزت ہے، تو اب پرائے گھر جارہي ہے، بڑے سليقے سے رہنا ورنہ ناک کٹ جائے گي، ہماري۔۔۔۔۔۔۔۔۔يعني اس کي ماں کو اس موقعہ پربھي اپني ناک کي فکر ہوئي بھٹی ميں دانہ اسپند ڈال ديا جائے۔۔۔۔۔ماں کو اس کے دل کي پراوہ نہ تھي، اس وقت دکھاوے کي خاطر وہ روئي بھي ، سسکياں بھي بھري، گلووان کے دوپٹۓ سے آنسو بھي پونچھے، پر اس نے رونے ميں کوئي مزا نہ تھا، يہاں ڈولي ميں اس کي آنکھوں ميں نمي تيري ہي تھي کہ اس کے روئيں روئيں ميں ہزاروں خفتہ بے قرارياں جاگ اٹھيں۔۔۔۔۔۔۔۔۔شہنائياں اس کا ساتھ ديتي رہيں، ڈھول پٹتا رہا، جب ڈولي دولھا کے گھر پہنچي تو ايک گولہ چھوٹا جيسے کسي بيمار کو مري مري چھيک آئے، اسے اپني سہيلي نوري پر بہت غصہ آيا جو بياہ کے گيت گانے ميں تاک سمجھي جاتي تھي اور جس نے ايک بار گوري کو چھيڑنے کيلئے بھرے مجمع ميں ايک گيت گايا تھا۔
عطر پھليل لگالے ري گوري سيج بلائے توئے
گوري نے ڈولي سے باہر قدم رکھا ہي تھا کہ آنگن سے اس پار تک روئي کي ايک پگڈنڈي سي بچھا دي گئي، اس کي ساس اس سے يوں لپٹ گئي جيسے گوري نے شراب پي رکھي ہوں، اور ساس کو اس کے لڑکھڑانے کا خوف دامن گير ہے، گوري نرم نرم روئي پر چلي تو اسے يونہي شک گزرا کہ واقعي يہ واقعہ تھا تو بڑا، اس کا اپنا اندازہ غلط تھا، آخر اتني ملائم روئي صرف اسي لئےتو خاک پر نہيں بھچائي گئي تھي، کہ اس کے مہندي رہے پائوں ميلے نہ ہوں، پر جونہي اس نے اس شبہ کو يقين ميں بدلنا چاہا تو اچانک اس کے پائوں زميں کي سخت ٹھنڈي سطح سے مس ہوئے اور سراب کي چمک ماند پڑ گئي۔۔۔۔۔۔۔۔روئي ختم ہوچکي تھي۔
اب سے سخت سزا بگھتنا پڑگئي، اسے ايک کونے ميں بيٹھا ديا گيا، اس حالت مين کہ اسکا سر جھک کر اس کے گھٹنوں کو چھورہا تھا اور اس کے گلے کا ہار آگے لٹ کر اس کي تھوڑي سے لپٹا پڑا تھا، گائوں والياں آنے لگيں، اکني چوني اسکے مردہ ہاتھ ميں ٹھونس دي اور گھونگھٹ اٹھا اٹھا کر بٹر بٹر اس چہرے کو گھورا جانے لگا۔۔۔۔جيسے لاش کے چہرے سے آخري ديدار کي خاطر کفن سرکا ديا جاتا تھا۔۔۔۔
سارا دن اس کي ناک کے بانسے، اس کي پلکوں کے تنائو، اس کے ہونٹوں کے خم، اس کے نام اور اس کے رنگ، اس کي اتني بڑي نتھ اور جھومر اور باليوں کے متعلق تذکرے کئے گئے، اور جب سورج پچھم کي طرف لٹک گيا تو اس کے آگے چوري کا کٹورا ادھر ديا گيا، اس کي ساس ناک سڑ سٹراتي اس کے پاس آئي اور بولي لئ ميري راني کھالے چوري؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔جيسے نئے نئے طوطے کو پچکارا جاتا ہے، اسے ايک بار خيال آيا کہ کيوں نہ نئے طوطے کي طرح لپک کر اس کي ناک کاٹ لے، مگر اب اس نے ايک اور موضوع پر بولنا شروع کرديا تھا، کيا کروں بہن عجيب مصيبت ہے، جي آتا نگوڑي ناک کو کاٹ کر پھينکوں، بہ چلي جار رہي ہے، اتني چھينکيں آتي ہيں، بہن اور اتني بڑي چھينکيں کہ اللہ قسم انتڑياں کھنچ جاتي ہيں، ادھر ميرے لال کا بھي يہي حال ہے، پڑا چھيکنتا ہے پلنگ پر، اور اس کا باپ تو کھانس کھانس کر ادھ موا ہورہا ہے،۔
گوري کا جي متلا گيا۔۔۔۔
پرے کونے ميں دبکي ہوئي ايک بڑھيا نے اپنے زخم کا تذکرہ چھيڑ ديا، چھينک آتي بھي ہے اور نہيں بھي، بس يوں منہ کھولتي ہوں اور کھولے رکھتي ہوں، اور چھينک پلٹ جاتي ہے اور دماغ ميں وہ کھلبلي مچتي ہے کہ چاہتي ہوں چولھے ميں دے دوں اپنا سر۔۔۔
عام شکايت ہے دوسري بولي۔۔۔
پہلي نے اپني بينگن جيسي ناک کو صادر تلے چھپا کر کہا، پر ميں تو سمجھتي ہوں يہ آفت صرف مجھ پر پڑي ہے، اوروں کو زکام ہوتا ہے کہ دماغ ميں کھلبي ہوئي، چھينک آئي اور جي خوش ہوگيا، يہاں تو يہ حال ہے کہ زکام کي فکر الگ اور جھينک کي الگ۔۔۔
اور خدا جانے کيا بات ہوئي کہ گوري کو بھي چھينک آگئي اس کي ساس اور اوسان خطا ہوگئے، تجھے بھي چھينک آگئ، اے ہے، اب کيا ہو گا، نئي نويلي دلہن کو اللہ کرے کبھي چھينک نہ آئے، بنفشے کا کاڑھا بنالائوں؟ پر اس صدي ميں تو بنفشے کا اثر ہي ختم ہوگيا، گرم گرم چنے ٹھيک رہيں گے وہ يہ کہ تيزي سے اٹھي تو چادر پائوں ميں الجھ گئي، ہڑ بڑا کر پرلے کونے ميں بڑھيا پر جا گري، وہ بے چاري چھينک کو دماغ سے نوچ چھيکنے کي کوشش ميں تھي کہ يہ نئي آفت ٹوٹي تو اس کہ منہ سے کچھ ايسي آواز نکلي جيسے گيلا گولا پٹھتا ہے۔
ہڑبونگ مچي تو گوري سب کے دماغ سے اتر گئي اور جب کچھ سکون ہوا تو بوڑھي نائن کولہوں پر ہاتھ رکھے اندر آئي اور گوري کے پاس بيٹھ کر بولي۔۔
اے ہے ميري راني، ابھي تک چوري نہيں کھائي تو نے؟ نوج ايسے لاج بھي کيا؟
ان دلہوں کو کيا ہوجاتا ہے، دو دو دن ايک کھيل بھي اڑ کر نہيں جاتي پيٹ ميں اور منہ مچوڑے بيٹھي ہے۔
جي نہيں چاہتا۔
جي چاہتا ہے اندر سے، پر يہ نگوڑي لاج نيا گھر۔۔۔۔۔۔۔۔نئے لوگ پر گوري راني میں تو تيري وہي پراني نائن ہوں، جانے کے بار مينڈھياں بنائيں، کے بار کنگھي کي، وہ ايک بار تيرا بندا اٹک گيا تھا بالوں ميں، تو چلائي تو گھر بھر مچل اٹھا، بڑي بوڑھيوں کا جمگھٹ ہوگيا، کوئي بندے کو مروڑ رہي تھي، کوئي بالوں کي لٹيں کھيچ رہي تھي اور تو گلاب کا پھول بني جارہي تھي۔
دکھ سے، میں آئي بالوں کي ايک لٹ کو ادھر اٹھايا، ايک لٹ کو ادھر کھسکايا اور بندا اپني جگہ پر آ گيا، ياد ہے نہ؟۔۔۔۔۔۔۔پر تو چوري کيوں نہيں کھاتي؟ يہ بھي کوئي بات ہے۔۔۔۔۔۔۔۔اور نائن نے گوري کا گھونگھٹ اٹھا کر کٹورا آگے بڑھا ديا۔
گوري کو تو جيسے آگ لگ گئي، چوري کھائي تو ہيٹی ہو سب کہيں چار دن سے بھوکي تھي، بھوکے کے گھر سے آئي ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور اگر ہاتھ اٹھا کر کٹورے کو پرے چکھيلتي ہےتو چوڑياں بجتي ہيں، يہ کم بخت بلور کي چوڑيا جن کے چھنا کے ميں چھرياں تيزکے جانے کي آواز تھي، بڑي بوڑھياں کہنيوں تک ٹھونس ديتي ہيں چوڑياں اور پھر ساتھ ہي يہ بھي کہتي ہيں کہ آواز نہ آئے زيور کي، لوگ بےشرم کہيں گے۔۔۔
گوري پہلے تو بت بني بيٹھي رہي ليکن جب نائن نے کٹورا اتنا آگے بڑھا ديا کہ وہ اس کے چولے کو چھونے لگا تو وہ ضبط نہ کرسکي، سرگوشي سے بھي کہيں مدہم آواز ميں بولي، ميں نہيں کھائوں گي، کيوں نہيں کھائے گي؟ نائن نے اب گوري کا گھونگھٹ اٹھا کر اپنے سر پر ڈال ليا تھا، کيوں نہيں کھائے گي؟ ميں کھلا کے چھوڑوں گي، تو نہيں کھائے گي تو ميں بھي نہيں کھائوں گي، ہاں پر تو تو ضرور کھائے گي، يہ ديکھ ميں کھا رہي ہوں، ديکھ نا گوري دلہن۔۔۔۔۔اس نے چوري مٹھي بھري اور پوپلے ميں ٹھونس کر بولي اب کھا بھي لے گوري راني۔
ميں نہيں کھائوں گي، گوري نے يہ الفاظ کچھ اونچي آواز ميں کہے اور گھونگھٹ کھيچ کر ديوار سے لگ گئي، چوڑياں بجيں تو عورتيں منمانے لگيں۔
نہي نويلي دلہنوں کو پہلے دن کبھي بولتے نہ سنا تھا۔
اور پھر ايک جگہ جم کر بيٹھي ہي نہيں، تڑپ رہي ہے پارے کي طرح۔
اس صدي کے بياہ کيا ہوتے ہيں مداري کھيل دکھاتا ہے۔
ہم نے ديکھي ہيں دلہن، ايک ايک مہينہ نہيں بوليں کسي سے۔۔۔۔۔۔ايک ايک مہينہ۔۔۔۔
مجھے تو اور کسي کي بات ياد نہيں، يہ سامنے نائن بيٹھي ہے ہماري، دس دن تک منہ ميں گھنگھنياں ڈالے بيٹھي رہي، گيارہويں دن زبان بھي ہلائي تو بس اذان کے بعد کلمہ پڑھا۔
نائن يوں ہنسنے لگي جيسے ٹين کے ڈبے ميں کنکر ڈال کر اسے لڑھکا ديا جائے، بولي کسي سے غلط بات سني تو نے، ميں نے تو جيسے ہي نئے گھر ميں قدم دھرا اور ساس نے سہارا ديا تو بلبلا اٹھي تھي، کيا لپٹي پڑتي ہے مجھ کو، ميں کوئي لنڈوري چڑيا توتھوڑي ہوں کہ اڑ جائوں گي پھر سے، يہيں رہنے آئي ہوں يہیں رہوں گي، ساس اپنا سا منہ لے کر رہ گئي اور ميں نے اسي روز دن ڈھلے سہيليوں سے گيٹياں کھيلي۔
کون گيٹياں کھيلي، گوري کي ساس دامن ميں چنے ڈالے اندر آئي۔۔۔۔دلہن کے ساتھ گيٹيوں کي باتيں کي جاتي ہيں؟ اتني عمر گزر گئي، سينکڑوں بار دايہ بني پر بات کرنے کا ڈھب نہ آيا تجھے۔۔۔بھونےہوئے چنوں کي خوشبو سے کمرہ مہک گيا، ليکن شادي کے روز سسرال ميں پہلے پہل چنوں سے فاقہ توڑنا برا شگون تھا اس لئے گوري اپنے آپ کو اس نئے حملے سے محفوظ رکھنے کي کوشش کرنے لگي، نائن کا بازو چھوا اور جب وہ اس کے بالکل قريب ہوگئي تو آہستہ سے بولي مجھے نيند آئي ہے۔
گوري کي ساس نے نائن سے پوچھا کيا کہتي ہے؟
نائن ناک پر انگلي رکھ کر بولي کہتي مجھے نيند آئي ہے؟۔۔۔۔۔اور پھر ٹين کے ڈبے ميں کنکر بجنے لگے۔۔۔ميري راني نيدن کي بھي ايک ہي کہي تو نے۔۔۔۔۔تيري نيند ۔۔۔۔دلہن کي نيند۔۔۔۔۔۔اب ميں کيا کہوں؟ گلے ميں پھندا پڑا ہے۔
يہاں گوري کي ساس نے رحمت کے فرشتے کا روپ دھار ليا بولي، اے رہنے بھي دے بات بات پر دانت نکال رہي ہے، نائن ہوتو سليقے والي ہو يہ بھي کيا ادھر بات ہوئي ادھر منہ پھاڑ کر حلق کا کوا دکھا ديا، اتنا نہيں سوچا کہ دن بھر کي تھکن ہے۔۔۔۔سو چا ميري گوري راني۔۔۔۔پر يہ چنے۔
اونہک گوري ايک طرف جھک گئي اور قريب ہي بيٹھي ہوئي ادھيڑ عمر کي ايک عورت گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر بولي۔بڑي لاڈلي دلہن ہے۔۔۔
سب عورتيں باہر نکل گئيں مگر گوري کي آنکھوں ميں نيند کہاں آج تو نيند کي جگہ کاجل نے لے لي ہے، آنکھيں جھپکاتي رہي اور سوچتي رہي، واہ رے ميرے پھوٹے بھاگ يہي بياہ ہے تو واري جائوں کنوارے پن پے، کيا زمانہ تھا کون سي بات ياد کروں، کس کس کو ياد کرو، وہ ساون کي چھم چھم ميں کڑےنيم کے ٹہنے ميں چھولنا، جھولا آگے لپکتا ہےتو ٹھنڈي پھوار دھو ڈالتي ہے، جھولا پيچھا ہٹتا ہے، تو خوشبو ميں بسي ہوئي لٹيں چہرے کو پونچھ ڈالتي ہيں، آس پاس کا جھرمٹ بھيگي بھيگي ڈھولک کي ميٹھي ميٹھي آواز اور نوري کا نرس بھرا گيت۔۔۔
موہے ساون کي رم جھم بھائے رے۔۔
بھيا کے کانوں ميں سونے کي مرکي۔۔
پھول پہ تتلي آئے رے۔۔۔۔
موہے ساون کي رم جھم بھائے رے۔۔
اور پھر اسي شرير نوير کے کھلے آنگين ميں چرغے کي گھوں گھوں، گورے گورے ہاتھ پونياں تھامے اوپر ابھرتے ہيں، تکتے سے باريک تار لپٹتا ہے تو ايسا لگتا ہے جيسے تار پوني سے نہيں نکلا ، گوري کي ہتھيلي سے نکلا ہے، اور پھر عيد کے دن ملنگ سائيں کا ميلہ، وہ اتري ڈھيروں پر پروا کے جھونکوں ميں لچکتي ہوئي گھاس ۔۔۔۔۔وہ گونجتے ہوئے دن اور چپ چاپ راتيں اور يہ نئي زندگي جينا اجيرن ہو رہا تھا، ہاتھ پائوں ہلائوں تو بے حيا اور لاڈلي ٹہروں، اجنبي عورتوں کا ہجوم کوئي کھانستي ہے، کوئي چھينکتي ہے، کوئي پڑوسن کا گلہ کرتي ہے، کوئي ميرے لونگ کے کناروں کو بھدا بتاتي ہے، نہ ساون کي رم جھم کے گيت، نہ الف ليلہ کي کہانياں، نہ ہم سنوں کي چہيلں، اس سےتو يہي اچھا تھا کہ ماں باپ مجھے کسي کگر سے دکھا دے ديتے، يہ سانسوں کي ڈوري ٹوٹ جاتي، چين آجاتا ، کيسے مذاق کرتي تھي مجھ سے نوري، تو بياہي جائے گي، دلہن بنے گي مہندي رچائے گي، دودھ پئے گي، چوري کھائے گي اور نوري کو اپنے من سے نکال دے گي۔۔۔۔۔بے چاري بھولي نوري۔۔۔۔۔نادان سہيلي۔۔۔۔تجھے کيا معلوم بياہ کي رونق صرف دکھاوا ہے، پھوڑے کي طرح۔۔۔۔۔اوپر سے گلابي اندر سے پيپ بھرا۔۔۔۔۔اف۔۔۔۔
گوري گھبرا کر اٹھي بيٹھي، چوڑياں بجيں تو ساس اندر دوڑي آئي اس کے بعد ايک عورت۔۔۔۔دوسري عورت۔۔۔۔پھر تسيري عورت۔۔۔۔۔اور وہي دم گھونٹ دينے والي حرکتيں اور باتيں، گوري نے چاہا نادان بچوں کي طرح مچل جائے بلک بلک کر رونےلگے، بھاگ کر باہر آنگن ميں لوٹنے لگے، زيور اتار پھينکے کپڑوں کي دھجياں اڑادے اور آنکھوں پر دھول بھرے ہاتھ مل مل کر سسکياں بھرے اور کہے، ميں تو سب سے تھک گئي ہوں، تم الف ليلہ والي ديونياں ہو، تماہري کھانس کي ٹھن ٹھن تمہارے قہقہوں کي کرختگي بہت ڈرائوني بہت گھنائوني ہے، مجھے اکيلا چھوڑ دو ميں ناچنا اور گانا چاہتي ہوں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔تب گوري کے دل ميں خيال آيا نہ ہوئي نوري اس وقت ورنہ يوں زور ست گلےلگاتي اسے کم بخت کي پسلياں پٹاخے چھوڑنے لگتيں۔
وہ خدا جانے اور کيا سوچتي مگر ساس اور نائن اور دوسري کم بختين پھر وہي گھس پٹي باتيں کرنيں لگيں، جہيز کي کيا پوچھتي ہو بہن، سارا گھر دے ڈالا گوري کو، ايسے ايسے کپڑے کہ ديکھے ميلے ہوں، وہ وہ زيور کہ آنکھيں چندھيا جائيں، پلنگ کے پانے نہيں ديکھے تم نے؟ نيچے سے شنگرافي اور اوپر سے اتنے سفيد جيسے چاند اتر کر جڑ دئيے ہيں، اصل ميں ميرا بيٹا ہے ہي قسمت والا۔۔
اور نائن بولي کيا سجيلا گبرو ہے۔ آن نائي کہہ رہا ھے ميں کپڑے پہنانے دولہا کو گھر آئوں گا شانے پر ہاتھ پھيرا تو جيسے فولاد اور چہرے پر وہ نور کہ تارے بغليں جھانکيں۔۔۔۔ پر ميں ابھي ابھي اسے ڈيوڑھي ميں کھڑے ديکھا، اس زکام کا برا ہو، پھول سا چہرہ يوں ہو رہا تھا۔۔۔۔۔اور نائن نے اپني سفيد چادر کا پلو سب کے آگے پھيلا ديا۔
گوري کيلئے يہ موضوع بھي دلچسپي سے خالي تھا، نائين جھوٹ بولتي ہيں اکثر، پر وہ سجيلا ہے بھي تو کيا، حالت تو يہ ہے کہ چار پہر سے اس کے گھر ميں بيٹھي ہوں اور اس نے شکل تک نہيں دکھائي، وہيں ڈيوڑھي ميں پڑا چھينکتا ہے، بے ترس۔
بڑي دير کے بعد شام آئي، عورتيں چلي گئيں اور اس نے ہاتھ پائوں پھيلا کر بازو تانے، زيور سے لدے پھندے سر کو دھيرے سے جھٹکايا اور باہر ديکھا، اس کي ساس اور نائن سامنے کے کمرے سے باہر آتي تھيں اور اندر گھس جاتي مرجھائي ہوئي بانہوں ميں تانبے کے کنگن اور پتيل کي چوڑياں جيسے کھانس رہي تھي، جوتياں چپڑ چپڑ چيخ رہي تھيں اور وہ کل دار گڑيوں کي طرح مٹکتي پھر رہي تھيں۔
کچھ دير بعد گائوں والياں گيت گانے اور سننے آئيں تو ان کے ہمراہ نوري بھي آئي گوري کے قريب بيٹھ گئي اور اس کے کان ميں بولي آج تو بات تک نہيں کرتي بہن، اور پھر آنکھيں مٹکا کر گنگننے لگي۔
دلہن کا بولنا گناہ ہے اور پھر گوري تو ان اللہ واليوں کو ذکر بھي سن چکي تھي جنہوں نے ايک ايک ماہ چپ شاہ کا روزہ رکھا، اس لئے اس نے بولنا مناسب نہ سمجھا بس دھيرے سے نوري کے پہلو میں کہني جڑدي، اور نوري تڑپ کر بولي، لے کے کيلجہ ہلا ديا ميرا، کيوں نہ ہو، بياہ جو ہوگيا تيرا، ہو لينے دے ہمارا بياہ، تيرے گھر کے پاس سے گزريں گے تو ناک بھوں چڑھا کر آگے بڑھ جائيں گے غرور سے پلٹ کر ديکھيں گے بھي نہيں ، کر لے مان گھڑي کي بات ہے۔
گوري کي زبان ميں سوئياں سي چبھ گئيں، جب تک گيت گائے جاتے رہے وہ نوري کو اور نوري کے نقرئي بندوں کو ديکھتي رہي اور سوچتي رہي کہ ، کنوارے پنے کے ساتھي، بندے کيسے بھلے لگتے ہيں گلابي کانوں ميئں، اور ايک ميرے کان ہيں کہ کيڑوں ايسي پتلي پتلي باليوں سے پٹے پڑے ہيں، نوري سر ہلاتي ہے تو يہ بندے تاروں کي طرح ٹمٹاتے ہيں اور جب پلٹ کر ادھر ادھر ديکھتي ہے تو بندے انگوروں کا گچھا بن جاتے ہيں۔۔۔۔۔۔۔سوچتے سوچتے اس کا ماتھا دھوپ ميں پڑي ہوئي ٹھيکري کي مانند تب گيا اور جب سب ناچنے لگيں اور نوري نے ڈھولک کے ارد گرد گھوم کر ايک گايا۔۔۔
جاري سہيلي اب جا۔۔۔۔تو ہے پيا بلاوے۔
چاندي کي جھيلوں کے پار رے
سونے کے ٹیلوں کے پار رے
جاري سہيلي اب جا۔۔۔۔تو ہے پيا بلاوے
تو گوري نے ديوار سے سر ٹيک کر روکنا چاہا کہ ذرا جي ھلکا ہو جائے تو مگر آج تو آنکھوں ميں ہر چيز کي جگہ کاجل نے لے لي تھي، نہ نيند نہ آنسو بس کاجل ہي کاجل اچھا بياہ ہوا۔۔۔يہ بھي خوب رہي۔
جب سب چلي گئيں اور آنگن سونا ہوگيا تو دولہا کا باپ کھانستا ہوا آيا اور ايک طرف سے حقہ اٹھا کر چلتا بنا، نائن ہاتھ ملتي اٹھي اور بولي، آ ميري بچي ادھر پلنگ پر آجا، نيند آرہي ہوگي تجھے اور پھر گوري کي بغلوں ميں ہاتھ ڈال کر نائن نے اسے يوں کھينچا جيسے لاش کو اٹھا رہي ہے، گوري پائوں گھسٹي کمرے ميں آئي، رنگين پائے والے پلنگ پر دھم سے گري اور چھم سے ليٹ گئي، نائن بولي بيٹي زيور تو اتار لے، نتھ وتھ کہيں اٹک گئي تو مشکل بنے گي۔۔۔۔۔۔نہيں اٹکتي گوري بولي۔۔۔ميں خود اتار لوں گي۔۔
نائن نے آگے بڑھ کر پھر اس کي بغلوں ميں دونوں ہاتھ جما دئيے، نہيں نہيں بيٹي يہ برا شگون ہے، زيور اتارنے ہي پڑتے ہيں، ايک بار ايک دلہن نے تيري طرح۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ليکن نائن اپني کہاني شروع کرنے ہي پائي تھي کہ گوري زيور نوچنے لگي اور پھر فورا دھڑام سے پلنگ پر گر گئي، ٹين کے ڈبے ميں کنکر بج اٹھے نائن بولي يہ بھي خوب رہي نائن چلي گئي اور گوري دانت پيس کر رہ گئي۔
جيسے بہت سے تاگے آپس ميں الجھ جائيں تو انہيں سلجھانے کي کوشس اور الجھنيں پيدا کرديتي ہے بالکل يہي کيفيت تھي گوري کے ذہن کی، بياہ کا پہلا دن بس بن کر اس کے سينے پر سوار تھا، کہ اچانک چرغ سے دروازہ کھلا گوري چونک گئي، ارے۔
ميں سمجھتي تھي نائن جھوٹ بکتي ہے، اس نے گھونگھٹ کي شکنوں ميں سے کنکھيوں سے نودار کو ديکھتے ہوئے سوچا، يہ ميرا دولہا ہے يا لال بادشاہ۔
بھونچال سا آ گيا اس کي طبعيت ميں، چيختي ہوئي آندھيوں، کڑکتے ہوئے بادلوں ، لڑھکتي ہوئي چٹانوں اور ٹوٹے ہوئے ٹہنوں ميں لپٹا ہوا ذہن يہاں سے وہاں اچھلنے لگا سنبھل کر بيٹھنا چاہا تو پلنگ کے پائے تک کھسک گئے۔
دولھا مسکراتا رہا اور پھر پلنگ پر بيٹھ کر بولا اگر تم کچھ اور پرے کھسکتيں تو پلنگ سے گر جاتي۔
گوري خاموش رہي۔
دولھا نے اس کا ہاتھ پکڑ ليا اور بولا، سنا کچھ۔
اور يکايک آندھياں تھم گئيں اور بادلوں نے چپ سادھ لي، گوري کے جسم ميں جھرجھري سي دوڑ گئي، ذہن يوں صاف ہوگيا جيسے اس نے کڑکتي دھوپ ميں ليموں کا يخ شربت غٹ غٹ چڑھا ليا ہو، انگڑائي آئی تو با نہيں نہ تان سکي، بس اندر ہي چٹخ پٹخ کر رہ گئي اور پھر ہاتھ چھڑا کر ذرا پرے کھسکنے کي کوشش کرنے لگي۔
پلنگ سے گر جائو گي گوري۔ دولہا بولا۔
آپ کي بلا سے۔گوري نے جيسے اپنے ذہن کا سارا بوجھ اتار کر پرے جھٹک ديا۔
اگر تم گرگئيں تو تکليف مجھے ہوگي دولہا بولا۔
گوري شرما گئي اور بےتعلق سا سوال کر بيٹھي، زکام کا کيا حال ہے۔
سرک گيا ہے اس وقت، دولھا مسکرايا اور پھر خاموشي کے ايک طويل وقفے ميں گوري کي اٹھتي اور گرتي ہوئي نظروں سے بہت سي باتيں کرليں اور جب آنگن کے پرلے سرے پر اپنے ڈربے ميں ايک مرغي ککرائي تو دولھا نے کہا کوئي بات کرو گوري۔
تم ہي کوئي بات کرو، گوري پہلي مرتبہ مسکرادي۔
کيا بات کروں؟
کوئي کہاني وہاني سنائو، گوري جيسے اپنےآپ سے باتيں کرہي ہو۔
کہاني ۔۔۔۔۔۔۔۔۔کيي کہاني؟دولھا نے پوچھا۔
کوئي پريوں وريوں کي کہاني، گوري کھل کر بولنے کے باوجود سمٹی جا رہي تھي،۔
مجھے تو صرف لال بادشاہ اور سبز پري کي کہاني آتي ہے، دولھا مسکرايا۔
وہي سہي، گوري نے انگلي ميں سنہري انگوٹھي کو گھماتے ہوئے کہا۔
دولھا نے تکئے پر کہني ٹیک دي۔ تو پھر سنو، پر ذرا قريب ہوکر سننا۔۔۔۔۔۔يوں۔۔۔۔جہاں زمين ختم ہوجاتي ہے نا وہں ايک نگري ہے، جسے لوگ نيند کي نگري کہتے ہيں، اس نگري پر ايک بادشاہ راج کيا کرتا تھا، اسکا نام تھا لال بادشاہ بڑا خوبصورت، بڑا ہنس مکھ بہت بانکا، بہت سجيلا۔
تمہاري طرح، گوري کا بستر کي چادر پر انگلي پھرتے ہوئے يوں بولي جيسے کانسي کےکٹورے سے چھلا مس کر گيا ہو۔
دولھا ہنس ديا اور گوري کي لال لال پوروں کو اپني دودھ ايسي پوروں سے ٹٹول کر بولا تو کرنا خدا کيا ہوا گوري کہ ايک دن لال بادشاہ شکار کھيلنے ايک جنگل ميں جانکلا اور۔۔۔۔۔۔۔۔
ابھي کہاني نصف تک پہنچي تھي، ابھي لال بادشاہ نے سبز پري کا ہاتھ اپنے ہاتھ ميں ہي ليا تھا کہ دروازے کي جھريوں سے صبح کاذب جھانکي، دولھا چونک کر بولا، ارے صبح ہوگئي۔
نہيں شام ہوگي، گوري نہ بھولے سے کہا۔
اچھل کر دولھا نے دروازہ کھولا پلٹ کر مسکرايا اور باہر نکل گيا اور گوري نے اتني لمبي انگڑائي لي جيسے پورب سے انگڑائي ليتي ہوئي صبح کا منہ نوچ لے گي، تکئيے ميں سرجما کر کہنے لگي ہائے رے نوري بہن تو کتني ابھاگن ہے، پڑي ہوگي ٹوٹے کھٹولے پر گھگھڑي بن کر۔۔۔۔۔۔اور يہاں تيري گوري شنگرفي پايوں والے پلنگ پر۔۔۔۔۔مہندي کي خوشبو سے بسے ہوئے کمرے ميں ۔۔۔۔۔اپنے بانکے سجيلے دولھا سے۔۔۔۔۔اف، کتني سچي باتيں کہتي تھي تو؟
اس نے مسکرا کر دئيے کي پيلي روشني ميں اپني لال ہتھيلياں ديکھيں اور اپنے تپے ہوئے چہرے پر ہاتھ مل کر بولي، کاش اس وقت يہاں نوري ہوتي ۔۔۔۔۔۔يا کوئي آئينہ ہي ہوتا؟
احمد ندیم قاسمی
Friday, February 22, 2008
ٹوپی پہناؤ
ٹوپی پہناؤ
میں جب بھی اپنے گھر سے نکلتا ہوں فقیر محمد چوکیدار ہمیشہ نصیحت کرتا ہے
میں جب بھی اپنے گھر سے نکلتا ہوں فقیر محمد چوکیدار ہمیشہ نصیحت کرتا ہے کہ ?بھائی میاں ذرا سنبھل کر رہنا۔ یہاں ہر آدمی دوسرے کو ٹوپی پہنانے کے چکر میں ہے۔ آنکھ جھپکی نہیں اور ٹوپی فِٹ?۔شروع شروع میں مجھے فقیر محمد کی یہ بات زیادہ سمجھ میں نہیں آتی تھی لیکن اب میں ایک ہزار مثالیں دے سکتا ہوں۔مثلاً کل میں ایک مشہور ڈپارٹمنٹل سٹور سے چاکلیٹس خریدنے گیا۔ کاؤنٹر والے نے دو ڈبے پیک کرکے دے دئیے۔گھرآ کر دیکھا تو ایک ڈبے پر آخری تاریخِ استعمال لکھی ہوئی تھی فروری دوہزار پانچ اور یہ وہ ڈپارٹمنٹل سٹور ہے جہاں سے غیرملکی سفارتکار اور انکے اہلِ خانہ بھی خریداری کرتے ہیں۔اگر آپ ایک اسٹال کی جانب یہ دیکھ کر لپکیں کہ یہاں خالص جوس ملتا ہے تو رس والا آپ سے پوچھے بغیر گنے کے رس میں لیموں اور گاجر کے جوس میں کینو کا جوس ملا دے گا۔ اگر آپ حجت کریں تو جواب ملے گا بابوجی پی کر تو دیکھیں مزا نہ آئے تو پھر کہئیے گا۔آپ ایک شہر سے دوسرے شہر جانا چاہتے ہیں۔ بس ٹرمینس پر ہر کنڈیکٹر آپ کو بازو سے پکڑ کر خدا اور رسول کی قسمیں کھا کر یقین دلائے گا کہ دس منٹ میں بس چلنے والی ہے اور وہ آپ کو نان سٹاپ دو سے سوا دوگھنٹے میں منزلِ مقصود تک پہنچا دے گا۔لیکن آپ نے ٹکٹ خریدا نہیں اور کنڈیکٹر کا رویہ بدلا نہیں۔بابوجی ہم تو دس منٹ میں روانہ ہونا چاہ رہے تھے لیکن سواریاں بھی تو پوری کرنی ہیں۔اگر جلدی ہے تو کسی اور بس میں چلے جائیں۔لیکن آپ کو ٹکٹ کے صرف آدھے پیسے واپس ملیں گے یہ کمپنی کا اصول ہے۔نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ آپ جس بس میں اللہ رسول کی قسموں پر اعتبار کرکے بیٹھے تھے اس نے آپ کو سوا دو کے بجائے چار گھنٹے میں منزلِ مقصود تک پہنچایا۔
آپ سوچتے ہیں کہ لعنت بھیجو ان بسوں پر آئندہ طیارے سے سفر کریں گے۔ اچانک آپ کو پتہ چلتا ہے کہ پرواز ایک گھنٹہ تاخیر سے روانہ ہوگی۔ عملہ پوچھنے پر صرف یہ بتائے گا کہ ٹکنیکل وجوہات ہیں۔ یہ کبھی نہیں بتائے گا کہ ایک وی آئی پی کے انتظار میں تین سو مسافروں کو یرغمال بنایا جارہا ہے۔ اگر پرواز منسوخ ہوگئی ہے تو اسکی وجہ بھی ٹکنیکل ہوگی۔ کوئی نہیں بتائے گا کہ منسوخی کی وجہ یہ ہے کہ آدھی سیٹیں خالی تھیں۔آپ فلیٹ بک کرانے جائیں۔ ٹھیکیدار آپ کو یہ تو بتائے گا کہ ماہانہ اور سہہ ماہی اقساط کتنی ہیں اور اس فلیٹ کی چابیاں آپ کو ڈیڑھ برس میں مل جائیں گی لیکن یہ بات آپ کو خود معلوم کرنا پڑے گی کہ یہ زمین متنازعہ ہے اور اس کا معاملہ برسوں سے عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔اسی طرح آپ سیاسی میچ میں جس ٹیم کو حزبِ اختلاف سمجھ رہے ہیں ہو سکتا ہے کہ وہ حزبِ اختلاف ہو ہی نہیں اور جسے آپ حزبِ اقتدار سمجھ کر داد دے رہے ہیں وہ حزبِ اقتدار نہ ہو۔ہو سکتا ہے کہ یہ دونوں ٹیمیں تو محض ڈریسنگ روم میں طے ہونے والے قواعد کی پابندی کرتے ہوئے آپ کو بہلا رہی ہوں۔بقول فقیر محمد چوکیدار ٹوپی پہنائی جارہی ہے۔اور ٹوپی بھی سیاہ اور سفید نہیں بلکہ سلیٹی رنگ کی۔
میں جب بھی اپنے گھر سے نکلتا ہوں فقیر محمد چوکیدار ہمیشہ نصیحت کرتا ہے
میں جب بھی اپنے گھر سے نکلتا ہوں فقیر محمد چوکیدار ہمیشہ نصیحت کرتا ہے کہ ?بھائی میاں ذرا سنبھل کر رہنا۔ یہاں ہر آدمی دوسرے کو ٹوپی پہنانے کے چکر میں ہے۔ آنکھ جھپکی نہیں اور ٹوپی فِٹ?۔شروع شروع میں مجھے فقیر محمد کی یہ بات زیادہ سمجھ میں نہیں آتی تھی لیکن اب میں ایک ہزار مثالیں دے سکتا ہوں۔مثلاً کل میں ایک مشہور ڈپارٹمنٹل سٹور سے چاکلیٹس خریدنے گیا۔ کاؤنٹر والے نے دو ڈبے پیک کرکے دے دئیے۔گھرآ کر دیکھا تو ایک ڈبے پر آخری تاریخِ استعمال لکھی ہوئی تھی فروری دوہزار پانچ اور یہ وہ ڈپارٹمنٹل سٹور ہے جہاں سے غیرملکی سفارتکار اور انکے اہلِ خانہ بھی خریداری کرتے ہیں۔اگر آپ ایک اسٹال کی جانب یہ دیکھ کر لپکیں کہ یہاں خالص جوس ملتا ہے تو رس والا آپ سے پوچھے بغیر گنے کے رس میں لیموں اور گاجر کے جوس میں کینو کا جوس ملا دے گا۔ اگر آپ حجت کریں تو جواب ملے گا بابوجی پی کر تو دیکھیں مزا نہ آئے تو پھر کہئیے گا۔آپ ایک شہر سے دوسرے شہر جانا چاہتے ہیں۔ بس ٹرمینس پر ہر کنڈیکٹر آپ کو بازو سے پکڑ کر خدا اور رسول کی قسمیں کھا کر یقین دلائے گا کہ دس منٹ میں بس چلنے والی ہے اور وہ آپ کو نان سٹاپ دو سے سوا دوگھنٹے میں منزلِ مقصود تک پہنچا دے گا۔لیکن آپ نے ٹکٹ خریدا نہیں اور کنڈیکٹر کا رویہ بدلا نہیں۔بابوجی ہم تو دس منٹ میں روانہ ہونا چاہ رہے تھے لیکن سواریاں بھی تو پوری کرنی ہیں۔اگر جلدی ہے تو کسی اور بس میں چلے جائیں۔لیکن آپ کو ٹکٹ کے صرف آدھے پیسے واپس ملیں گے یہ کمپنی کا اصول ہے۔نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ آپ جس بس میں اللہ رسول کی قسموں پر اعتبار کرکے بیٹھے تھے اس نے آپ کو سوا دو کے بجائے چار گھنٹے میں منزلِ مقصود تک پہنچایا۔
آپ سوچتے ہیں کہ لعنت بھیجو ان بسوں پر آئندہ طیارے سے سفر کریں گے۔ اچانک آپ کو پتہ چلتا ہے کہ پرواز ایک گھنٹہ تاخیر سے روانہ ہوگی۔ عملہ پوچھنے پر صرف یہ بتائے گا کہ ٹکنیکل وجوہات ہیں۔ یہ کبھی نہیں بتائے گا کہ ایک وی آئی پی کے انتظار میں تین سو مسافروں کو یرغمال بنایا جارہا ہے۔ اگر پرواز منسوخ ہوگئی ہے تو اسکی وجہ بھی ٹکنیکل ہوگی۔ کوئی نہیں بتائے گا کہ منسوخی کی وجہ یہ ہے کہ آدھی سیٹیں خالی تھیں۔آپ فلیٹ بک کرانے جائیں۔ ٹھیکیدار آپ کو یہ تو بتائے گا کہ ماہانہ اور سہہ ماہی اقساط کتنی ہیں اور اس فلیٹ کی چابیاں آپ کو ڈیڑھ برس میں مل جائیں گی لیکن یہ بات آپ کو خود معلوم کرنا پڑے گی کہ یہ زمین متنازعہ ہے اور اس کا معاملہ برسوں سے عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔اسی طرح آپ سیاسی میچ میں جس ٹیم کو حزبِ اختلاف سمجھ رہے ہیں ہو سکتا ہے کہ وہ حزبِ اختلاف ہو ہی نہیں اور جسے آپ حزبِ اقتدار سمجھ کر داد دے رہے ہیں وہ حزبِ اقتدار نہ ہو۔ہو سکتا ہے کہ یہ دونوں ٹیمیں تو محض ڈریسنگ روم میں طے ہونے والے قواعد کی پابندی کرتے ہوئے آپ کو بہلا رہی ہوں۔بقول فقیر محمد چوکیدار ٹوپی پہنائی جارہی ہے۔اور ٹوپی بھی سیاہ اور سفید نہیں بلکہ سلیٹی رنگ کی۔
Subscribe to:
Posts (Atom)
