Thursday, October 16, 2008

جینے کی راہ

جینے کی راہ
ٹیلی فون ایکسچینج کی نئی عمارت بن رہی ہے، عورتوں اور مردوں کا حجم غفیر سروں پر ٹوکریاں اٹھائے ایک دوسرے کے پیچھے چپ چاپ چلتے ہوئے آئے جارہے ہیں، مصالحہ ملانے والی مشین کی آواز کام کی نگرانی کرنے والوں کی آوازوں اور باہر سڑک پر آتی جاتی گاڑیوں کے تیز ہارن مل کر بھی اس خاموشی کو توڑ نہیں سکتے جو مزدوروں کے چہروں پر گہری کھدائی ہوئی ہے ، وہ مسکرانا نہیں جانتے شاید جیسے قسمت کے مضبوط ہاتھوں نے انہیں ان دیکھی رسی سے باندھ رکھا ہو اور انہیں مسلسل حرکت دے رہے ہوں۔
میں باہر کی چار دیواری کے پاس بنے کیبن میں بیٹھا لگاتار سگریٹ پھونکتا رہتا ہوں یا جوان اور مزدور عورتوں کو خاموشی سے گھورتا رہتا ہوں، ان کی رنگین کپڑے جب پسینہ سے شرابور ہو کر جسموں سے چپک جاتے تو میرا دل تیزی سے دھڑکنے لگتا ہے، میں سلطانہ کے جسم کے زاویوں کو دیکھتا ہوں تو میرا سارا جسم لذت بھری خواہش سے اینٹھنے لگتا ہے، تب دوسری ساری آوازیں صرف ایک آواز میں ڈھل جاتی ہیں، سلطانہ کے کرتے کے دامن سے بندھے چھوٹے چھوٹے گھنگرون اور اس کے چڑکلے سے بندھی نھنی نھنی چاندی کی گھنٹیاں اس کے ہر اٹھتے قدم کے ساتھ مجھے ایسا لگتا ہے جیسے سلطانہ ہولے ہولے سسکاریاں بھر رہی ہو، اپنی قسمت کا ماتم کر رہی ہو، اس کا خوبصورت سانولا چہرہ گہری سرخی سے تب جاتا ہے، اس کے قدم ست پڑجاتے ہیں تو اس کا شوہر اسے ڈانٹنے ہوئے کہتا ہے، کیا موت پڑگئی ہے، جو تو یوں چلے ہے، بھگ بھگ نہیں تو یوں جوتیاں ماروں گا کہ یاد ہی کرے گی، سلطانہ کا چہرہ ایک دم راکھ ہوجاتا ہے۔اس کے قدم تیز ہوجاتے ہیں، نھنے نھنے گھنگرو چھنکتے ہیں اور میرا جی چاہتا ہے میں آگے بڑھ کر اس کو اپنے بازئوں میں سمیٹ لوں لیکن میں ایسا نہیں کرسکتا، اس کے شوہر کا مضبوط جسم اور اعتماد سے پر چہرہ ایک خوف بن کر میرے اندر سماجاتا ہے، میں سوچتا ہوں میں کسی نہ کسی روز سلطانہ کو لے کر اس دھوپ بھری دوپہروں اور اس کے شوہر کے قہر بھرے چہرے سے دور لے جائو گا، تب اس کا جوان خوبصورت وجود زیادہ اجلا ہو جائے گا، میرا قصور نہ جانے کہاں کہاں بھٹکنے لگتا ہے میں سوچتا ہو مجھے سلطانہ سے محبت ہے، لیکن میں اس سے محبت نہیں کرتا، بس خوف اور خواہش کے درمیان معلق میں تیزی سے سگریٹ کے کش کھنچتے ہوئے ایک بھڑکتا سا عاشانہ پنجابی گیت گنگنانے لگتا ہوں، ایسا گیت جس میں جسم کا ذکر ہے، جوانی کا ذکر ہے، اور یہ جسم سلطانہ کا جسم ہے، یہ جسم میرا جسم ہے، میرا انہاک چھوٹے سے بچے کی بھوک سے بلبلاتی چیخ سے ٹوٹتا ہے، خدا کی نا انصافیوں پر پہلا احتجاج۔
دوسری مزدور عورت رضیہ میرے کیبن کے پاس آکر رکتی ہے، اس کا کرتا بہے دودھ سے بھیگا ہوا ہے، اس کے کانوں کی بالیاں اور ناک کی لونگ پسینے اور گردن سے میلی ہورہی ہے، لیکن اس کے چہرے پر مامتا کی لپک نے اسے جاندار مجسمے میں ڈھال دیا ہے، میں گانا بند کردیتا اور سوچتا ہوں یہ بھیگا ہوا جسم بھی عورت کا ہے لیکن میں اس کے بارے میں کچھ بھی نہیں سوچ رہا اور منہ پھیر کر بیٹھ جاتا ہوں، میرا ذہن عورت کے اس روپ کو قبول نہیں کرتا، عورت تو صرف عورت ہے جس کے جسم کے کتنے زاوئیے مرد کو مدہوش کردیتے ہیں، اسکے اندر کا شیطان پوری طرح چوکس ہوجاتا ہے میں رضیہ کو دیکھ کر مسکراتا ہوں لیکن وہ اپنے بچے پر جھگی سے چوم رہی ہے اور پھر اسے میلے کپڑے پر لٹا کر واپس چلی جاتی ہے، اور مجھے ایسا لگتا ہے جیسے مجھے اس نے دھتکار دیا ہو میرے اندر کا مرد تلمانے لگتا ہے۔با اختیار اور خود پسند مرد، سورج آسمان پر سفر کرتا ہو مغرب کی طرف جھک گیا ہے نگرانی کرتے کارندے تھکن سے نڈھال عورتیں گھٹے ہوئے جمسوں والے جوان مرد میرے کیبن کے سامنے اکھٹے ہورہے ہیں، گرد آلود ہوا بجری کے ڈھیروں اور بگھری ہوئی ریت پر آہستہ آہستہ رنگ رہی ہے، اور عورتوں کے بدبو دار کپڑوں میں سے گزرتی ہوئی چاروں طرف گھوم رہی ہے، سلطانہ نے اپنے گہرے سیاہ دوپٹے کے پلو سے اپنا منہ پونچا ہے اور چپ چاپ اپنے شوہر کے پاس کھڑی اپنی مزدوری کی منتظر ہے، ٹھیکدار اپنی سیاہ ٹیوٹا گاڑی کو تیزی سے اندر لاتے ہوئے ایک دم روکتا ہے اور تیز تیز قدم رکھتا کیبن میں آکر ایک کرسی پر بیٹھ جاتا ہے، میں رجسٹر میں نام لکھتا جاتا ہوں اور بڑھے ہوئے ہاتھ پر نوٹ رکھتا جاتا ہوں، میں جانتا ہوں سلطانہ کا ہاتھ چاندی کی انگوٹھیوں کا بوجھ سنبھالے آہستہ سے آگے بڑھے گا اور پھر لیکن نہیں میں ایسا نہیں کرسکتا، ٹھیکدار مسکرا کر اس کا حال پوچھتا ہے وہ مسکراتی ہے لیکن خوفزدہ سی اپنے شوہر کو دیکھتی ہے، اور میرا جی چاہتا ہے کہ میں ٹھیکدار کو اٹھا کر باہر پھینک دوں لیکن میں ایسا نہیں کرسکتا، میں جو سارا دن اس چھوٹے سے کیبن میں پنکھے کے نیچے آرام سے بیٹھا رہتا ہوں، اتنا ہی بے بس ہوں، ٹھیکدار کے سامنے ہاتھ پھیلانے والا پڑھا لکھا مزدور۔۔۔۔۔میں نے سلطانہ کے ہاتھ میں روپے رکھتے ہوئے اسے آہستہ سے چھوا ہے اور میرے سارے جسم میں سنسنی سی دوڑ گئی ہے ، میرا سارا جسم ایک دفعہ پھر خواہش سے تب گیا ہے۔سڑک کی دوسری طرف چائے کی ایک دکان کے سامنے بچھی بے رنگ میز کرسیوں پر چند جوان لڑکے بیٹھے چائے پی رہے ہیں اور ننگی نظروں سے عورتوں کو گھور رہے ہیں، میں انہیں کچھ نہیں کہہ سکتا، چائے خانے کا مالک بھولا پہلوان بے داغ بوسکیکی قمیض شلوار پہنے، بالوں میں خوشبودار تیل لگائے سگریٹ سے گاڑھے دھوئیں کے مرغولے بناتے ہوئے ایک طرف بیٹھا لڑکوں کو ڈانٹ رہا ہے، اس کے جوان چہرے پر سنجیدگی اور ٹہرائو ہے، اپنا کام کرو، چائے کو دیکھو، غیر عورتوں کو گھورنا ہے تو آئندہ یہاں نہیں آنا، وہ بھی کسی کی ماں بہنیں ہیں سمجھے، اس نے تیزی سے سگریٹ کی راکھ چٹکی بجا کر زمین پر جھٹکا ہے، لڑکے مسکراکر چائے پینے لگے ہیں اور پھر چائے کی قیمت چکا کر اٹھ جاتے ہیں اور ان منے قدموں سے مڑ مڑ کر دیکھتے ہوئے آگے چل پڑتے ہیں، میں بھی ان کی طرح عورت کے وجود اور اس کے سحر سے آگاہ ہوں اور سلطانہ کا جسم، ہر چیز خریدی جاسکتی ہے، چائے کی پیالی، سگریٹ کا پیکٹ، عورت کا جسم اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ ساری مزدوری کرتی اور عورتیں بھی خریدی گئی ہیں، رضیہ کی قیمت پندرہ سو تھی، انوراں کے مضبوط بازو اس کے شوہر کو پورے دو ہزارے روپے میں پڑے تھے، ریزواں کے اونچے آگے کو بڑھے دانتوں کی وجہ سے اس کے باپ کو صرف آٹھ سو روپیہ ملا تھا، اور یہ سلطانہ اسے نواب نے پورے پانچ ہزار میں خریدا تھا۔نواب نے ایک روز میرے پاس بیٹھے ہوئے اپنے ہاتھ کی پانچویں انگلیوں کو پورا پھیلاتے ہوئے کہا تھا، بابو صاحب میں نے سلطانہ کو دن رات کی کمائی جمع کرکے پورے پنج ہجار میں کھریدا ہے جی، اب میں کیا اسے سر پر بٹھائو، میں نے تو اپنے پیسے پورے کرنے ہیں، مجدوری تو یہ کرے ہی کرے اور میں نے نواب کے پاس بیٹھی اس معصوم کو دیکھ جس کی آنکھیں ایک دم بجھ گئی تھیں، اور اس کا خوبصورت چہرہ اس کے گلابی کڑھے وہے کرتے اور نھنے گھنگرو و لگے دامن کے درمیان ایسے لگنے لگا تھا جیسے بجھی سگریٹ دھواں دینے لگی ہو، میں زور سے ہنسا اور بولا نواب مہنگی چیز کی تو حفاظت کی جاتی ہے، سنبھال کر رکھا جاتا ہے، اور تم اپنی اتنی مہنگی جورو کو راکھ میں ڈال دیا ہے، کیا تمہیں اس سے محبت نہیں، جی محبت تو مجھے سلطانہ سے ہے جی جبھی تو میں نے پورے دس سال کے بعد اس کے باپ کو بڑی منتوں کے بعد شادی پر راجی کیا تھا جی، وہ تو مانے ہی نہیں تھا، کہتا تھا میری سلطانہ بہت کھوبچھورت ہے، اس کے تو پورے دس ہجارے ہی لوں گا، نواب کا جوان چہرہ جھیلے ہوئے انتظار کے کرب سے سخت ہوگیا، وہ انتظار جو اس نے برسوں روپوں کی گنتی پورے ہونے کے انتظار میں اٹھایا ہوگا، اس کا دل لحظ لحظ اس کے انتظار میں بھیگا ہوگا، اور اب نواب سلطانہ سے اس ساری محبت اور تک ودو کی قمیت وصول کر رہا ہے، کیا یہ محبت تھی، یا انسانی فطرت کا تقاضا تھا، جسم کی سچائی ہی سب سے اونچی پکار بن جاتی ہے۔نواب نے سگریٹ کو بھجا کر جیب میں رکھا اور میری طرف دیکھ کر بولا، بابو صاحب تم جانو جندگی بڑی کھٹن ہوئے ہے، روپیہ پیہ ہی تو طاقت ہے، بیماری شماری میں عورت تو کام نہ آوے، پیشا کام آوے پیشا، اور پھر ہمارے باپ دادوں نے ایسا ہی ہوتا آوے ہے، قیمت تو چکانی ہی پڑے ہے، اور کیا مرد کوئی قیمت نہ ہووے، ہووے صاحب میرے جیسا جوان سلطانہ کو دکھے ہے کوئی دوسرا اس ساری ٹکڑی میں جانچو تو جرا، کوئی دکھے ہے میرا جیسا جتا وہ بڑے اعتماد سے مسکرایا، سلطانہ تو اپنے آپ کو بڑھا بھاگوان سمجھے ہے، بڑی کھٹن ہے، منے سنگ، کیوں ری تو تو بول اس نے سلطانہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا اور سلطانہ نے شرما کر سر جھکا لیا، میں جانتا ہوں میں جو بڑھیا سگریٹ پیتا ہوں اچھے کپڑے پہنتا ہوں، نواب اس کے سامنے اپنے آپ کو حقیر اور چھوٹا سمجھتا ہے، اس کے سارے جذبے سچے اور کھرے ہیں، اور میں میرا ہر احساس صرف جھوٹ میں لپٹا ہوا ہے، میں اپنے اندر کی سچائی کو اپنے سامنے عیاں کرنے سے بھی گھبراتا ہوں، میں ابھی صرف جسم کو پہنچانتا ہوں، لیکن اسے محبت کا رنگ دیتا ہوں، دھواں آسمان کی طرف اٹھتا ہے اپنے بازئوں پر بھروسہ ہی ان کا ایمان ہے شام کے آسمان پر چیلیں ظمانیت بھرے پر پھیلائے دائرے میں اڑ رہی ہیں طمانیت کہاں ہے، پیسے کمانے میں محبت کرنے میں یا محبت کی قیمت چکانے میں، میں نے سلطانہ کی طرف دیکھا ہے، وہ اپنی ساس کے پاس چپ چاپ بیٹھی اڑتی چیلوں کو دیکھ رہی ہے، اس کا چٹلا ساکت ہے، اس کے دامن کے گھنگروں بھی ساکت ہیں اور مجھے لگ رہا ہے جیسے سب کچھ تھم گیا ہو، رک گیا ہو۔میں جاتے جاتے رک جاتا ہوں کھٹی لسی میں پکائے گئے چاولوں کی ناورا بوسب طرف پھیلی ہوئی ہے، لیکن میں اس بوکو سونگھنے بغیر ایک اور بو سنگھنے کی کوشش کر رہا ہوں، جو سلطانہ کے جسم سے اٹھ رہی تھی عورتوں کے رنگین چھینٹ کے کپڑے متیالے ہوچکے ہیں، لاکھ کے سفید چوڑوں سے بھرے بوزو ناک میں پڑی ہوئی بڑی لونگین ، کلون میں لٹکے کنٹھے ان عورتوں کی ساری زندگی کی بس اتنی ہی تو قیمت ہے لیکن میں سلطانہ کیلئے اس سے کہیں زیادہ دے سکتا ہوں، میں سلطانہ کا سودا دل ہی دل میں طے کرلیتا ہوں، سونے کے زیورات، ریشمی کپڑے اور شاید کسی روز میں یہ سودا کرسکوں، شاید کبھی میں اس کو چھو سکوں، میں گیٹ سے باہر سڑک کے کنارے بھولا پہلوان کے چائے خانے پر جا کر بیٹھ جاتا ہوں شاید میں تھک گیا ہوں، معلوم نہیں تک ودو کی کون سی منزل ہے کوئی نہیں بتاتا، ہر ایک کو اپنی راہ خود ہی ڈھونڈنی پڑتی ہے۔کیوں بابو صاحب تھک گئے ہوکیا، اوئے چھوٹے ملائی والی چائے لانا گرم گرم، اور بھولا پہلوان میرے پاس آکر بیٹھ گیا، اس نے سگریٹ کا تیز کش لیتے ہوئے میرے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا ہے کچھ کہتا ہوا کچھ مانگتا ہوا ہاتھ میں اس کی طرف دیکھ رہا ہوں۔بابو صاحب یہ جوان سی چھوکری ہے نا جو ۔۔۔۔نئی نئی آئی ہے مزدوری کرنے کیا نام ہے سلطانہ۔۔۔۔ہان سلطانہ اس نے بڑی گڑ بڑ پھیلادی ہے جی چھو کرو میں، میں تو حرامیوں کو بیٹھنے ہی نہ دوں اڈے پر، پر کیا کروں دھندا ہی ایسا ہے، اس کیگھر والے کو کہیں کہ اسے کھلے عام نہ لئے پھرے، نہیں تو کسی سن کسی چھوکرے سے سنگ بھاگ جاوے گی، پہلوان کے لہجے میں فکر مندی تھی، کم بخت غریب ہوکر بھی اتنی نازک لگتی ہے، جیسے کانچ کی بنی ہوئی ہو، اللہ اپنی کاری گری کہاں ضائع کردیتا ہے، کیا ضرورت تھی اسے ایسا بنانے کی، لیکن میں نواب کو کیسے کہہ سکتا ہوں میرا اس کا کائی ناتہ تو ہے نہیں نہیں جی اونچ نچ تو سمجھانی پڑتی ہے، آپ ان کے انچارج جوہوئے اور میں سوچ رہا ہوں کہ سلطانہ نہ صرف مجھے نظر آتی ہے، دوسرے بھی اسے دیکھتے ہیں دوسرے بھی اسکی خوبصورتی سے مسحور ہیں، میں نے کہا پہلوان جی نواب اس کی قیمت جانتا ہے اس کی حفاظت کرے گا، یہ لوگ بار بار شادی نہیں کرسکتے ان کے پاس بیوی خریدنے کیلئے پیسے کہاں، میں سمجھائوں گا، اسے خوب بھی تو چھوکرا سا ہے، اور شہر کی ہوا عورتوں کو بہت جلد بدل دیتی ہے، مردوں کی نظرین دلوں میں اتر جاتی ہیں جی، وہ بہت جلد سمجھ جائے گی، کہ وہ کتنی خوبصورت ہے، پہلوان کی آنکھیں سوچ میں ڈوبی ہوئی تھیں، اور وہ گہرے کش کھینچ رہا تھا، میں نے پھر کہا پہلوان جی لڑکے کے ماں باپ بھی تو ساتھ ہیں، وہ کہاں جائے گی۔پر بابو صاحب آپ نے کبھی لڑکی کی آنکھوں میں جھانکا ہے، ہر روز مار کھانے والی عورت زیادہ دیر ایسے مرد کے پاس نہیں رہتی، کیا ہے اس کی آنکھوں میں میں تجسس سے بولا، کچھ تو ہے، جیسے وہ رو رہی ہو، اور پھر بغاوت بھری ہے جی، پر پہلوان جی آپ نیکیسے پڑھیں اس کی آنکھیں، میں ہنس کر بولا، بابو جی میں بازار میں بیٹھنے والا آدمی ہوں، راہ جاتی عورت کی چال دیکھ کر پہچان جاتا ہوں کہ کس قماش کی عورت ہے، چالو ہے یا گھر دار، پر نواب سے بہتر اسے کوئی اور کیا ملے گا، آپ بھولے شاہ ہیں، عورت جو کچھ چاہتی ہے، نواب کے پاس نہیں، سختی دلوں کو پتھر بنا دیتی ہے، اور ہ تو کانچ کی بنی لگتی ہے، اور نواب اس کی قیمت کیا جانے، اس کے لیئے تو وہ ایک ٹوکری ہے بوجھ ڈھونے والی۔میں پہلوان کے ذاتی تجربات کے بارے میں کچھ نہیں جاتا ، ہمارا اس کا چند ماہ سے ہی تو ساتھ ہوا ہے، میں اتنا جانتا ہوں وہ سڑک پر جاتی عورت کو گھورتا نہیں اور نہ دوسروں کو گھورنے دیتا ہے، غیر محسوس طور پر سب اس سے ڈرتے ہیں اور اس کی عزت کرتے ہیں، سلطانہ اور مرد سلطانہ اور اس کا شوہر، عورت کی قیمت چند ہزار روپے، نقلی زیور، بے باک نظرین، شاید ہم سب کو اس کا بکائوں مال سمجھتے ہیں، اسے خریدنا چاہتے ہیں، شاید نواب اپنی چیز کی قیمت سے پوری طرح واقف ہے اس کی حفاظت کرنا جانتا ہے، عمارت بلند ہو رہی ہے، اور ساتھ ہی میرے دل میں سلطانہ کا خیال، میں اسکے وجود سے ہر لمحہ آگاہ رہتا ہوں، اس لئے اس کے اندر آئی تبدلیاں مجھے سب سے زیادہ نظر آتی ہیں۔وہ سب ہمیشہ کی طرح چپ چاپ کام کئے جاتے ہیں، لیکن مجھے لگتا ہے جیسے آوازوں کا شور اٹھ رہا ہو اور ان آزوازوں میں سلطانہ کی بولتی آنکھوں کی آواز سب سے بلند ہو، اب وہ اپنی مزدوری لینے کیلئے جب ہاتھ بڑھاتی ہے تو ماتھے تک کھنچے ہوئے گھونگھٹ میں ان کی آنکھیں مسکرانے لگتی ہیں، نواب اسے جھڑکتے ہوئے کہتا ہے، توہٹے گی یا میں لات دوں، میں نے دیکھا ہے، کہ نواب بھی اس کے اندر آتی جاتی تبدیلی سے آگاہ ہے، وہ اسے اب بات بے بات مارنے لگتا ہے، اس کی ساس بھی اسے پیٹتی رہتی ہے، لوکل مزدور کام کے بعد بڑے اہتمام سے نہاتے ہیں، تیل لگاکر بال بناتے ہیں، اور آہنس میں دور بیٹھے مذاق کرتے رہتے ہیں، بوڑھے رحیم نے جب اپنے بالوں کو بڑے اہتما سے خضاب سے رنگا تو سب جواب چھوکروں نے اس کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کیوں رحیم بابا نئی شادی کرنے لگے ہو۔میں ابھی بھی تم چار پر بھاری ہوں، سلطانہ منہ پر پلو رکھے آہستہ آہستہ ہنستی رہیتی اور رحیم بابا اپنی داڑھی اور بالون پر بار بار ہاتھ پھیرتا اسے دیکھتا رہتا ہے، اب جب نواب بھولا پہلوان کے چائے خانے پر جات اے تو وہ بھی جا کر کھڑی ہوجاتی ہے، بھولا اسے بھی ملائی والی چائے پلاتا ہے، اور مس جانتا ہوں ایک نا ایک دن کچھ ایسا ہوگا، جو نواب کے حق میں اچھا نہ ہوگا، اب نواب اسے پہلے سے بھی زیادہ مارتا ہے، وہ ہجری پر چادر لے کر لیٹ جاتی اور پھر کبھی کبھی چادر کا کونہ مجھے دیکھ کر مسکراتی ہے، میں جواب میں سکرا نہیں سکتا، وہ بہت سارے اور میں اکیلا، لیکن میں بے مقصد ہی وہاں رکا ہوا ہوں، میں سلطانہ کو ٹھیکیدار کے جوان بیٹے کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں، لیکن اتنے مزدوروں کے ہجوم میں اس سے بات نہیں کرسکتا، میں سلطانہ کے بارے میں فکر مند ہوں اسے مزدوروں کی نظروں سے بچانا چاہتا ہوں، اس روز سلطانہ میرے کیبن میں اکیلی آئی تھی، اور اس نے اپنی بڑی بڑی بھوری بھوری آنکھوں کو کھولتے ہوئے کہا تھا، ایک بات کرو صاحب، کیا تم میری مجدوریبڑھا نہیں سکتے، میں نئے کپڑے بنائو گی، اور اس نے اپنی پھٹا کرتا مجھے دکھایا، میں ہنسا، شاید سلطانہ میری نظروں کے پیغام کو جان گئی ہو، میں کہا، نواب کو کیوں نہیں کہتی ہو، وہ ایک دم چپ ہوگئی، اس کی آنکھیں کسی دکھ سے بھیگ گئی تھیں، وہ بولی نواب تو بس روپے جمع کرے ہے، اسے میرا ننگا بدن نجر نہیں آوے ہے، کیا میں بنادوں تجھے نئے کپڑے ، میں اس کے سامنے کھڑے ہوکر بولا وہ ایک دم کھڑی ہوگئی، ناں جی، کپڑے تو میں اپنی مجدوری سے ہی بنائوگی، بس تم میری مجدوری بڑھا دوں، پر نواب کو نہ بتانا، اور وہ جلد ہی باہر چلی گئی اور مسکرانے لگا، بھولا پہلوان نے ہی تو کہا تھا، شہر عورت کو بڑی جلدی بدل دیتا ہے، باہر موسم کی پہلی بارش ہو رہی تھی، سیاہ بالوں کے پرے سے پرے آسمان کے کناروں سے اٹھ کر چاروں طرف پھیل گئے تھے، میں کیبن کے دروازے پر کھڑا گہرے بادلوں کو ایک دوسرے میں مد غم ہوتے دیکھ رہا تھا، اور سلطانہ کا جسم میرے تصور میں چھایا ہوا تھا، وہ عمارت کے بر آمدے میں کھڑی اداس نظروں سے انہیں دیکھ رہی تھی اور پھر شاید وہ رونے لگے، اس کے آنسو کے رخساروں کو بگھورے تھے، دکھ بھرے آنسو۔اس کا سنہری بدن کڑکتے بادل، آنسوئوں سے بھیگے گال اور پھٹا کرتا، انسان چھوٹی چھوٹی خواہشوں کی تکمیل کیلئے کوشان کتنا بے بس معلوم نہیں رات کا ساتھ مرد عورت کو رہنی طور پر قریب لاتا ہے، کتنا دو کرتا ہے، اور کیا رات کا ساتھ ہی سب سے بڑی سچائی ہے میں سوچ رہا تھا، سوچ جو مثبت نہیں تھی، سلطانہ بدل رہی ہے، میں جانتا ہوں لیکن اس کا اور میرا فاصلہ بدستور قائم ہے، میں ہمیشہ کا ڈر پوک آدمی ہوں، عزت جانے کا ڈر، نوکری جانے کا ڈر، سلطانہ نے بہت کچھ سیکھ لیا ہے، اس کے چہرے پر غرور اور اعتماد نے اسے عمر سے بڑا بنادیا ہے، اب وہ جس سے جی چاہتا، باتیں کرنے لگتی ہے، بھولے کی دکان پر جارک چائے پیتی ہے، نواب سے مار کھا کر بھی زیادہ نہیں راتی، ساس اور سسر سے نہیں ڈرتی، بھول ٹھیک کہتا تھا کہ اس کی آنکھوں میں بغاوت بھری ہوئی ہے، شہری عورتوں نے غیر محسوس طور پر اسے بدل دیا ہے، ایک روز میں نے موقع پاکر سلطانہ کبھی مجھے بھی خدمت کا موقع دو، وہ زور سے ہنسی اور بولی ایسی ہی بات ہے ٹھیکدار کے بیٹے نے بھی کہی تھی ایسا لگے ہے جیسے یہاں کے سارے میرے ہی عسح مس گلتاں ہیں، کسی کو کوئی ور کام نہیں ہووے، ہے نا مجے کی بات، سچ بڑا مجا آوے ہے، جب نواب دیکھ کر جلے ہے، دیکھو وہ کھڑا گھورے ہے، بے چارا نواب، اور زور زور سے ہنسنے لگی، میں اس کی بے باکی پر حیران تھا، میں کہا، سلطانہ کیا تجھے نواب سے ڈر نہیں لگتا، جان سے مار ڈالے گا تجھے۔وہ بولی ڈروں ہوں، جرور ڈرو ہوں لیکن اتنا جانوں اور مجھے جان سے نہیں مارے گا، اس کا نخنشان کون پورا کے گا، ما ہی کروں گی نا، پھر میرے مرنے کا سے پھائدہ، وہ اپنی جرورت کیلئے مجھے جندہ رہنے دے گا، جرور جندہ رہنے دیگا، اور رہ بڑی لا پرواہی سے آگے چل دی۔وہ ان ساری زیادتیوں کا بدلہ لے رہی تھی، لیکن وہ یہ نہیں جانتی کہ نقصان صرف عورت کا ہی ہوتا ہے، گھاٹے میں صرف اس کی ذات رہتی ہے مجھے اس کی بیبا کی اچھی نہیں لگتی جیسے اس نے اپنی روح کی معصومیت کو بے مول بیچ دیا ہو، میں تو اس سلطانہ سے محبت کرنے لگا تھا جو نواب کی مارکھا کر بھی سہی رہتی تھی، ساس کی جھڑکیاں کھا کر بھی سر جھکا لیتی تھی، اس دن ڈھیکڈار کے بیٹے نے بڑی رازداری سے کہا کیا کسی طرح یہ سلطانہ ہاتھ نہیں لگ سکتی، ور میرا جی چاہا میں آگے بڑھ کر اس کا گلا دبا دوں، لیکن سلطانہ کولر کا پانی لینے کیلئے خود ہی آگئی، ٹھیکیدار، کے بیٹے کی نظروں میں ننگی بھوک تھی وہ بولا، آئو سلطانہ تمہیں اپنی گاڑی میں سیر کروا لائوں۔۔۔چلو گی میرے ساتھ، وہ گھبرائی نہیں، بس چل چاپ سے دیکھنے لگی اور بولی، صاحب میرا مرد جندہ ہے مرا نہیں ہے، اور اس جیسا کوئی ہوتو جانو اور چلی گی، شاید وہ سب کچھ جو میں دیکھتا رہتا ہو، محض نواب کو جلانے کیلئے ہو، ٹھیکدار کا بیٹا عورت خریدنی جانتا ہے عورت جیتنا نہیں وہ تلمتا ہوا چلا گیا، اور پھر کبھی نہیں آیا، سلطانہ اپنے آپ کو بیچنا نہیں چاہتی تھی، اس روز جانے کیا بات ہوئی کہ نواب نے اسے چٹیا سے گھسیٹا اور چلا کر پیٹنا شروع کردیام حرا مجاری گیر مردوں کے سنگ مجاخ کرے ہے، میں تیرے سب لچھن سمجھوں ہوں، میں نے پنج ہجار اس لئے تو نہیں بس بھرے تھے کہ دوسروں کے سنگ موج مناوے، سلطانہ کی ساس بھی چلا چلا کر الزام لگا رہی تھی، گندی گندی گالیاں بک رہی تھی، سلطانہ زور زور سے رونے لگی، ہاںہان میں دوسروں کے سنگ موج منائون ہوں میں نہیں رہتی تیرے سنگ، جالم مرد، دیکھ لینا ایک دن جرور بھاگ جائوگی، تو دیکھتا رہ جاوے گا، سب نے کام روک دیا اور ان کی لڑائی دیکھنے لگے، اس کا باپ روک رہ تھا، لیکن وہ جنونی طورت پر سلطانہ کو مار رہا تھا، میں تجھے جان سے ہی مار ڈالوں گا۔
بھولا پہلوان بھاگتا ہوا آیا، اس نے نواب کے دونوں بازوں سے تھام لیا اور چلایا، ہوش کر نواب مرجائے گی، تو کون ہے روکنے والا، اس کا باپ بوالا، میں ہوں، میں ہوں تمہاری بیویں کا یار، سور کی اولاد، بے بس عورت پرظلم کرتے ہیں، اور شرمندہ بھی نہیں ہوتے، عورت کو خریدتے ہیں، بے غریب اور پھر اس ظلم کرتے ہیں جیسے وہ کوئی جانور ہو، سلطانہ کھلی آنکھوں سے بھولا پہلوان کو دیکھ رہی تھی، اس کیبال بکھرے ہوئے تھے پتہ نہیں بھولا نے نواب کے بازو چھوڑ دئیے اور بڑ بڑاتا ہوا واپس چلا گیا، کام دوبارہ شروع ہوگیا، سلطانہ کی سسکیاں کبھی کبھار گونجتیں اور تھم جاتیں، سب مزدور چپ چاپ کام کررہے تھے، جیسے وہ احتجاج کرہے ہوں۔میں وہاں کھڑا گہری اداسی میں ڈوب گیا جیسے یہ ساری عورتین آہوں کی زنجیر میں بندھی مسلسل منزل کی تلاش میں ہوں، زندگی کی تلاش میں ہوں، اور مرد ہاتھوں میں کوڑے لئے انہیں آگے کو دکھیل رہے ہوں ان کی برہنہ پشتوں پر ماررہے ہیں، سلطانہ کی بھیگی آنکھیں سارے ماحول کو تسکین زدہ کر رہی تھی ، یہ ٹوکری اٹھائے مزدوری کرتی خوبصورت لڑکی ہماری زندگیوں کے خانے میں کہیں بھی فٹ نہیں ہوسکتی، میں جانتا ہوں ، اس کے جسم کے تو قیمت دی جاسکتی ہے لیکن اس ان کی روح میں کوئی بھی جھانکنا پسند نہیں کرے گا، وہ ہمیشہ تنہا رہے گی، ہمیشہ زندگی کی تلاش میں سر گرداں۔روز کی طرح شام کا سورج ڈوب رہا تھا، شروع شروع سردیوں کی ٹھنڈی ہوا آہستہ آہستہ کپکپارہی ہے، زمین سے اٹھیتی دھوک بھی شامل ہو کر اسے بوجھل بنارہی ہے، میں نے سر اٹھا کر دیکھا، دور کھڑا ٹھیکیدار سلطانہ کو دیکھ رہا تھا، سورج کی کوئی آخری شعاع کسی بے درد دھڑکی سے اندر آئی آئی ہوئی سلطانہ کے سراپے کو جلا رہی ہے، اور وہ یادوں میں ڈوبی اداس کھڑی ہے، یادیں جس میں اس کا گزرا بچپن ہوگا، ماں باپ کی ملائم شفقت ہوگی، مستقبل کی خوابناک جھلکیاں ہوگی، اس عذاب سے بچنے کیلئے دل کو کوئی راہ نہیں سوچھتی، پتہ نہیں سلطانہ بھی اس درد کو سہانے کی کوشش کرہی ہو، ٹھیکیدار بغیر مقصد کے کھڑا ہے، میں جانتا ہوں وہ بھی میری طرح مایوس ہوکر چلا چائے گا۔نومبر کا سورج دھند آلود فضا میں آہستہ آہستہ اوپر اٹھا رہا تھا کام شروع ہونے والا ہے، مزدور آہستہ آہستہ آکر عمارت کے پاس جمع ہورہے ہیں، سلطانہ اب پہلے سے بھی زیادہ خوبصورت لگتی تھی، سلطانہ کے چہرے پر کھنڈرا پن ہے، بھولا پہلوان آج پہلی بار آکر سلطانہ سے بات کر رہا ہے، میں نے کہا کیوں پہلوان جی کیا ڈھونڈ رہے ہوں، کیا گم ہوگیا ہے، ہو بولا گم تو نہ جانے کیا کیا ہوجاتا ہے، میں تو صرف اپنی گم پیالیاں دھونڈ رہا ہوں، شاید نواب لے آیا ہوں، اس نے سلطانہ پر ایک اچٹتی نظرڈالی سلطانہ، سلطانہ نے جلدی سے سر جھکا لیا، اور برتن اٹھا کر کھڑی ہوگئی۔بھولا پہلوان بے دھیانی سے ادھر ادھر دیکھ رہا تھا، اور پھر چلا گیا ہے، لگتا ہے الفاظ اس کے لبوں میں قید ہوگئے، میں نے کہا سلطانہ کیا نواب کی مار سے تمہیں ڈر نہیں لگتا، وہ کندھے اچکاتے ہوئے بولی مار مار، جب مرد کے پاس پیار نہیں ہوتا تو وہ مارے سے کام چلاوے ہے، اور جندگی صرف مار کھا کر تو نہیں گجرتی، میں تو اس مار سے تنگ آگئی ہو، پھر اسنے تالاب کے کنارے سے اپنے برتنوں کو اٹھایا اور چولہے کے پاس رکھنے کو چل پڑی اب نواب سلطانہ کو پہلے کی نسبت کم مارتا تھا، میں جانتا تھا، پہلوان اپنی دکان پر بیٹھا سلطانہ کو دیکھتا رہتا تھا، اسکے چہرے پر عجیب سی ملائمت آگئی ہے، وہ اپنے گاہکجوں کے ساتھ بڑی نرمی سے بولتا ہے نواب سلطانہ کی تیز نظروں سے کائف ہو کر دوسری طرف رخ موڑ لیتا ہے، اور بڑ بڑ انے لگتا ہے ، مجھے لگتا ہے جیے سلطانہ کے چہرے پر استہزا آمیز مسکراہٹ کھد گئی ہے، وہ میرا نواب کا، اپنی ساس کا مذاق اڑاتی ہوئی لگتی ہے، اس کس طاقت نے خود سر بنادیا ہے، یا پھر وہ بے حسی کے اس درجے میں داخل ہوگئی ہے جہاں سب کچھ بے وقت اور سہارے کے قابل لگتا ہے داکا دروازہ سب پر بند ہوجاتا ہے۔اس روز جب میں ہمیشہ کی طرح داخل ہوا تھا تو نواب کے سارے رشتہ دار فکر مند چہروں کے ساتھ ایک جگہ جمع تھے کام کا وقت ہوگیا تھا۔
میں نے کہا کیا بات ہے کام شروع کیوں نہیں ہوا، تو خیرو نے کہا، آج ہم دھاڑی نہیں لگائیں گے، ہمار گیر ہاجری لگادومں، میں جانتا تھا کہ کوئی بہت بڑی بات ہی انہیں مزدوری سے روک سکتی تھی، عورتیں گھونگھٹ نکالے الگ کھڑی باتیں کر رہی ہیں، ان میں سلطانہ نہیں تھی، میں گھبرا کر پہلوان کی دکان کی طرف دیکھا وہ چائے بنا رہا تھا، اور ایک دو گاہک بیٹھے چائے پی رہے تھے، کیا بات ہے؟ میں غصے سے بولا۔بات کیا ہووے ہے صاحب یہ سطلانہ ہرام جادی رات کو نہ جانے کون سے عاشخ سے مل کر آوے ہے، میں تو تھکا ہارا سو جائوں ہوں اور یہ موجاں مناوے ہے، مار مار تھک گیا یہ منہ سے بولے ہی نہیں ہے، نواب زمین پر بیٹھ کر رونے لگا، بے بسی سے میں پہلی بار اسے روتا دیکھ رہا تھا، مجھے لگا جیسے نواب کا خوبصورت وجود ایک دم بہت سکو گیا ہو، اس کی طاقت کا گمان سلطانہ نے توڑ دیا تھا، سلطانہ جو خرید ہوئی عورت تھی، صاحب میرے تو پنج ہجار مپھت میں جایاویں ہیں، ہاں ہاں پہنج ہجار جایا جاویں ہیں، میں اپنے آپ کو بیچون ہی کویں نا، سلطانہ اس کے سامنے کھڑی غصے سے چلا رہی تھی اس کا چہرہ چوٹوں سے سوجا ہوا تھا، اس کے پھٹے کرتے سے اس کا جسم نظر آرہا تھا، اس کی آواز میں اس کی مجروح ان کی چیح تھی، تو پنج ہجار کو کیا جانے، توتو پنج لاکھ کماسکتی ہو، تیرے عاشخ جو دیویں ہیں تجھے، نواب شیر کی طرح دھاڑا اور اسے مارنے لگا۔لائو میرے بنج ہجار، جائو جہاں مر جی جائو، لائو میرے بنج ہجار، سلطانہ وہی زمین پر بیٹھی بین ڈالنے لگی، میں اس کے پاس جا کر اسے تسلی دینا چاہتا تھا، میں نے کہا سلطانہ تمہیں ایسا نہیں کرنا چاہئیے تھا، قبیلے والے عزت دار آدمی ہیں، کای تم محبت دار نہیں ہو، تم اپنی جورو بیٹی سے کام کیوں نہیں کرواتے، کیوں انہیں گھر کی چار دیواری میں سنبھال کر رکھ ہو، اس لئے تاکہ وہ تمہاری محبت دیکھ رہی تھی، جیسے اس کے اندر سے سارے دکھ سکھ کے جذبات بنجر ہوگئے ہوں۔کہاں سے دوگی پانچ ہزار نواب کو، جانتی ہوں پانچ ہزار جمع کرنا کتان مشکل ہے، میں کچھ کہتے کہتے رک گیا، نواب نے بھی تو کھریدا ہے نام مجھے اب میں اپنے کو اپنی مرجی سے بچوں گی، اپنی مرجی گا گاہک کے پاس، اور اس کی چیخیں ایک دم بلند ہوگئیں، احتجاج کرتی ہوئیں، وہ اپنی زندگی میں آئی ساری محرومیوں کا ماتم کرتی تھی، شاید اور وہ سارے خاموش اسے دیکھ رہے تھے، خوفزدہ لیکن بھپرے ہوئے، پہلوان کی دکان کے تھڑے پر کھڑا اس سارے تماشے کو دیکھ رہا تھا، وہ پہلے کی طرح اندر نہیں آیا، لیکن تیزی سے سگریٹ کے کش لگاتے ہوئے اور گاڑھے دھوئیں کو باہر نکالتے ہوئے وہ بہت چین لگ رہا تھا، میں اس کے پاس چلا گیا اور کہا، پہلوان جی نہ جانے کون سا بانکا سلطنہ کا دل جیت کر لے گیا ہے، کچھ جانتے ہیں آپ؟ سلطانہ سے جاکر پوچھو مجھ سے کیا پوچھتے ہو، سالا مارتا ہے اور سوچتا ہے کہ وہ اس سے ہمیشہ محبت کرتی رہے گی، صاحب عورت کا دل کانچ کا ہوتا ہے، مارو گے تو ضرور ٹوٹے گا اور وہ تیز تیز بازار میں مڑ گیا، پہلوان کی دکان کا چولہا ٹھنڈا تھا۔کام ہمیشہ کی طرح ہو رہا تھا، مزدور سڑک کے کنارے روڑی ڈھیرے پر بیٹھے روڑی کوٹ رہے ہیں اور آپس میں فحش مذاق کررہے ہیں، خواہش، خریدی گئی عورتیں، سروں پر اٹھایا، دنیا کی تماشا گاہ میں انسانی بازی گر کی طرح زندگی کے تنے رسے سے پھر چلنے کی کوشش میں گر گر پڑتاہے ، نواب سلطانہ میں پہلوان اور دنیا کے سارے انسان لیکن پھر بھی چلنے پر مجبور ہیں۔میں نے جاتے جاتے سلطانہ کو مڑ کر دیکھا ہے، نواب سلطانہ کے پاس بیٹھا روٹی کھا رہا ہے، صبح کی ساری بات ایک تماشا لگتا ہے، میں مسکراتا ہوں، سوچ کے کتنے انداز ہیں، سردیوں کا چاند عمارت کی بلندی پر جھکا نیچے جھانک رہا ہے، چولہوں سے اٹھتا دھواں دھند میں شامل ہوا کر اسے بھی گہرا کر رہا ہے، دھند میں لپٹے انسان کی کوشش، اور چاند اکیلئے مسافر کی طرف اداس چہرہ لئے دھند کے ہلکے ہلکے بادلوں میں محو سفر، راہیں ہی راہیں، منزل کے بغیر۔سلطانہ بھاگ گئی، گیٹ میں داخل ہوتے ہی ایک مزدور بھاگا ہوا آیا، میں نے مڑ کر پہلوان کی دکان دیکھی وہ بند تھی، پتہ نہیں کس کے ساتھ، وہ نواب کیلئے پانچ ہزار چھوڑ گئی ہے جی، پورے پانچ ہزار بڑی خراب تھی جی وہ تو ہم نواب کا لحاظ کرتے رہے نہیں تو ہم بھی پیسے دے سکتے تھے، پتہ نہیں کون سالا بھگالے گیا سالی کو، وہ زور سے ہنسا چپ کر بند کرو یہ بکواس میں چلایا اور مجھے لگا میرے جسم سے کوئی چیز ہولے ہولے زمین میں اتر رہی ہو، سلطانہ کے رشتہ دار سب چپ چاپ دائرے میں بیٹھے باری باری حقے کی نوک کو تھامتے ہوئے حقہ پی رہے تھے نواب ہاتھ میں پانچ ہزار روپوں کی گھتی تھامے انہیں بار بار غور سے دیکھ رہا تھا، اور سلطانہ کی ساس اپنے نومولود بچے کو دودھ پلاتے ہوئے بول رہی تھی، اگر کوئی جنا ہوتا تو وہ یوں نہ بھاگتی، مائوں میں جنجیر جو ہوتی، اور یہ بناب بھی تو دان رات مارتا تھا، سوچے تھا عورت ناس جنور ہے، جنور گائی بھی سوٹی کاھنے پر رسہ تڑانے ہے وہ تو آخر جنانی تھی جلم کے ساتھ کب تک نبھاتی، جیادہ نخشان نہیں ہوا ماں، اب میں کوئی ہجار دو ہجار والی عورت بیاہ لوں گا، تین ہجار پھر بھی منافع ہو نا اماں، اور وہ بڑے اطمینان سے روپوں کو اپنے صافے کے پلوں میں باندھ کر اور اماں کو دیتے ہوئے بولا، پنج ہزار کو جمع کرتے کرتے میں تو اپنی آدھی جوانی بتادیتا، لیکن سلطانہ ایک ہی بلے میں مجھے امیر بناگئی اور وہ ہنسنے لگا، مجھے لگا جیسے وہاں پر بیٹھے سارے مرد خوفناک غفریت ہوں، جو عورتوں کو منہ میں پکڑے انہیں بھنھبور کر کھا رہے ہوں، باقی صرف نواب کو دیکھنے لگے اور پھر ایک ایک کرکے عمارت کی طرف بڑھ گئے، عورتوں نے اپنے بچوں کو چار پائیوں پر لٹا دیا، اور مردوں کے پیچھے چل پڑیں۔میں کھڑا سوچ رہا تھا کہ کیا سلطانہ ایک حقیقت تھی یا سایہ، کیا اس کے دامن کے نھنے گھنگرو کی آوازیں میں نے کبھی سن تھی یا میرا تصور ہی تھا، میرا دل بوجھ گلے دبا جارہا ہے،معلوم نہیں یہ بوجھ سلطانہ کی کھوجانے کا ہے یا اپنی محرومی کا، اور کیا سلطانہ جینے کی راہ کی کھوج لگانے نکلی ہے اور کیا، راہ سے مل جائے گی، بھولا پہلوان کی دکان بند ہے اور ایک کتیا اپنے بچوں کو لئے ٹھنڈے چولہے کی راکھ میں بڑے اطیمنان سے بیٹھی ہر آہٹ پر اپنی آنکھیں کھولتی اور پھر بند کرلیتی ہے

No comments: